Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

میگھن شاہی خاندان سے الگ ہونے کی الوداعی تقریب کے دوران آبدیدہ ہوگئی تھیں

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

برطانوی شہزادے ہیری کی اہلیہ میگھن مارکل نے شاہی خاندان کے رکن کی حیثیت سے جو وقت گزرا وہ خاصا ہنگامہ خیز رہا، کیونکہ سابق اداکارہ (وہ اپنی شادی سے قبل امریکا میں ٹیلی ویژن اور فلموں کی اداکارہ تھیں) کو شاہی خاندان کا حصہ بننے کے بعد کئی چیلجز کا سامنا رہا۔

تاہم جب ڈچز آف سسیکس نے اپنی مختصر شاہی زندگی کو اپنی آخری شاہی مصروفیات کے بعد خدا حافظ کہا، اور شہزادہ ہیری اور اپنے بیٹے آرچی کے ساتھ کینیڈا کا رخت سفر باندھا تو اس موقع پر انھوں نے اپنے اسٹاف سے ایک بڑا جذباتی خطاب کیا۔

میگھن کی اس آخری مصروفیات پر مبنی تقریب میں اس شاہی جوڑے (ڈچز اینڈ ڈیوک آف سسیکس) پر دھماکا خیز تصنیف فائنڈنگ فریڈم کے شریک لکھاری اومڈ اسکوبی بھی مدعو تھے اور انھوں نے اس حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ اس موقع پر میگھن آبدیدہ ہوگئی تھیں۔

یہ نجی ملاقات ڈچز اور ایسوسی ایشن آف کامن ویلتھ یونیورسٹی اسکولرز کے درمیان تھی۔  میگھن نے طلبہ سے اس موقع پر موسمیاتی تبدیلیوں پر گفتگو کی۔ تاہم اپنے خطاب کے آخر میں انھوں نے شاہی خاندان سے الگ ہونے کے حوالے سے بھی چند جملے کہے، ان جملوں کی ادائیگی کے دوران وہ خاصی جذباتی ہوگئی تھیں۔

اسکوبی نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ان سے سات نہایت ہی تلخ اور تکلیف دہ جملے کہے، گو کہ ایسا نہیں ہونا چاہیئے تھا۔ اسکوبی کا مزید کہنا تھا کہ اسٹاف کے یہ لوگ شاہی جوڑے کی شادی کے بعد پہلے دن سے انکی خدمات پر مامور تھا اور یہ ہنسی خوشی کے دن یوں  ختم ہوجانے پر وہ افسردہ تھے۔

وہ سمجھتے تھے کہ دو افراد ایک دوسرے سے محبت کرنے لگتے ہیں، شادی کرتے ہیں، انکے یہاں بچے کی پیدائش ہوتی ہے، وہ ملکہ کی خدمت کرتے ہیں، اور پھر یہ سب ختم اور وہ ملک چھوڑ جاتے ہیں، اسکوبی کے مطابق جب میگھن ان سے الوداعی معانقے کے لیے آئیں تو انھوں نے کہا کہ میں اس طرح سے نہیں جانا چاہتی تھی۔ لیکن حالات نے یہ سب کچھ کردیا، میں بکھر کر رہ گئی تھی، اور انھیں شاہی خاندان سے قطع تعلق کرکے زندگی کا اگلے باب کا آغاز کرنا پڑا۔

یہ کہتے ہوئے میگھن جو کافی دیر سے اپنے آنسو روکے کھڑی تھیں، وہ بہنے لگے اور وہ آبدیدہ ہوگئیں۔ اور پھر وہ اپنے غمزدہ اسٹاف کو چھوڑ کر چند گھنٹوں میں کینیڈا روانہ ہوگئیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.