Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

پاکستانی حکام ممبئی حملوں کے 19 مفرور ملزمان کو پکڑنے سے قاصر کیوں ہیں؟(آخری حصہ)

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

شہزاد ملک

ممبئی حملہ سازش تیار کرنے کے مقدمے کے مرکزی ملزم زکی الرحمن لکھوی کے سابق وکیل خواجہ حارث نے بی بی سی کو بتایا کہ سنہ 2012 میں وہ انڈیا جانے سے پہلے اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت سے تمام احکامات لے کر گئے تھے جس میں گواہوں کے بیانات کے علاوہ ان پر جرح کا حکم بھی شامل تھا۔ا±نھوں نے کہا کہ انڈیا میں اس مقدمے کی کارروائی بھی ویسے ہی چلنی تھی جیسے پاکستان میں لیکن فرق صرف یہ تھا کہ اس عدالتی کارروائی کی نگرانی انڈین جج نے کرنی تھی۔ا±نھوں نے کہا کہ ان انڈین کے بیانات ریکارڈ کرنے سے پہلے ہی اس وقت کے ممبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے حکم دیا تھا کہ ان افراد کے صرف بیانات قلمبند کیے جائیں گے جبکہ ان پر جرح نہیں ہو گی۔ا±نھوں نے کہا کہ جس مجسٹریٹ کی عدالت میں یہ کارروائی چل رہی تھی ان کو درخواست کی گئی کہ اجمل قصاب جس کو ممبئی حملوں کا مرکزی ملزم قرار دیا جا رہا ہے کو عدالت میں پیش کیا جائے لیکن یہ درخواست مسترد کر دی گئی جبکہ اس کے بعد اس مجسٹریٹ پر جرح کرنے کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی جس نے اس حملے کے مرکزی کردار اجمل قصاب کا ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کیا تھا۔واضح رہے کہ اس قانون کے تحت ملزم جرم کے ارتکاب کا اقرار کرتا ہے اس بیان کے بعد جس عدالت میں یہ مقدمہ چل رہا ہوتا ہے اس کو یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا ملزم نے یہ بیان اپنی رضامندی سے دیا ہے یا کوئی اور معاملہ ہے۔ا±نھوں نے کہا کہ جتنے بھی گواہوں نے بیانات ریکارڈ کروائے ہر ایک کے بیان کے بعد وہ عدالت سے جرح کرنے کی استدعا کرتے تھے جو مسترد کر دی جاتی۔خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ قانون کی نظر میں اگر کسی گواہ پر جرح نہ کی گئی ہو تو اس کے بیان کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ اس لیے پاکستان میں ابھی تک ان بیانات کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ا±نھوں نے کہا کہ انڈین حکومت نے دوبارہ پاکستانی حکام کو انڈیا آ کر ان افراد، جن کے بیانات قلمبند کیے گئے تھے، پر جرح کرنے کی اجازت دی لیکن یہ اجازت اس وقت ملی جب اجمل قصاب کو سزائے موت دی جا چکی تھی۔ا±نھوں نے کہا کہ اس مقدمے میں انڈیا کے دو شہریوں کو بھی اجمل قصاب کے ساتھ مقدمے میں شامل کیا گیا تھا اور ان پر بھی مجرم کی اعانت کا الزام تھا تاہم بعدازاں انھیں اس مقدمے سے بری کر دیا گیا۔رہا ہونے والوں میں فہیم انصاری اور صباالدین احمد شامل ہیں۔خواجہ حارث سے پہلے ان کے والد خواجہ سلطان ذکی الرحمن لکھوی کے پہلے وکیل تھے تاہم ان کی وفات کے بعد خواجہ حارث نے یہ ذمہ داریاں سنبھالی تھیں تاہم کچھ عرصے کے بعد ا±نھوں نے بعض وجوہات کی بنا پر ذکی الرحمن لکھوی کے مقدے کی پیروی کرنے سے معذرت کر لی تھی۔خواجہ حارث سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے خلاف محتلف عدالتوں میں چلنے والے مقدمات کی پیروی کر رہے ہیں۔اس مقدمے کے سابق پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ انڈیا کے ان گواہوں کو پاکستانی عدالت میں پیش ہونے کے لیے پاکستانی وزارت خارجہ نے انڈیا کو جو 14 ڈوزئیر لکھے تھے ان کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جمع تو ضرور کروا دیا گیا ہے لیکن اس کو مقدمے کے ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا۔
ممبئی حملوں کے ملزمان کے ایڈووکیٹ رضوان عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ایک ‘زیرو ایویڈینس’ (یعنی جس میں کوئی شواہد نہیں ہیں) کیس ہے کیونکہ یہ ایک جھوٹا کیس ہے۔انھوں نے کہا کہ ملزمان پر الزام بھی غلط ہیں اور جھوٹ اور بدنیتی پر مبنی کیس بنایا گیا ہے جس سے میرے مو¿کلوں کا کوئی لینا دینا نہیں۔ایف آئی اے کے شواہد کے متعلق بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہمارے خلاف پراسیکیوشن نے 87 کے قریب گواہان پیش کیے ہیں لیکن کچھ ثابت نہیں کر سکے ابھی تک۔ جن جگہوں سے ایف آئی اے شواہد جمع کرنے کا دعویٰ کرتی ہے ان سے ان کے مو¿کلوں کا کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔انھوں نے کہا کہ انڈیا سے بھی کئی ڈوزیئرز پاکستان منگوائے گئے جن میں ڈی این اے، کال ڈیٹا ریکارڈ وغیرہ شامل تھے لیکن ان میں سے کسی سے بھی ان کے مو¿کلوں کا تعلق جوڑا نہیں جا سکا۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ اگر ملزمان کے وائس سیمپل کی اجازت مل جاتی تو کیا ملزمان کے لیے مشکل ہو سکتی تھی جس پر انھوں نے کہا یہ تو بعد کی بات تھی پہلے پراسیکیوشن ان نمبرز اور لوکیشن کا تعلق تو ملزمان سے ثابت کرتے۔انھوں نے کہا کہ وائس ریکارڈنگ کی اجازت ہمارے بنیادی حقوق کے خلاف تھی اسی لیے عدالت نے بھی اس چیز کی اجازت نہیں دی۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ان کے مو¿کل ذکی الرحمٰن لکھوی کا لشکر طیبہ سے کبھی بھی کوئی تعلق نہیں رہا۔ ’ہم نے لشکر طیبہ کے خلاف ایک کیس کیا تھا کہ اس کا جماعت الدعوہٰ سے کوئی تعلق نہیں اور اس سلسلے میں ایک عدالتی فرمان ( ڈگری) بھی ہمارے پاس موجود ہے۔ لشکر طیبہ ایک خالصتاً کشمیریوں کی جماعت ہے جس کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں۔‘جب ان سے سوال کیا گیا کہ ذکی الرحمٰن لکھوی کس مذہبی یا سیاسی جماعت کی نمائندگی کرتے ہیں تو ان کے وکیل نے بتایا کہ ان کا کم از کم لشکر طیبہ سے کوئی تعلق نہیں۔ان کا جماعت الدعوة سے کوئی تعلق ہے یا نہیں، ا س پر رضوان عباسی کا کہنا تھا کہ اس بارے میں انھوں نے کبھی ان (لکھوی) سے پوچھا نہیں۔’میرے مو¿کلوں پر ممبئی حملے کی سازش اوراعانت جرم کے الزامات ہیں جس پر وہی سزا ملتی ہے جو اصل جرم کی ہوتی ہے اور اس میں چونکہ 166 لوگوں کی موت ہوئی تھی تو اس میں بھی زیادہ سے زیادہ موت کی سزا ہو سکتی ہے۔‘انھوں نے کہا کہ وہ اس کیس کے ساتھ سنہ 2013 سے منسلک ہیں اور یہ بات دعوے سے کہہ رہے ہیں کہ استغاثہ تو ابھی تک یہ ثابت نہیں کر سکی کہ اجمل قصاب ایک پاکستانی تھا یا نہیں کیونکہ ان کا کیس تھا کہ اجمل قصاب در اصل اجمل عزیز کھوکھر ہے اور ہم نے یہ ثابت کیا ہے کہ اجمل عزیز کھوکھر کوئی اور شخص تھا۔انھوں نے بتایا کہ استغاثہ نے انڈیا جا کر کچھ گواہوں کے بیانات قلم بند کیے تھے اور اب وہ انھیں یہاں لانے کی کوشش میں ہے جس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ ’یہ اسغاثہ کا حق ہے کہ جہاں سے بھی وہ گواہ لائے اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔‘ان کے مطابق کیس کی اگلی شنوائی دسمبر میں ہوگی اور وہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ کیس جلد اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے اور ان مو¿کل بے گناہ ثابت ہوں گے۔
سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے تحت یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ ہم اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اور یہ اصول دونوں ممالک، انڈیا اور پاکستان پر لاگو ہوتا ہے۔’ممبئی ہو، پٹھان کوٹ ہو یا سمجھوتہ ایکسپریس ایسے واقعات نہیں ہونے چاہیں۔‘مشاہد حسین سید کے بقول ممبئی حملوں کا معاملہ کافی حد تک نمٹ گیا تھا کیونکہ اس وقت ڈاکٹر من موہن سنگھ کی حکومت تھی اور انھوں نے ہمارے نئی دہلی میں موجود اس وقت کے ہائی کمشنر کے ذریعے پیغام بجھوایا تھا کہ اس معاملے کو وہ مزید بڑھنے نہیں دیں گے اور اس سے لڑائی بڑھائی نہیں جائے گی۔انھوں نے کہا کہ مودی کے سخت گیر رویے کی وجہ سے دوطرفہ تعلقات میں مسئلہ بڑھا ہے لیکن دونوں ملکوں کے پاس بات چیت کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔’یہ ڈائیلاگ نہ صرف دو حکومتوں کے درمیان بلکہ دونوں ملکوں کی افواج اور سکیورٹی کے اداروں کے درمیان بھی ہونے چاہیں۔ ایسا کوئی کرین ایجاد نہیں ہوا جو انڈیا کو یا ہمیں اٹھا کر کہیں اور لے جائے، انھوں نے بھی یہیں رہنا ہے اور ہمیں بھی۔ اس لیے رو لز آف دی گیم بننے چاہیں دونوں اطراف میں۔‘
وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے بتایا کہ پاکستان کبھی بھی دہشت گردی کو سپورٹ نہیں کرتا اور ’ممبئی والا بھی ہم نے تو نہیں کروایا نا۔‘فواد چوہدری کے مطابق یہ تو چھوٹے موٹے واقعات ہیں جو بد قسمتی سے ہوتے رہتے ہیں اور ہم انھیں سپورٹ نہیں کرتے اور نہ ہی ایسے واقعات کو سپورٹ کیا جا سکتا ہے جس میں دونوں اطراف معصوم لوگ مرتے ہیں۔’ہم دہشت گردی کو سپورٹ نہیں کرتے لیکن انڈیا بھی اپنے لوگوں پر ظلم بند کرے۔ ہمارے تعلقات انڈیا کے ساتھ ممبئی حملوں کی وجہ سے نہیں بلکہ کشمیر کی وجہ سے خراب ہیں۔‘انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان بنیادی مسئلہ دہشت گردی نہیں بلکہ کشمیر ہے۔ ’باقی چیزیں کبھی ہوتی ہیں کبھی نہیں ہوتیں۔کبھی حالات اچھے ہو جاتے ہیں اور کبھی پھر خراب ہو جاتے ہیں۔‘فواد چوہدری نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے اندر زیادہ تر دہشت گردی انڈیا کرواتا ہے جس کی مثال کلبوشھن جادھوکی صورت میں موجود ہے جبکہ انڈیا میں زیادہ تر دہشت گردی میں اس کے اپنے لوگ ملوث ہوتے ہیں۔فواد چوہدری نے کہا پاکستان نے تو کشمیر سمیت ہر مسئلے پر بات کرنے کے لیے انڈیا کو کہا ہے لیکن اب کشمیر کے ساتھ انھوں نے جو کیا ہے اس کے بعد کیا بات ہوگی؟ اگر کشمیر کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے تو ساری چیزیں خود ہی حل ہو جائیں گی۔انھوں نے مزید کہا کہ انڈیا کے ساتھ تعلقات کے کئی پہلو ہیں جن میں سے دہشت گردی بھی ایک ہے۔ ان کے بقول ’یہ (امن) صرف ہماری خواہشوں پر نہیں ہونا، تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ جتنا ہندوتوا انڈیا میں بڑھ چکا ہے اب مجھے لگتا ہے دونوں ملکوں کے درمیان امن ایک خواب ہی رہے گا۔‘

Leave A Reply

Your email address will not be published.