Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

اداریہ : پی ڈی ایم تحریک، استعفے اور نواز شریف کی واپسی

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

پی ڈی ایم تحریک نے یقینا ،لکی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ اس پلیٹ فارم سے حکومت وقت کو سخت مذاحمت کا سامنا ہے۔ متحدہ اپوزیشن نے حکومتی کورکردگی اور ملک کو درپیش مسائل سے عوام کو اس پلیٹ فارم سے آگاہی دی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ انتخابی عمل اور نتائج کے حوالے سے بھی اپنے دیرینہ تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ متحدہ اپوزیشن کے مطابق یہ حکومت نا اہل ہے ان حکمرانوں سے ملک نہیں چل رہا ۔ اڑھائی سالہ کارکرگی میں سوائے سیاسی انتقام کے کچھ بھی نہیں ہے۔ عوام کو غربت اور مہناگئی کی دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے۔ معیشت تباہی کے دھانے پر کھڑی ہے۔ سرکار اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں عوام کو الجا کر سب اچھا کی رپورٹ دے رہی ہے جبکہ زمینی حقائق اس کے بر عکس ہیں۔ بے روزگاری کی شرح میں دن بدن ہوش ربا اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ نچلے درجے کے کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے۔ ایسے میں عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ عوام بھی حکومتی کارکردگی سے یقینا نا خوش ہے اور یہ سمجھتی ہے کہ اس حکومت کے دور میں کچھ بھی کام عوام کی ریلیف کے حوالے سے نہیں کیا گیا اور نہ ہی کوئی ودہ جو کہ انتخابی مہم کے دوران کیے گئے تھے پورا ہوا ہے۔ اس صورت حال کا فائدہ اپوزیشن کو ہوا ہے اور عوام نے ایک بار پھر سے اپوززیشن سے امیدیں وابستہ کر لی ہیں ۔ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے اب تک کے جلسوں کا یقینا سیاست پر اثر پڑا ہے ۔ اپوزیشن کو کمزور سمجھنے والی حکومت پریشان ہے۔ تاہم گزشتہ ایک ہفتے سے پی ڈی ایم قیادت میں اختلافات کی خبریں گردش میں۔ مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت جمیعت علمائے اسلام میں اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ کچھ پرانے ساتھیوں کو پارٹی سے بے دخل کر دیا گیا ہے۔ بے دخل ہونے والے لوگ غیر معمولی ہیں۔ مذہبی حوالے سے بھی ان کا اپنا ایک حلقہ ہے اور سیاسی تنظر میں بھی دیکھا جائے تو گزشتہ کئی دہائیوں سے ان کا کردار رہا ہے۔ ایسے میں امارت کے معاملے پر پیدا ہونے والے اختلافات نے مولانا فضل الرحمٰن کی پوزیشن کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ بالخصوص پارٹی سے نکالے گئے لوگوں نے فوج پر تنقید کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ مولانا اپنے ذاتی مفادات کے لیے اداروں پر تنقید کر رہے ہیں۔ لہٰذا ہم ہر فورم پر ان کی اس حرکت کو بے نقاب کریں گے ساتھ ہی اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ ہم جمیت علمائے اسلام کو فضل الرحمٰن کے چنگل سے آزاد کر کے اس کی اصل روح کے مطابق بحال کرریں گے۔ یقینا نیب کے نوٹس کے بعد جو مﺅقف مولانا نے اپنایا ہے اس سے ان کا تشخص مجروح ہوا ہے۔ مولانا کو خود کو احتساب کے لیے پیش کرنا چاہیے اگر انہوں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا تو اس میں کیا قباحت کے کہ وہ نیب کے سامنے پیش ہو جائیں۔ نواز شریف سمیت چوہدری شجاعت جیسے معزز سیاست دان نیب میں پیش ہو چکے ہیں۔ ایسے میں ہر معاملے کو انتقام کی عینک سے دیکھنا نا مناسب ہے۔ یقینا اس معاملے سے چیئرمین پی ڈی ایم کی سیاسی پوزیشن کمزور ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں استعفوں کے حوالے سے بھی پی ڈی ایم کی قیادت میں اختلافات کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سیکنڈ لائن قیادت نے استعفے دینے کے معاملے پر اختلاک کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پارلیمان ایک اہم فورم ہے اسے کسی بھی صورت خالی نہیں چھوڑنا چاہیے۔ تاہم پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ 31 دسمبر تک تمام ممبران اپنے استعفے قیادت کو جمع کرادینگے،سی ای سی نے پی ڈی ایم کے فیصلوں کی توثیق کردی ہے۔حکومت کے پاس31جنوری تک مستعفی ہونے کا وقت ہے، 31جنوری تک وزیر اعظم گھر چلے جائیں، ورنہ اسے ہم گھر بھیجیں گے، ہم چاہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کا سیاست میں عمل دخل ختم ہو،ہم سمجھتے ہیں کہ اے پی سی کے لائحہ عمل کے مطابق ہی آگے بڑھنا چاہئے۔بلاول بھٹو نے پی ڈی ایم کومل کر سینٹ الیکشن لڑنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ سی ای سی اجلاس کی تجاویز پی ڈی ایم کے اجلاس میں رکھیں گے، پی ڈی ایم اگر سینٹ الیکشن میں مل کر مقابلہ کرے تو کامیاب ہوسکتے ہیں،حکومت کا سینٹ الیکشن میں مقابلہ کرنا ہوگا،سینٹ کا میدان خالی نہیں چھوڑینگے،پنجاب او ر وفاق میں تحریک عدم اعتماد لانی چاہئے۔ انہوں نے پی ڈی ایم کو واضح پیغام دیا کہ ہم اسمبلیوں میں رہ کر حکومت کا مقابلہ کرینگے،مردم شماری صوبوں کے ساتھ زیادتی ہے،ہمیں اس حکومت کو پارلیمان میں بھی چیلنج کرنا چاہئے،ہم مختلف طبقات کے لوگوں سے بھی رابطے کررہے ہیں، ینگ لائرز اور ڈاکٹرز کو بھی رابطے میں لے رہے ہیں تاکہ حکومت کو گھر بھیج سکیں، ہم خواجہ آصف کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں، استعفے نواز شریف کی واپسی سے مشروط کرنے سے متعلق سوال کا جواب بلاول بھٹو زرداری گول کرگئے۔اسٹیبلشمنٹ حکومت کے پیچھے سے ہٹ جائے، حکومت خود گر جائے گی،استعفے کس وقت دینے ہیں، فیصلہ پی ڈی ایم کرے گی۔ دریں اثناپیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ا جلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی،ذرائع کے مطابق اجلاس میں ارکان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کسی کی ڈکٹیشن پر نہیں چل سکتی، ہم نئی پی این اے نہیں بن سکتے،نوازشریف کی واپسی پر استعفوں کی بات ہوسکتی ہے،ارکان نے رائے دی کہ پارلیمنٹ کے فورم کو چھوڑنا سیاسی طور پر بہتر اقدام نہیں ہوگا،پی پی پی کے قانونی ماہرین نے اظہار خیال کیا کہ استعفے سینٹ الیکشن کی راہ میں رکاوٹ پیدا نہیں کرسکتے،، اراکین نے مولانا فضل الرحمان کی بینظیر بھٹو کی برسی میں غیرموجودگی پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقامی سیاست کے پیچھے مولانا فضل الرحمان نے بے نظیر بھٹو کی برسی چھوڑدی اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کے کہنے پر اسمبلیاں چھوڑدیں، پیپلز پارٹی نے ضمنی انتخابات اور سینٹ الیکشن لڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے،پیپلز پارٹی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے شرکا کا کہنا تھا کہ ہم لانگ مارچ کے لئے تیار ہیں، نواز شریف کو وطن واپس آکر حصہ بننا چاہئے، اجلاس میں موجود قانونی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ قبل از وقت استعفوں کی صورت میں حکومت اٹھارہویں ترمیم ختم کر سکتی ہے۔یقنا اسبات میں وزن ہے کہ نواز شریف کو وطن واپس آکر سیاست میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کے اوپر جو جو الزامات ہیں وہ جائز ہیں یا نا جائز ان کا سامنا کریں۔ عدالت کا سامنا کریں ۔ اب ناسازی طبیعت کا جواز پیدا نہیں ہوتا۔ اگر آپ لیڈر ہیں تو پھر آپ کو عوام کے درمیان ہونا چاہیے۔ پیپلز پارٹی کے ورکرز میں اس بات کو لے کر تحفظات پائے جاتے ہیں اور یہ بجا ہیں۔ پیپلز پارٹی کی قیادت ملک میں موجود ہے۔ ہر قسم کے حالات کا سامنا کر رہی ہے۔ قربانیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ تختہ دار سے لے کر بد ترین ریاستی جبر کا بھی سامنا کیا ہے۔ ایسے میں ورکرز کا یہ کہنا کہ مسلم لیگ کی قیادت بھی ملک واپس آئے تو یہ درست ہے۔ نواز شریف اگر بڑے لیڈر ہیں تو بڑے دل کا مظاہرہ کریں۔ اپوزیشن تحریک کی کامیابی یا ناکامی کی وجہ نواز شریف ہی بنیں گے۔ اگر وہ واپس آ جاتے ہیںتو یقینا ملکی سیاست میں انقلابی تبدیلی آ سکتی ہے۔ بصورت دیگر اپوزیشن اس طرح کے اختافات خواہ یہ اختلافات پیدا ہی کیوں نہ کیے جا رہے ہوں ان کا شکار ہوتی رہے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.