Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

سابق مئیر کوئٹہ ڈاکٹر کلیم اللہ خان کاکڑ کی نظر میں کورونا وائرس کی حقیقت

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

کوئٹہ : سابق مئیر کوئٹہ ڈاکٹر کلیم اللہ خان کاکڑ نے اپنے جاری کردہ پریس رلیز میں کہا ہے کہ کورونا وائرس 2004 سے دنیا میں موجود ہیں اور شاید ہمارے معاشرے نے وقتاً فوقتاً اسکا سامنا بھی کیا ہو، انھوں نے کہا کہ ہم بطور ڈاکٹر اسکو فلو یعنی زُوکام کی ایک لئیر سمجھ کر علاج کرتے رہے ہیں، انھوں نے کہا کہ ہر سال اکتوبر سے مارچ تک کئی وائرسوں کی لہر ہمارے معاشرے پر اثر انداز ہوتی ہیں جو کئی اموات کا باعث بھی بن جاتی ہیں خاص کر عمر رسیدہ اور وہ لوگ جو چھاتی، دل، شوگر یا گردوں کے امراض میں مبتلا ہوتے ہیں، دنیاں میں ہر سال فلُو سے چالیس لاکھ کوگ متاثر ہوتے ہیں جن میں پانچ لاکھ افراد کی موت ہو جاتی ہیں، سابقہ مئیر کوئٹہ کا کہنا ہے کہ مزکورہ وائرس ہائی سوسائٹی کے لوگوں پر زیادہ اثرات انداز ہوتی ہیں کیونکہ اِنکا مل ملاپ عام لوگوں سے بہت کم ہوتا ہیں اور صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھتے ہیں جس کی وجہ سے انکا سامنہ کم وائرسوں سے ہوتا ہے اینٹی باڈیز کی پیداوار اور قووت مدافعت کمزور ہوتی ہیں، انھوں نے کہا کہ کم آمدنی والے لوگ جو معاشرے کے مختلف طبقات و علاقوں میں روزگار و دیگر کی وجہ سے دن رات مشغول رہتے ہیں پر کورونا وائرس کم اثر انداز ہوتا ہے کیونکہ سال بھر مختلف وائرسوں اور جراثیم سے سابقہ پڑتا ہیں جس سے انکے جسم میں قوت مدافعت اور اینٹی باڈیز کی مقدار اور پیداوار زیادہ ہو جاتی ہیں اسی لئے ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں پر اینٹی باڈیز کی کمی کے باعث زیادہ اثر انداز ہوتا ہے اور اموات واقع ہو جاتی ہیں، انھوں نے مزید کہا کہ جہاں تک ہمارے ملک میں احتیاطی تدابیر کا اثر ہے وہ صرف 10 سے 15 فیصد موثر ہے کیونکہ یہاں صرف بڑے شہروں اور ہائی سوسائٹیز کے کالونیوں میں احتیاطی تدابیر کسی حد تک اختیار کیے جا رہے ہیں اور ٹیسٹ بھی انھی علاقوں میں کیے جاتے ہیں بقایا ملک، دیہاتی علاقے، شہر کے مضافاتی علاقے اور گلی کوچوں میں تقریباً کسی نے بھی احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد نہیں کیا ہے، تمام مساجد میں عبادات، جنازے، فاتحہ خوانی، کھیل کھود اور لوگوں کے بازار میں جھمگٹے پہلے کی طرح نظر آتے ہیں نتیجتاً اس صوبے کے پشتون علاقے رمضان شریف اور عید کے مہینے میں اس وباء سے ہو کر گزر گئے اور کافی اموات بھی واقع ہوئی ہیں، سابقہ مئیر کوئٹہ نے کہا ہے کہ انکے خیال کے میں پاکستان کے تمام دیہی علاقے اس وباء سے گزر گئے ہونگے، تقریباً 80فیصد آبادی میں ہرڈ اِمیونٹی (Herd Immunity) موجود ہے اور رہے بقایا کے 20فیصد آبادی جنھوں نے اپنے آپ کو بچائے رکھا ہے (میری طرح) انھیں آنے والے دنوں میں اس وباء کا سامنا کرنا ہوگا کیونکہ ویکسین بننے اور ہم تک پہنچنے میں سال بھر لگیگا، انکا کہنا ہے کہ ویسے بھی اگر ہم نے واقعی کورونا وائرس کے ساتھ رہنا ہیں تو آج نہیں کل اس کا سامنا کرنا پڑیگا اور اگر ایسا ہے تو پھر کیوں ہم اتنی لمبی پابندی اور قید برداشت کریں جس نے عوام کو مالی کمزوری اور نفسیاتی مریض بنایا ہے اس ڈر اور خوف کی وجہ سے ہماری قوت مدافعت آدھی ہو کر رہ گئی ہے لہٰذا میری رائے ہے کہ اللہ پاک پر توکل کر کے تھوڑے بہت احتیاطی تدابیر کے ساتھ عوام کو نارمل زندگی گزارنے کی اجازت دی جائے، انھیں پکنک اور پارکوں میں جانے دیں اور حسب معمول کام کاج کرنے دیں اور بقایا کے 20 فیصد لوگ بھی اس وباء سے ہو کر بخیر نکل جائینگے انشااللہ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.