Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

اختر مینگل کیساتھ اگر اے این پی بھی مل جائے تو حکومت نہیں گرا سکتے : وزیراعلیٰ بلوچستان

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ(آن لائن)وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت کو گرانے کیلئے سردار اختر مینگل کے ساتھ اے این پی بھی شامل ہوجائے باقی 6اراکین کہاں سے لائیں گے اپوزیشن کو ایوانوں اور سڑکوں پر واوا تو نہیں کرسکتے واویلا توکرسکتے ہیں اپوزیشن صبر کریں آنے والے الیکشن 2023 میں ہوگا پی ڈی ایم میں تضاد ہے اور ایجنڈا بھی واضح نہیں ہے اپوزیشن کو جعلی مینڈیٹ اس وقت یاد آتی ہے جب ان کی حکومت نہ ہو بلوچستان میں پہلی دفعہ بی این پی نے نیشنل پارٹی کو شکست دیا ہے جمعیت علماءاسلام نے پشتونخوا میپ کو شکست دی ہے اب کس کا مینڈیٹ چوری ہوا ہے یہ دھاندلی کافیصلہ خود کریں بی اے پی میں انہی پارٹیوں سے مایوس ہوکر ٹوٹ کر آئیں ہیں بلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پی ایس ڈی پی میں 70ارب روپے رکھے تھے پچھلے حکومتوں نے 80سے 90ارب خرچ کئے مگر گراﺅنڈ میں کچھ نظر نہیں آرہا ہے ہم نے تمام اضلاع میں برابری کی بنیاد پر 4ارب کے پروجیکٹس چل رہے ہیں ان خیالات کااظہار وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ڈی ایم نے اپناجو تحریک شروع کیا ہے سیاسی حوالے سے وہ اگر صرف عمران خان یا وزراءتک ہوتی یا گورنمنٹ کی کارکردگی کرپشن تو ایک سوالیہ بن سکتا تھا لیکن پی ڈی ایم اے کے پلیٹ فارم سے آج وہ باتیں پہلی دفعہ ہم سن رہے ہیں میرے خیال میں ملک میں انتشار پھیلانے کی بات ہے ہم نہ صرف حکومت کی بات سن رہے ہیں اور اداروں کی باتیں بھی سن رہے ہیں اداروں کے بڑے شخصیات کی باتیں بھی سن رہے ہیں ہم عمران خان سے بیٹھ کر ملک کی بقاءکی با ت کررہے ہیں ہمارے الفاظ غلطی سے بلوچستان سے علیحدگی کی بات کر جاتے ہیں اس پلیٹ فارم سے ایسی ایسی باتیں سن رہے ہیں جو صحیح ہی نہیں کررہی ہیں ان سارے 11جماعتوں سے ڈاکٹر مالک کھڑے ہوتے ہیں سی پیک کی مخالفت کرتے ہیں دوسرا کھڑا ہوتا ہے سی پیک کو ناکام کرنے کی باتیں کرتے ہیں اور تیسرا کھڑے ہوکے ثناءاللہ زہری کی حکومت کو جنرل عاصم باجوہ نے گرائی ہے اتنا بڑا تضاد ہے پی ڈی ایم کے اندر اور اسی کا ایجنڈا بھی واضح نہیں ہے انہوں نے کہا کہ اختر مینگل نے بھی جاتی امراءکا دورہ کر لیا ہے وہاں پر مریم نواز سے ملکر آئیں ہیں 15سال پہلے سردار اختر مینگل نے اپنے تقاریر سے کوئٹہ ،قلات،خضدار،مکران کے اندرن بلوچوں کو پنجابیوں کیخلاف اکسانے اور اپنے تقریروں سے کوئی نا ئی اور پڑوسیوں کو اغواءکرنے لگ گئے تھے سردار اختر مینگل 15سال پہلے بھول گئے آج پنجاب خود جارہے ہیں اور اپنی زیارتیں خود پیش کررہے ہیں سردار اخترمینگل کو جعلی مینڈیٹ اس وقت یادا ٓتا ہے کہ اپنی حکومت نہ ہو انہوں نے کہا کہ پنجاب کو دیکھا کتنے سیٹیں لی سندھ کے اندرپیپلزپارٹی نے ریکارڈ میں پہلی دفعہ سب سے زیادہ سیٹیں لی ہیں بلوچستان کے اندر بلوچستان نیشنل پارٹی ،جمعیت علماءاسلام نے پہلی دفعہ اتنے زیادہ سیٹیں لی ہیںبلوچستان میں مینڈیٹ کس کا خراب ہوا ہے وہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا ہوا ہے ایک سیٹ جیت سکے اور نیشنل پارٹی کو ایک سیٹ بھی نہیں ملی ہے یہ لوگ اپنی مینڈیٹ خود ظاہر کریں کہ پہلی دفعہ بی این پی مینگل نے نیشنل پارٹی کو شکست دی ہے جمعیت علماءاسلام نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کو شکست دی ہے اب یہ خود فیصلہ کریں کہ دھاندلی کہاں ہوئی ہے بی اے پی میں وہ لوگ نہیں ہیں جوزندگی میں پہلی دفعہ سیاست کرنے آئے ہیں میرے دادا 70سال سے الیکشن لڑرہے ہیں صالح بھوتانی 40سال سے سیاست کررہے ہیں ،جان جمالی ،عبدالرحمان کھیتران،میر طارق مگسی،قدوس بزنجو عرصہ دراز سے الیکشن لڑرہے ہیں انہوں نے کہا کہ جب میاں نواز شریف کی حکومت تھی اس کابینہ کا میں حصہ تھا ہم نے دو سال بعد کہنا شروع کر دیا تھا کہ ہم بلو چستان میں پارٹی اور ہمارے موقف کو آگے بڑھانا ہے ہم پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے موقف کے تحت کام نہیں کرسکتے ہیں ہمارے تین سال تک کسی نے بات نہیں سنی اور تین سال میں اپنے پارٹی کو میاں نواز شریف نے گھاس تک نہیں ڈا لا یہ وہی لوگ جمع ہوئے اور اتفاق رائے ہوا انہوں نے کہا کہ میں نے دو دفعہ مسلم لیگ(ن) سے استعفیٰ دیا شاہد خاقان عباسی گواہ ہے بی اے پی پارٹی ہم خیال لوگوں سے بنی ہے زیادہ تر لوگ مسلم لیگ(ن) سے مایوس ہوکر علیحدگی اختیار کر کے بی اے پی میں شامل ہوئے تھے ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا تو ہم نے خود ہی باپ پارٹی بنائی اور انہی پی ڈی ایم کے اندر جماعتوں سے ٹوٹ کر بی اے پی جماعت بنی ہے جب الیکشن میں ہم نے 19سیٹیں جیتے اور ہمارے ساتھ اتحادی جماعتوں سمیت آزاد اور تحریک انصاف شامل ہوئے اور ہم نے کوئٹہ اور خضدار ڈویژن سے ایک بھی سیٹ نہ جیت سکیں سرفراز بگٹی ڈیرہ بگٹی سے اور نواب چنگیز مری کوہلو سے ہار جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں شخصیات کے ووٹ زیادہ ہیں اور پارٹیز کے ووٹ نہ ہونے کے برابر ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگ ٹوٹ کر کہاں جائیں گے اور کون لے جائے گا ہمارے لوگ شاید پر سے ایسے اشارے دے رہے ہیں کہ جی ہمیں کسی کی مدد کی ضرورت ہے اگر اپنے بازوﺅں پر کرنا ہے تو کرلیں جمعیت اور بلوچستان نیشنل پارٹی سمیت سارے ملکر 23اراکین ہیں اور حکومت گرانے کیلئے کم از کم 33اراکین چاہیے عدم اعتماد لانے کیلئے کیا بی اے پی ،پی ٹی آئی،عوامی نیشنل پارٹی یا ہمارے اتحادیوں کو تھوڑیں گے عوامی نیشنل پارٹی ہمارے ساتھ حکومت میں ہے اور وفاق میں اپوزیشن کی کردار ادا کررہے ہیں اگر عوامی نیشنل پارٹی کے 4اراکین اپوزیشن کے ساتھ شامل ہوجائے تو پھر 27ہوجائیں گے باقی 6اراکین کہاں سے آئیں گے یہ ان کیلئے سوال ہے کہ آپ نے جس مقصد کیلئے پی ڈی ایم بنا یا ہے پھر وہی لوگوں سے سائیڈ والے کمروں میں بات چیت کرنا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پچھلی حکومتوں نے سی پیک کے بڑے پروجیکٹس نہیں دیکھے ہیں وہ پیکج کی بات کرتے ہیں وہ پیکج این ایف سی ایوارڈ سے تھا جنرل مشرف کے بعد بلوچستان میں کوئی بھی بڑا پروجیکٹ بتا دیں میں ”معذرت“کروں گا آج بلوچستان میں عمران خان نے دو رویہ روڈ ،ڈیم اور گوادر میں پہلی دفعہ ایئر پورٹ پر کام شرو ہوگیا ہے ملک میں کوویڈ19کے بعد وزیراعظم عمران خان کے سامنے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے امید ہے آئندہ چار مہینے کے اندر ان چیلنجز کو عبور کرینگے دنیا کی مارکیٹیںکورونا وائرس کی وباءسے بیٹھ گئی بلوچستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ سب سے زیادہ پیسہ خرچ ہوا ہے پچھلے سال کی پی ایس ڈی پی میں 70ارب روپے رکھے تھے اور پچھلے حکومتوں نے بھی 80سے 90ارب روپے خرچ کئے تھے مگر گراﺅنڈ میں کچھ نہیں تھا حکومت بلوچستان نے ہر ڈسٹرکٹ میں برابری کی بنیاد پر پیسے خرچ کررہے ہیں گزشتہ حکومتوں میں لسبیلہ میں 10ارب اور پشین میں ایک ارب خرچ ہوتا تھا آج پشین میں ہمارا ایک رکن اسمبلی نہیں ہے ان کے اضلاع میں اتنا ہی خرچ ہورہا ہے جتنا میرے حلقے کے اندر ہورہا ہے بلوچستان کے ہر ڈسٹرکٹ میں 4ارب سے زائد پروجیکٹس چل رہے ہیں اس میں اسکول،روڈ،ڈیم،تعلیم،صحت چل رہے ہیں

Leave A Reply

Your email address will not be published.