Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

کیا نواز شریف خاموشی توڑ پائیں گے؟

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

لندن سے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی صحت کے بارے میں سنسنی خیز میڈیکل رپورٹ سامنے آئی ہے جبکہ لاہور اور اسلام آباد میں ہونے والی سیاسی اور پارلیمانی سرگرمیوں سے واضح ہورہا ہے کہ ملک میں تصادم کی فضا مسلسل گمبھیر ہورہی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف نے لاہور میں ایک ملاقات کے بعد موجودہ حکومت کو ملک و قوم کے لئے خطرہ قرار دیا ہے۔  اسلام آباد میں پارلیمانی کمیٹی میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی شرائط پوری کرنے کے علاوہ نیب کی اصلاح کے لئے تجویز کردہ بلوں کے سرکاری مسودوں پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔

نواز شریف کے وکیل نے لاہور ہائی کورٹ میں ان کی صحت کے حوالے سے جو میڈیکل رپورٹ جمع کروائی ہے، اس کے مطابق خراب صحت کی وجہ سے وہ آسانی سے کووڈ۔19 کا شکار ہوسکتے ہیں۔ ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ ان کے لئے کورونا وائرس جان لیوا ہوسکتا ہے اس لئے انہیں گھر سے نکلنے سے گریز کریں۔ نواز شریف کے وکیل امجد پرویز کی پیش کی گئی طبی رپورٹ کے مطابق ان کے پلیٹیلٹس کی سطح غیرمستحکم ہے، وہ ذیابیطس، قلب، گردے اور بلڈ پریشر جیسے عوارض کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے دل کو خون کی مناسب سپلائی کا مسئلہ بھی ہے۔ نواز شریف کو گزشتہ سال اکتوبر میں کوٹ لکھپت جیل میں قید کے دوران پلیٹیلٹس کی مقدار اچانک گرجانے کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ اسی بنیاد پر ان کی ضمانت ہوئی تھی اور عدالتوں میں طویل کھینچا تانی کے بعد وہ 19 نومبر کو بغرض علاج لندن روانہ ہوگئے تھے۔ تاحال وہ لندن میں ہی مقیم ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے ان کے قیام کی مدت میں توسیع کا اختیار پنجاب حکومت کو دیا تھا لیکن پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت نے نواز شریف کو لندن میں قیام کے لئے توسیع دینے سے انکار کیا ہے۔ اس دوران نیب عدالت ایک دوسرے ریفرنس میں انہیں مفرور قرار دے چکی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد اور فیصلوں کے مجاز نواز شریف کی خراب صحت کے بارے میں کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا لیکن انہوں نے اس کے باوجود اپنی سیاسی وراثت کے حوالے سے ابہام برقرار رکھا ہے۔ اگرچہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ نواز شریف کی سیاسی وارث شہباز شریف یا ان کا خاندان نہیں ہے بلکہ مریم نواز ہیں جو جاتی عمرہ میں ’محصور‘ ہیں کیوں کہ حکومت انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دینے پر آمادہ نہیں ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ مریم نواز کو مقتدر حلقوں کی صوابدید سے پاکستان میں رہنے پر مجبور کیا گیا ہے تاکہ نواز شریف کی سیاست پر کنٹرول برقرار رکھا جاسکے۔ قیاس ہے کہ اگر نواز شریف کوئی ایسا سیاسی مؤقف اختیا رکرتے ہیں جو طے شدہ ’معاہدہ‘ کے خلاف ہو تو مریم نواز کی ضمانت منسوخ کرواکے انہیں جیل واپس بھیجنے کا اہتمام کیا جاسکتا ہے۔

 

اس دوران عملی صورت حال یہ ہے کہ شہباز شریف مسلم لیگ (ن) کے باقاعدہ صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیں۔ وہ بھی نواز شریف کے ساتھ گزشتہ سال نومبر میں لندن گئے تھے لیکن اپریل میں کورونا کے سبب فضائی آپریشن معطل ہونے سے پہلے وہ اچانک پاکستان واپس آگئے تھے۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بحران میں اپنے لوگوں کے درمیان موجود رہنے کے لئے وطن واپس آئے ہیں۔ البتہ یہ افواہیں گردش میں رہی ہیں کہ وہ ملک کے مقتدر حلقوں کے تعاون سے مستقبل کے ممکنہ وزیر اعظم بننے کے لئے واپس آئے تھے۔ اس دوران مائینس ون اور موجودہ حکومت کی روانگی کی خبریں بھی زبان زد عام ہوئی تھیں لیکن بظاہر کسی بڑی سیاسی تبدیلی کا امکان معدوم رہا ہے۔ عمران خان کی حکومت مستحکم ہے اور پنجاب میں بھی عثمان بزدار کی علیحدگی کے بارے میں قیاس آرائیوں نے دم توڑ دیا ہے۔ شہباز شریف نے لندن سے واپسی کے بعد زیادہ وقت لاہور میں اپنے گھر میں ’ مقید‘ رہ کر گزارا ہے۔ اس دوران انہیں کووڈ۔19 بھی لاحق ہؤا تھا جس کے بعد انہوں نے مزید احتیاط کرنا ضروری سمجھا۔

مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومتوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان موجود ہے۔ عمران خان اپنا کوئی انتخابی وعدہ پورا نہیں کرسکے اور ملک پر قرضوں کے بوجھ میں اضافہ ہؤا ہے۔ وزیر اعظم ملک پر30000 ہزار ارب روپے کے قرضوں کو ماضی کی حکومتوں اور خاص طور سے نواز شریف کی بدعنوان حکومت کی بے اعتدالی کا نتیجہ قرار دیتے رہے ہیں لیکن اس وقت ملک کا مجموعی قرضہ 43000 ہزار ارب روپے ہوچکا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر اور قومی پیداوار میں شدید کمی ہے۔ نواز شریف کے دور حکومت میں قومی پیداوار میں اضافہ چھ فیصد کی حدوں کو چھو رہا تھا جو اس وقت منفی ہوچکا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد پہلی بار قومی پیداوار میں انحطاط دیکھنے میں آیا ہے۔ قومی معیشت کے ہر پہلو پر اس کے اثرات دیکھے جاسکتے ہیں۔ مہنگائی میں اضافہ ہؤا ہے اور بیروزگاری خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے۔ کورونا وبا کی وجہ سے برآمدات میں کمی واقع ہوئی ہے اور بیرون ممالک میں کام کرنے والے پاکستانیوں کی واپسی کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ کورونا کی وجہ سے عالمی معیشت میں پیدا ہو نے والی کساد بازاری اور تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے امکان ہے کہ آنے والے کئی برسوں کے دوران عرب ممالک میں کام کرنے والے محنت کشوں کی واپسی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس طرح ملک زر مبادلہ حاصل کرنے کے سب سے قابل اعتبار ذریعہ سے محروم ہوسکتا ہے۔

حکومت اپنی معاشی ناکامیوں کو پہلے سابقہ حکومتوں کی بدعنوانی کا عنوان دیتی تھی، اب کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات کو اس کی سب سے بڑی وجہ قرار دیتی ہے۔ وزیر اعظم اور ان کے نمائندے اب بھی کورونا کی وجہ سے سامنے آنے والے معاشی اندیشوں کی پیچیدگیوں کو سمجھنے اور قوم کو مشکل حالات کے لئے تیارکرنے کی پالیسی اختیار کرنے کی بجائے موجودہ حالات کو اپنی ناکامیاں چھپانے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بیانات میں یہی کہا جاتا ہے کہ تحریک انصاف نے تو معیشت کو صحت مند بنیادوں پر استوار کردیاتھا لیکن کورونا کی وجہ سے یہ ساری کوششیں رائیگاں گئیں۔ اس رویہ کی وجہ سے حکومت ملک کو نئے معاشی خطروں سے بچانے کی کوئی حکمت عملی تیار کرنے میں کامیاب نہیں ہے۔ کورونا کی وجہ سے عالمی مالیاتی اداروں نے پرانے قرضوں کی واپس ادائیگی میں نرمی کی ہے جبکہ اس بحران سے نمٹنے کے لئے پاکستان کو نئے قرضے بھی دیے گئے ہیں۔ اس طرح حکومت کو فوری طور سے کسی بڑی مالی پریشانی کا سامنا نہیں ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر19 ارب ڈالر تک پہنچے ہیں۔ تاہم حکومت یہ سمجھنے پر تیا رنہیں ہے کہ یہ عبوری صورت حال ہے۔ اندازہ کیا جارہا ہے کہ کورونا وائرس سے عالمی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرنے کے لئے کم از کم ایک دہائی صرف ہوگی۔ عالمی معیشت میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا سب سے زیادہ اثر پاکستان جیسے کمزور معیشت اور کثیر آبادی والے ملکوں پر ہوگا۔

 

پاکستان میں اس ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کے لئے نہ حکومت کوئی لائحہ عمل سامنے لائی ہے اور نہ ہی اپوزیشن اس مسئلہ پر سنجیدہ غور و فکر کرنے پر تیار ہے۔ فریقین اس معاملہ کو ایک دوسرے کی سیاسی پوزیشن کمزور کرنے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ اس میں سب سے زیادہ اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ اپوزیشن اگرچہ یہ الزام لگاتی ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف پر مقتدر حلقوں سے ساز باز کے ذریعے  برسر اقتدار آئے ہیں۔ لیکن خود اپوزیشن بھی انہی ’مقتدر‘ حلقوں کی آشیرواد سے ہی موجودہ حکومت کا تختہ الٹ کر اپنی حکومت بنانا چاہتی ہے۔ گزشتہ سال کے آخر میں مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ اور شہباز شریف کی سیاست کا محور یہی ایک نکتہ ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ عطار کے جس لونڈے سے دوا لینے پر عمران خان معتوب ٹھہرائے جارہے ہیں، اپوزیشن کی بیشتر قیادت عطار کے اسی لونڈے کی نظر عنایت کی منتظر ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ معیشت کی بحالی اور ہمسایہ ملکوں کے علاوہ عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی کامیابی کے لئے اب ’عطار کے لونڈے ‘ کے نسخے ناکام ہوچکے ہیں۔ اب کوئی ایسا طریقہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے جو غیر منتخب اداروں کے سیاسی اختیار کو محدود کرے، ملک میں آزادی رائے پر عائد قدغن کو دور کیاجائے اور ملکی آئین اور میثاق جمہوریت کی روح کے مطابق ملک کو سیاسی، معاشی اور سفارتی بحران سے باہر نکالنے کا کوئی منصوبہ تشکیل دیا جائے۔

اسی حوالے سے نواز شریف اور مریم نواز کے ’ ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے اور منتخب حکومت کو بااختیار بنانے کے مطالبے کو پذیرائی حاصل ہوئی تھی۔ نواز شریف نے خود علالت کے سبب سیاست سے ’کنارہ کشی‘ اختیار کی ہوئی ہے لیکن جس طرح مریم نواز کی زبان بندی کی گئی ہے، اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ موجودہ سیاسی تعطل پیدا کرنے کی اصل ذمہ داری نواز شریف پر ہی عائد ہوتی ہے۔ نواز شریف کے علاوہ ملک کے سب سیاسی مبصر اس بات سے آگاہ ہیں کہ پنجاب کا ووٹر ان کے ساتھ ہے اور وہی اپنے نام سے کام کرنے والی مسلم لیگ کی اصل طاقت ہیں۔ تاہم بظاہر جو پہلو نواز شریف کی نظر سے اوجھل دکھائی دیتا ہے، وہ حقیقی جمہوری روایت کی طرف پیش قدمی کی عوامی خواہش ہے۔ آخر کوئی وجہ تو ہوگی کہ پنجاب میں ترقیاتی کام تو شہباز شریف نے کئے ہیں لیکن لوگ ووٹ نواز شریف کو دینا چاہتے ہیں۔ تاہم سیاست میں عوامی تائید کے رجحانات تبدیل ہوتے دیر نہیں لگتی۔ سیاسی لیڈروں کو مقبولیت برقرار رکھنے کے لئے عوام کی توقعات پر پورا اترنا پڑتا ہے۔ شدید معاشی مشکلات سے بدحال اور سیاسی تعطل سے پریشان عوام کی نگاہیں یقیناً نواز شریف کی رہنمائی کی منتظر ہیں۔ اگر اس مرحلے پر انہیں مایوس کیا گیا تو مسلم لیگ کے ساتھ نون کا لاحقہ لگانے سے بھی کوئی مقصد حاصل نہیں ہوگا۔

نواز شریف کو علالت کے باوصف بلکہ اپنی ناقص صحت کے پیش نظر ہی اپنی سیاسی وراثت منتقل کرنے کے لئےفوری اور مؤثر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر وہ کسی مضبوط اور پر عزم شخص کو اپنے سیاسی مشن کا وارث نہ بنا سکے تو ان کی قربانیاں، صعوبتیں اور چالیس سال کا سیاسی سفر رائیگاں جائے گا۔ اس مقصد کے لئے انہیں اپنی خاموشی توڑنا ہوگی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.