Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

مسلم دنیا کے لیے 2021ء فیصلہ کن سال (حصہ اول)

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

آصف شاہد
2020ءمیں کورونا وائرس کی وبا نے دنیا کو پوری طرح بدل کر رکھ دیا ہے۔ سماجی میل جول ختم ہوگیا، سفری پابندیاں لگیں اور معاشرہ یکسر تبدیل ہو کر رہ گیا۔وائرس کے خوف نے جہاں انسانوں کو ایک دوسرے سے د±وری اختیار کرنے پر مجبور کیا وہیں اس سال کچھ سخت حریف یوں قریب آئے کہ لگتا تھا کہ بچھڑے ہوئے ایک عرصے بعد ملے ہوں۔ یہ قربت ’معاہدات ابراہیمی‘ کے نام پر ہوئی اور انجیل کے تصورات کو ان معاہدوں کے لیے استعمال کیا گیا۔ معاہدات ابراہیمی نے مسلم دنیا میں ایسی ہلچل پیدا کی ہے کہ اس کے اثرات کئی عشروں یا شاید صدیوں تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔اسرائیل سے تعلقات کے قیام اور تجدید تعلقات کے لیے 5 مسلم، عرب ممالک نے براستہ وائٹ ہاو¿س معاہدات ابراہیمی کو اپنایا۔ ان معاہدات ابراہیمی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اسرائیل نواز ٹیم نے جان توڑ محنت کی۔صدر ٹرمپ ان معاہدات ابراہیمی کی بنیاد پر دوسری مدت صدارت کا خواب سجائے بیٹھے تھے لیکن یہ خواب چکنا چور ہوگیا۔ امریکی انتخابات میں فراڈ کے الزامات کی گونج اس قدر شدید تھی کہ لگتا تھا تیسری دنیا کے کسی ملک کے الیکشن میں دھاندلی ہوگئی ہے اور دنیا میں جمہوریت کا چیمپئن امریکا بہادر ان انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کردے گا اور اس ملک کا معاشی و سماجی بائیکاٹ تب تک جاری رہے گا جب تک وہ ملک ان انتخابات کو کالعدم قرار نہیں دے دیتا، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا کیونکہ یہ امریکا کا اندرونی معاملہ تھا۔
معاہدات ابراہیمی واقعی ایسی بڑی پیشرفت تھی جس پر امریکی صدر کا دوسری مدت کے لیے منتخب ہونا لازم تھا لیکن ب±را ہو کورونا وائرس کا جس کی وجہ سے امریکی معیشت سخت بحران کا شکار ہوئی۔ کروڑوں امریکی بیروزگاری کے طوفان کی زد میں آئے، معاشی مشکلات نے سماجی تضادات کو بھی آشکار کیا اور صدر ٹرمپ کا خارجہ پالیسی کی بنیاد پر الیکشن جیتنے کا منصوبہ ناکام ہوگیا۔20 جنوری کو امریکا میں انتقالِ اقتدار ہونا ہے لیکن ٹرمپ اب بھی دھاندلی کا رونا رو رہے ہیں اور وائٹ ہاو¿س میں انتخابی نتائج کو الٹانے کے منصوبے اب بھی زیرِ بحث ہیں۔ صدر ٹرمپ کے سابق مشیر برائے قومی سلامتی جنرل مائیکل فلن سمیت کئی سخت گیر ری پبلکن مارشل لا کے نفاذ اور ووٹنگ مشینوں کو قبضے میں لے کرسوئنگ ریاستوں میں دوبارہ انتخابات کے مشورے دے رہے ہیں۔ ٹرمپ کے مشیران نے انتخابی نتائج الٹانے کے جتنے بھی نسخے تجویز کیے ہیں وہ قابلِ عمل نظر نہیں آتے اور انتقالِ اقتدار یقینی ہے۔صدر ٹرمپ 20 جنوری کو وائٹ ہاو¿س سے رخصت ہوجائیں گے لیکن جاتے ہوئے وہ نئی جوبائیڈن انتظامیہ اور دنیا کے لیے کئی مسائل کھڑے کرکے جا رہے ہیں۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کو دوسری مدت مل جاتی تو شاید وہ ان مسائل کو کوئی رخ دے جاتے لیکن اب معاہدات ابراہیمی، افغان امن عمل اور عراق اور شام سے امریکی انخلا کے معاملات پر جوبائیڈن انتظامیہ کی رائے مختلف ہوسکتی ہے جو معاملات کو مزید الجھانے کا سبب بنے گی لیکن امیدیں وابستہ ہیں۔
گزشتہ 100 سال میں مشرقِ وسطیٰ نے ناقابلِ یقین تبدیلیاں دیکھیں جن میں سلطنتِ عثمانیہ کا خاتمہ، یورپ کا تسلط، اسرائیل کا قیام اور جنگیں، عرب قوم پرستی اور سوشل ازم کے تجربات، امریکی ثالثی میں اسرائیل، فلسطین امن کا خواب اور اس کے نتیجے میں ملنے والے دھوکے، انقلابِ ایران، عراق پر حملے کے بعد خطے میں امریکا کا زوال، عرب بہار، داعش کا قیام اور اس کے نتیجے میں ہونے والی بربادی اور ایران کے ساتھ مغرب کے اتحادی عربوں کی صلح کی ناکام کوششیں شامل ہیں۔
نئی صدی میں معاہدات ابراہیمی کے بعد مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کا اثر و رسوخ جسے اسرائیلی تسلط سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے، سب سے اہم عنصر ہے۔ اس کے علاوہ 5 عرب ممالک شام، لیبیا، عراق، لبنان اور یمن خانہ جنگی کا شکار ہیں اور سیاسی طور پر مفلوج یا ناکام ریاست بننے کی طرف بڑھ رہے ہیں، جبکہ ترکی کی پالیسیوں کو خلافتِ عثمانیہ کے احیا کی کوششوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بحیرہ روم میں ترکی کی پالیسیوں کو نیٹو کا رکن ہونے کے باوجود یورپی اتحاد کے خلاف نئی طاقت شمار کیا جا رہا ہے جو نیٹو کے اصل حریف روس کے قریب ہے اور مشرق وسطیٰ میں روس کی پیش قدمی بھی جاری ہے۔ دوسری جانب چین خطے میں بڑے کھلاڑی کی حیثیت سے قدم جما رہا ہے۔ترکی جنوب مشرق اور جنوب مغرب میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔ شام، عراق اور لیبیا میں ترکی کی مداخلت اور نیگورنو-کاراباخ میں ترکی کی مدد سے آذربائیجان کی فتح دراصل ترکی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے مظاہر ہیں۔ عربوں کے سماجی بائیکاٹ کی زد میں آئے قطر کے ساتھ ترکی کی گرم جوشی اسے مشرق وسطیٰ کا اہم کھلاڑی بنا چکی ہے، جبکہ نیٹو کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناو¿ میں ترکی روس کے ساتھ شراکت کو بڑھا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے 3 بڑے ملکوں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر کے ساتھ بھی ترکی کے تعلقات خوشگوار نہیں رہے۔معاشی پابندیوں کے بوجھ تلے دبا ایران اپنی تنہائی کے باوجود بغداد اور دمشق کے راستے بیروت تک اثر و رسوخ قائم رکھے ہوئے ہے۔ مصر، اردن اور خلیج تعاون تنظیم کے چند رکن ممالک اسرائیل کے ساتھ مل کر صف بندی کر رہے ہیں اور اسرائیل کی فوجی، سیاسی اور انٹیلی جنس صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ معاہدات ابراہیمی کو مزید فروغ دینے پر کام جاری ہے، مزید 2 مسلم مملک، جن میں ایک عرب اور ایک ایشیائی مسلم طاقت شامل ہے، جلد اس دائرے میں داخل ہوسکتے ہیں جس کے بعد سعودی عرب بھی معاہدہ ابراہیمی قبول کرنے والا ملک بن سکتا ہے۔
معاہدات ابراہیمی کی صورت میں اسرائیل عرب اتحاد تشکیل پا رہا ہے جس کی بنیاد سلامتی کو درپیش خطرات پر ہے۔ اسرائیل اور عربوں کے لیے 2 ہی خطرات ہیں، پہلا ایران اور اس کے اتحادی اور دوسرا سیاسی اسلام جس کی ایک شکل اخوان المسلمون ہے۔ ترکی اور قطر کے ساتھ عربوں کا بنیادی جھگڑا ہی اخوان المسلمون کی حمایت اور مدد پر ہے۔ ایران کا جوہری پروگرام اب خطرہ شمار نہیں ہورہا بلکہ میزائل اور ڈرونز سمیت ایران اور اس کے اتحادیوں کی روایتی فوجی صلاحیتیں خطرہ شمار کی جا رہی ہیں۔مشرق وسطیٰ میں اب 3 بڑے جیو پولٹیکل اتحاد ابھر کر سامنے آئے ہیں، ایک ترکی اور اس کے اتحادی، دوسرا ایران اور اس کے اتحادی اور تیسرا عرب-اسرائیل اتحاد۔ترکی اور اس کے اتحادی عرب دنیا میں اخوان المسلمون کو بادشاہتوں اور آمریتوں کے لیے دردِ سر بنا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ عرب بادشاہتوں نے اخوان المسلمون کو کالعدم دہشتگرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔ نام نہاد عرب جمہوریتوں میں بھی اخوان المسلمون اشرافیہ کے لیے خطرہ ہے۔ عرب دنیا کی بادشاہتیں اور نام نہاد آمریتیں سابق صدر مرسی کی طرح کہیں بھی اخوان کے دوبارہ نمودار ہونے اور اس کے باقی ملکوں میں اثرات کو کسی بھی صورت روکنا چاہتے ہیں۔ عرب بہار کے 10 سال مکمل ہونے کے بعد بھی دوبارہ کسی سیاسی تحریک کا خطرہ ابھی تک صرف دبایا ہی جاسکا ہے، ختم نہیں ہوا ہے۔عرب بادشاہتیں اب اسرائیل کی سیکیورٹی اور ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کی خواہاں ہیں اور اضافی فائدہ اسرائیل کا وائٹ ہاو¿س میں اثر و رسوخ ہے۔ انتظامیہ کوئی بھی ہو اسرائیل وائٹ ہاو¿س کے لیے ہمیشہ اہم رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ میں اسرائیل کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی تھی لیکن بائیڈن انتظامیہ بھی اسرائیل کو نظر انداز نہیں کرسکتی۔عرب-اسرائیل اتحاد کو بائیڈن انتظامیہ کے حوالے سے کچھ خدشات ہوسکتے ہیں لیکن ترکی کے حوالے سے بائیڈن کا موقف ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ اسی لیے اسرائیل-عرب اتحاد کو کچھ حوصلہ ہے کہ ترکی کی مخالفت میں انہیں بائیڈن انتظامیہ سے رعایتیں مل سکتی ہیں۔ البتہ اخوان کے حوالے سے بائیڈن انتظامیہ کا رویہ مختلف ہوسکتا ہے کیونکہ عرب بہار بھی اوباما انتظامیہ کی ’پیشکش‘ تھی اور بائیڈن انتظامیہ میں اوباما کے بہت سے ارکان شامل ہیں۔عرب-اسرائیل اتحاد کو بائیڈن انتظامیہ کے حوالے سے سب سے بڑا خدشہ ایران پالیسی پر ہے اور اگر بائیڈن انتظامیہ ایرانی جوہری پروگرام پر بین الاقوامی معاہدے میں دوبارہ شامل ہوجاتی ہے تو یہ عرب-اسرائیل اتحاد کے لیے بڑا دھچکا ہوگا۔ بائیڈن کی ایران پالیسی کسی بھی غیر متوقع واقعے یا اشتعال انگیزی میں بدل سکتی ہے اور سینیٹ پر کنٹرول کی کشمکش بھی اس پالیسی پر اثر انداز ہوگی۔ امریکی سینیٹ میں اکثریت کا فیصلہ جارجیا میں ہونے والے رن آف کے نتیجے پر ٹکا ہوا ہے۔غیر متوقع حالات یا اشتعال انگیزی سے بائیڈن انتظامیہ کی پالیسی بدلوانے کی کوشش انتقالِ اقتدار سے پہلے شروع ہوچکی ہے۔ ایران اس کوشش کو سمجھتا ہے اسی لیے ایران کی طرف سے ردِعمل نرم تھا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ مشرق وسطیٰ میں بی52 طیارے اور ایف35 کا اسکواڈرن لاکر کسی بھی غیر متوقع ردِعمل کے لیے تیار رہی لیکن ایران سخت ردِعمل سے گریزاں ہے اور انتقالِ اقتدار کا منتظر ہے۔ اب بھی ٹرمپ انتظامیہ آخری 2 ہفتوں میں اسرائیل کو استعمال کرکے خطے میں جنگ چھیڑنے کی کوشش کرسکتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.