Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

مِس انگلینڈ کے فائنل مقابلے میں بغیر میک اپ کے حصہ لوں گی‘ : میلیسا راؤف

0

یوٹی پیجینٹز کا نام سنتے ہی ذہن میں خوبصورتی کو مزید نکھارنے والے میک اپ، ہیئر سٹائل اور چمکیلے ملبوسات کی تصویر ابھر آتی ہے۔

لیکن انگلینڈ کی ایک خاتون اس تصور کو بدلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

بیس سالہ میلیسا راؤف مس انگلینڈ کے فائنل مقابلے میں حصہ لینے جا رہی ہیں، وہ بھی بغیر میک اپ۔ ایسا مس انگلینڈ کی تقریباً سو سالہ طویل تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔ وہ نوجوان لڑکیوں پر یہ واضح کرنا چاہتی ہیں کہ خوبصورت نظر آنے کے لیے میک اپ کا سہارا لینا بالکل ضروری نہیں۔

لندن کی رہائشی راؤف نے اس مقابلے میں ’بیر فیس‘ راؤنڈ جیت لیا ہے جس میں بغیر میک اپ خود کو پیش کرنا ہوتا ہے۔ اب فائنل مقابلہ سترہ اکتوبر کو ہونے جا رہا ہے جس میں شامل چالیس لڑکیوں میں سے ایک میلیسا بھی ہیں۔

ماضی میں بغیر میک اپ والے راؤنڈ کے بعد لڑکیوں نے ہمیشہ فائنل کے لیے میک اپ کا استعمال کیا ہے۔ لیکن میلیسا کا ایسا کرنے کا ارادہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر وہ جیت جاتی ہیں تو وہ امید کرتی ہیں کہ مس ورلڈ مقابلے میں بھی وہ میک اپ نہیں استعمال کریں گی تاکہ دنیا کو متاثر کر سکیں۔‘

انہوں نے بی بی سی سے کہا ’میں یہ ثابت کرنا چاہتی ہوں کہ ہم میک اپ کرنے کے لیے مجبور نہیں ہیں، یہ ہماری پسند کی بات ہے۔ اگر ہم میک اپ نہیں لگانا چاہتیں تو نہ لگائیں، یہ ہماری مرضی پر منحصر ہے۔‘

میلیسا نے بھی اپنی ہم عمر دیگر لڑکیوں کی طرح کم عمری میں ہی میک اپ کا استعمال شروع کر دیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں دوسروں کو دیکھ کر ہمیشہ کمتری کا احساس ہوتا تھا اور دیکھتے دیکھتے وہ اپنا مقابلہ خوبصورتی کے غیر مناسب معیارات سے کرنے لگیں۔ ان کے بقول ’ایسے معیار جنہیں سوشل میڈیا فروغ دے رہا ہے، ہماری ذہنی صحت کو متاثر کر رہے ہیں۔ ‘

رحیمہ متھامکیا

مس راؤف نے بتایا ’میں کبھی اپنے آپ سے مطمئن محسوس نہیں کرتی تھی۔ خود میں کچھ کمی لگتی تھی۔‘

لیکن عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان میں حوصلہ آتا گیا۔ ان کا خیال ہے کہ بیوٹی پیجینٹ میں حصہ لینے میں انہیں ڈر تو لگا لیکن اسی کی وجہ سے ان کی خود اعتمادی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا ’مجھے لگا جیسے میں یہ سب کچھ سب کے لیے کر رہی ہوں۔‘

گزشتہ ہفتے بغیر میک اپ کے راؤنڈ میں جیتنے کے بعد سے ان کے پاس سوشل میڈیا پر ڈھیروں مثبت پیغامات آ رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا ’مجھے ہر عمر کی خواتین کے پیغامات آ رہے ہیں۔ ان میں چالیس اور پچاس برس کی خواتین بھی شامل ہیں جو کہتی ہیں کہ وہ جیسی دکھتی ہیں اس سے خوش ہیں۔‘

حالانکہ میلیسا میک اپ کے خلاف نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا بہت سے مواقع ہوتے ہیں جہاں میں اب بھی میک اپ کرنا پسند کروں گی۔ بیئر فیس راؤنڈ میں انہوں نے چہرے پر ٹونر، موائسچرائزر اور لپ بام لگایا تھا۔

میلیسا میک اپ کو فنکاری اور نئے سٹائل بنانے کے لیے استعمال کرنا پسند کرتی ہیں۔

انہوں نے بتایا ’اپنی شکل و صورت کو کسی خاص موقع کے لیے مزید نکھارنے اور سنوارنے میں کوئی غلط بات نہیں ہے لیکن ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ میک اپ ہی ہماری پہچان بن جائے۔ آپ کی چوائس ہونی چاہیے کہ آپ کا کیا دل چاہ رہا ہے۔‘

ان کا خیال ہے کہ خواتین کو اپنے اندر کے انسان کو نکھارنے پر زیادہ محنت کرنی چاہیے نہ کہ باہری شکل و صورت کی بنیاد پر خود کا دوسروں سے موازنہ کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا ’جب آپ میک اپ کی تہیں چہرے پر چڑھا کر نکلتے ہیں تو آپ خود کو چھپا رہے ہوتے ہیں۔ ان تمام پرتوں کو اتار کر دیکھیے کہ اصل میں آپ کون ہیں۔‘

مس ورلڈ مقابلے کا آغاز 1951 میں ٹیلی ویژن ہوسٹ ایرک مورلے نے کیا تھا۔ ان کی وفات کے بعد ان کی بیوہ جولیا مورلے 2000 میں سی ای او بن گئیں۔

ان مقابلوں کو کئی مرتبہ اس تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے کہ ان میں خواتین کو کسی استعمال کی چیز کی طرح پیش کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر 1970میں لندن کے رائل ایلبرٹ ہال میں اس مقابلے کے انعقاد کے دوران ویمنز لبریشن موومنٹ کی کارکنان نے آٹا پھینک کر فائنل راؤنڈ میں خلل پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔

2011 اور 2014کے مقابلوں کے فائنل کے دوران بھی لندن فیمینسٹ نیٹ ورک اور یو کے فیمینسٹا جیسے متعدد گروپز نے احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔

مس ورلڈ مقابلے کے خلاف 2011 میں احتجاج

،تصویر کا ذریعہPA MEDIA

،تصویر کا کیپشنان مقابلوں کو کئی مرتبہ اس تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے کہ ان میں خواتین کو کسی استعمال کی چیز کی طرح پیش کیا جاتا ہے

اس مقابلے کے کچھ رول تو ایسے ہیں جنہیں 1951 سے آج تک تبدیل نہیں کیا گیا ہے۔

مس انگلینڈ مقابلے میں حصہ لینے والی خواتین کی عمر ستائیس برس سے زیادہ نہیں ہو سکتی ہے۔ ایسی خواتین جن کی کبھی شادی ہو چکی ہو یا جو بچے پیدا کر چکی ہوں وہ بھی اس مقابلے میں حصہ نہیں لے سکتی ہیں۔

2018 میں مس یوکرین کا خطاب جیتنے والی ویرونیکا ڈیڈوسینکو سے ان کا اعزاز واپس لے لیا گیا تھا جب پتا چلا کہ وہ ایک ماں ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان قدیم رولز کو اب تبدیل ہونے کی ضرورت ہے۔

جولیا مورلے نے اس کے جواب میں کہا تھا کہ اینٹری کے رولز بدلنا اتنا آسان نہیں کیوں کہ اس میں حصہ لینے آنے والی خواتین جن ملکوں سے آتی ہیں ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

لیکن میلیسا راؤف کا خیال ہے کہ یہ مقابلے لوگوں پر مثبت اثر ڈالتے ہیں۔

انہوں نے کہا ’اس مقابلے کو جیتنے والی خواتین اس مقام کو دنیا میں کچھ اچھا کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔‘

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.