Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

اسرائیل اور سعودی عرب کا واضح پیغام: جو بائیڈن اب کیا کرینگے؟(حصہ اول)

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

آصف شاہد

 

جمعہ کے روز ایران کے جوہری پروگرام کے معمار محسن فخری زادہ کو تہران کے نواحی علاقے آب سرد میں قتل کردیا گیا، جو اس ہفتے کی بڑی خبر ہے، لیکن اس خبر سے پہلے اسرائیلی وزیرِاعظم کے دورہ سعودی عرب اور امریکی وزیرِ خارجہ کی موجودگی میں سعودی عرب کے مستقبل کے بادشاہ سے ہونے والی ملاقات کی بڑی خبر بھی سامنے آئی تھی۔ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا تھا کہ مسلح افراد نے محسن فخری زادہ کی گاڑی پر فائرنگ کی — فوٹو: اے ایف پی اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوسری مدتِ صدارت کا الیکشن ہار چکے ہیں، لیکن ان کے وزیرِ خارجہ نے انتخابی نتائج کے بعد مشرق وسطیٰ کا اہم اور طویل دورہ کیا جبکہ ان کے واپس جاتے ہی امریکا کے قائم مقام وزیرِ دفاع کرسٹوفر ملر ’تھینکس گوِنگ‘ کا تہوار فوجیوں کے ساتھ منانے کے بہانے خطے میں آن وارد ہوئے اور ابھی تک وہیں موجود ہیں۔امریکی وزیرِ خارجہ کے دورہ مشرق وسطیٰ کے دوران ہی امریکی مرکزی کمان نے اعلان کیا کہ اس کے بی52 طیاروں نے مختصر نوٹس پر طویل فاصلے پر موجود ہدف کو کم سے کم وقت میں نشانہ بنانے کی مشق کی ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اسٹوری شائع کی کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے کسی جوہری پروگرام کے مقام پر حملے کے لیے اپنی قومی سلامتی ٹیم سے مشاورت کی ہے۔ پھر امریکی اور اسرائیلی میڈیا نے اسرائیلی وزیرِاعظم کے دورہ سعودی عرب کے فوری بعد رپورٹ شائع کی کہ ایران پر ممکنہ امریکی حملے اور ایران کی جوابی کارروائی کے پیش نظر اسرائیلی قیادت نے فوج کو تیاریوں کی ہدایت کردی ہے۔ یہ تمام خبریں خطے میں ایک نیا اور خطرناک منظرنامہ پیش کر رہی ہیں اور ان سب میں ایک ربط موجود ہے۔سب سے پہلے تو بات کرتے ہیں امریکی وزیرِ خارجہ کے دورہ مشرق وسطیٰ اور اس دوران اسرائیلی وزیرِاعظم کی نئے بسائے گئے سعودی ساحلی شہر نیوم میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ہونے والی ملاقات کی۔ اگرچہ سعودی وزیرِ خارجہ اس ملاقات کی تردید کرتے ہیں لیکن اسرائیلی وزیرِاعظم کا دفتر باضابطہ تصدیق کے بجائے اس خبر کو لیک کرکے تماشائی بنا ہوا ہے۔امریکا، اسرائیل اور سعودی عرب کے 3 بڑوں کی ملاقات جو سعودی حکام کے مطابق ہوئی ہی نہیں، اسرائیلی اور امریکی راوی کہتے ہیں کہ اس ملاقات میں گفتگو کا مرکز و محور ایران ہی تھا۔ اگرچہ اس ملاقات میں سعودی اسرائیل تعلقات معمول پر لانے پر بھی بات ہوئی لیکن فوری طور پر معاہدہ طے نہیں پا سکا، مگر اس دورے سے کئی اہم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔

سعودی اور اسرائیلی حکمرانوں کا سب سے اہم مقصد تو یہ تھا کہ نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کو اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہی ایک مضبوط اور مو¿ثر پیغام دیا جائے کہ وہ اپنے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے اپنی دشمنی اور اختلاف بھلا کر ایک صفحے پر آسکتے ہیں اور ایران کے عزائم کے خلاف دونوں اکٹھے ہیں۔جو بائیڈن ایران کے ساتھ مذاکرات چاہتے ہیں اور جوہری پروگرام پر ہونے والے بین الاقوامی معاہدے میں واپسی کے ارادے رکھتے ہیں، جو سعودی عرب اور اسرائیل کی شدید مخالفت کے باوجود ڈیموکریٹ انتظامیہ نے کیا تھا۔

سعودی اور اسرائیلی حکمرانوں کو صدر ٹرمپ کی صورت میں وائٹ ہاو¿س میں ایسا اتحادی مل گیا تھا جس نے ایران کے جوہری پروگرام پر بین الاقوامی معاہدے سے ناصرف نکلنے کا اعلان کیا تھا بلکہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباو¿ کی پالیسی اپنا کر اسے معاشی طور پر اس قدر مجبور بنا دیا تھا کہ وہ القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے کوئی بڑی اور کھلی کارروائی بھی نہیں کرسکا تھا۔اگرچہ سعودی تیل تنصیبات کو یمنی باغیوں کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا رہا لیکن ایران کا بدلہ شاید پورا نہیں ہو پایا۔ ایران سعودی عرب کے ساتھ خطے میں کئی پراکسی جنگوں میں مصروف ہے لیکن بائیڈن انتظامیہ اگر اوباما دور کی پالیسی پر واپس آتی ہے تو سعودی عرب کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی بھی ایران دشمن پالیسی کمزور پڑ سکتی ہے۔ اسرائیل بھی ایران کے ساتھ خفیہ جنگی کارروائیوں میں مصروف ہے اور شام میں ایرانی مفادات پر فضائی حملے کرتا رہتا ہے۔سعودی عرب کے شاہ سلمان 2 ریاستی حل سے پہلے اسرائیل کا وجود تسلیم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے لیکن محمد بن سلمان نے اس خفیہ میٹنگ سے یہ اشارہ دے دیا ہے کہ انہیں 2 ریاستی حل سے پہلے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔

بظاہر تو شاہ سلمان کی زندگی میں باضابطہ سعودی اسرائیل تعلقات کا امکان نظر نہیں آتا، لیکن محمد بن سلمان نے اس ملاقات کے ذریعے بائیڈن انتظامیہ کی توجہ چند دیگر مسائل سے ہٹانے کی کوشش کی ہے، جن کے متعلق انہیں خدشہ ہے کہ وہ وائٹ ہاو¿س کے ساتھ ان کی رسم و راہیں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ ان مسائل میں یمن کی جنگ، انسانی حقوق کارکنوں کی گرفتاریاں اور واشنگٹن پوسٹ کے صحافی جمال خشوگی کے قتل جیسے معاملات شامل ہیں۔اسرائیلی وزیرِاعظم نے سعودی ولی عہد سے ملاقات کی خبر خود لیک کی اور ملاقات سے پہلے دونوں فریقوں میں طے پایا تھا کہ اس لیک پر اعتراض نہیں کیا جائے گا بلکہ دوسرا فریق صرف تردید پر اکتفا کرے گا۔اسرائیلی وزیرِاعظم نے اپنے زیرِ استعمال رہنے والے ایگزیکٹو جیٹ کو استعمال کیا، اور تل ابیب سے ریاض کے لیے پرواز فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا سے چھپائی نہیں جاسکتی تھی۔ اس مخصوص جہاز سے اسرائیلی وزیرِاعظم کے ریاض جانے کے اشارے صاف مل رہے تھے اور پھر بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے خود خبر لیک کرنی شروع کی اور اس کے ساتھ ہی نیتن یاہو کی ہی جماعت سے تعلق رکھنے والے اسرائیلی وزیرِ تعلیم نے اسرائیلی فوجی ریڈیو سے گفتگو میں خود تصدیق کرکے وزیرِاعظم دفتر سے لیک کے تاثر کو مضبوط کیا۔اسرائیل میں قومی سلامتی امور سے متعلق رپورٹنگ ممنوع ہے اور سینسر فوری حرکت میں آتا ہے لیکن سینسر حکام کا خاموش رہنا بھی سوچی سمجھی لیک کے تاثر کو پختہ کرتا ہے۔اسرائیلی وزیرِاعظم نے اس لیک سے اندرونی اور بیرونی سیاست میں بیک وقت کئی شکار کیے۔ سب سے پہلے تو ان کے سب سے بڑے حریف لیکن اس وقت مخلوط کابینہ کا حصہ، وزیرِ دفاع بینی گانتز کو شرمندہ کیا گیا، جو پاور شیئرنگ فارمولا کے تحت ایک سال بعد وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے خواب سجائے بیٹھے ہیں۔ دراصل اس لیک پر بینی گانتز نے بیان دیا کہ خبر لیک کرنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔نیتن یاہو نے اس سے پہلے عرب امارات کے ساتھ مذاکرات سے بھی بینی گانتز کو لاعلم رکھا تھا، یوں نیتن یاہو نے اسرائیلی ووٹرز کو پیغام دیا کہ خفیہ سفارتکاری میں بینی گانتز کو شریک نہیں کیا جاسکتا۔ نیتن یاہو نے بائیڈن انتظامیہ کو بھی پیغام دیا کہ وہ ایران کے متعلق ٹرمپ کی پالیسی رول بیک کرنے سے باز رہیں ورنہ امریکا کو خطے میں کوئی نہیں پوچھے گا اور ایران کے معاملے پر پورا خطہ یک زبان ہے۔اسرائیلی وزیرِاعظم 4 سے 5 گھنٹے سعودی سرزمین پر موجود رہے، اس لیے کھوج لگائی گئی کہ اس قدر طویل ملاقات میں کیا کچھ زیرِ بحث آیا۔ تمام ذرائع اس بات پر متفق ہیں کہ ایران مرکزی موضوع تھا لیکن منصوبے کیا تھے اس پر الگ الگ رپورٹنگ ہوئی۔ایک بات جس پر تمام میڈیا ہاو¿سز کی رپورٹنگ متفق نظر آئی وہ یہ تھی کہ ایران پر حملہ زیرِ بحث آیا تاکہ بائیڈن کو 2015ءکے جوہری معاہدے پر واپسی سے روکا جاسکے۔ یہی مقصد ٹرمپ انتظامیہ کا بھی ہے۔(جاری ہے)

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.