Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

پولیو وائرس 4 وجوہات سے پھیلتا ہے

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

عالمی سطح پر وائلڈ پولیو وائرس سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی غرض سے رواں برس متعدد معلوماتی مہمات چلائی گئیں، جن میں بنیادی طور پر ان 2 آخری ممالک میں ہے جو پولیو وائرس کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں، ان میں افغانستان اور پاکستان شامل ہیں۔

یہ عام تاثر پایا جاتا ہے کہ دنیا میں کوئی بھی بچہ پولیو وائرس سے متاثر ہونے کے خطرے سے اس وقت تک محفوظ نہیں رہ سکتا جبکہ دنیا کے ایک بھی ملک میں وائرس موجود ہے۔

جہاں میڈیکل سائنس عالمی سطح پر اس مرض کا خاتمہ کرنا چاہتی ہے، وہیں پاکستان اس مقصد کی مکمل حمایت کرنے اور اس میں اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

پولیو کے پھیلاؤ کی عام سی وجوہات

ان بنیادی طریقوں کی فہرست مندرجہ ذیل ہے جن کے ذریعے وائرس پھیلتا ہے۔

فرد سے فرد کے درمیان رابطے سے

پولیو وائرس 4 وجوہات سے پھیلتا ہے

وائلڈ پولیو وائرس بنیادی طور پر متاثرہ شخص کے گلے اور آنتوں میں موجود ہوتا ہے اور منہ یا ناک کے ذریعے دوسرے انسان کے جسم میں داخل ہوسکتا ہے۔

فضلہ-اورل اور منہ سے منہ کے ذریعے

اگرچہ پولیو وائرس بہت سے طریقوں سے ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہوسکتا ہے لیکن پھیلاؤ کا سب سے بڑا ذریعہ فضلے یا منہ کا راستہ ہے۔

وہ مقامات جہاں حفظان صحت کے اعلی معیار کو برقرار رکھا جاتا ہے، وہاں وائرس صرف منہ سے منہ کے ذریعے پھیلتا ہے۔

آلودہ پانی، کھانے اور مشروبات کے ذریعے

پولیو وائرس 4 وجوہات سے پھیلتا ہے

یہ مرض عام طور پر اس وقت پھیلتا ہے جب وائرس جسم میں داخل ہوتا ہے، بنیادی طور پر یہ ناک یا منہ کے ذریعے ان کھانے پینے کی اشیا کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے جس میں وائرس اسٹرین (strain) موجود ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ وائرس کچے یا پوری طرح نہ پکے ہوئے کھانے اور متاثرہ شخص کے فضلے سے آلودہ پینے کے پانی یا مشروبات کے ذریعے بھی سفر کرتا ہے لیکن یہ اتنا عام نہیں ہے۔

کھلی جگہوں پر رفع حاجت سے

صفائی کے ناقص طریقوں بشمول کھلی جگہوں پر رفع حاجت، کھانا کھاتے سے قبل یا ٹوائلٹ کے استعمال کے بعد ہاتھ نہ دھونا دیہی علاقوں اور کچی آبادیوں میں عام ہیں۔

جو بچوں میں انتہائی متعدی سے وائرس پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

بڑھتے ہوئے آلودہ ماحول میں تھوڑی بہت یا آگاہی نہ ہونے سے، متعدی وائرس کے ہاتھوں پاکستانی بچوں کی صحت کو بہت زیادہ خطرہ درپیش ہے۔

جب کوئی بچہ وائلڈ پولیو وائرس سے متاثر ہوتا ہے تو وائرس منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے اور آنتوں میں جاکر متاثر کرنا شروع جاتا ہے۔

 

اس سال پولیو سے لڑنے کیلئے پاکستان کیا کر رہا ہے؟

اگرچہ پولیو وائرس اب بھی پاکستان میں بہت زیادہ پھیل رہا ہے، ایک ترقی پذیر ملک جہاں بچوں کی اموات کی شرح میں اضافہ، صفائی کی بنیادی سہولیات کی کمی اور بڑھتی ہوئی غذائی قلت جیسے مسائل موجود ہیں، نائیجیریا جیسے ممالک کچھ بنیادی لیکن مستقل کوششوں سے اس وائرس سے لڑنے کے قابل تھے۔

ان ممالک نے متعدی وائرس کے خلاف مسلسل آگاہی سیشنز اور بڑے پیمانے پر حفاظتی ٹیکوں کی مہمات میں سرمایہ کاری کی جس سے اس وائرس کا خاتمہ کیا گیا۔

ملک بھر میں حفاظتی ٹیکوں کی بڑھتی مہم اور آگاہی کے سرگرم پروگرامز کے ساتھ، پی پی ای پی پراعتماد ہے کہ پولیو کیسز میں اضافے میں جلد ہی کمی آئے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.