Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

مسلم دنیا اور اسرائیل کیساتھ تعلقات

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

متحدہ عرب امارات کا اسرائیل کیساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کا فیصلہ مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بدلتے سیاسی منظرنامے کا غماز ہے گوکہ یہ بحالی تعلقات کوئی اچھنبے کی بات نہیں البتہ پاکستان کو اس فیصلے کے بعد کئی پہلوو¿ں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس فیصلے کے بعد پاکستان کیلئے یہ ناگزیر ہو چکا تھا کہ وہ فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے پر اپنا مو¿قف کھل کر واضح کرے۔ ہمارے محکمہ خارجہ کی طرف سے یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ اگرچہ مشرق وسطیٰ کا امن واستحکام اسلام آباد کیلئے کلیدی اہمیت کا حامل ہے البتہ فلسطین کے حوالے سے ہم اپنے تاریخی موقف پر قائم ہیں۔ بعد ازاں وزیراعظم پاکستان کی جانب سے بھی اس بیان کی تائید کی گئی کہ پاکستان فلسطینیوں کو ان کے حقوق ملنے تک کسی صورت بھی اسرائیل کو قبول نہیں کرے گا۔ یہ وضاحتیں اس لئے بھی نہایت اہمیت کی حامل ہیں کہ گزشتہ برس ایک اسرائیلی خبر رساں ادارے میں پاکستان اور تل ابیب کے مابین سفارتی تعلقات بحال ہونے کے حوالے سے کئی طرح کی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں، البتہ زمینی حقائق اس سے زیادہ پیچیدہ ہیں۔ پاکستان کی جانب سے ایسی کسی بھی کاوش سے پہلے اسے عوام کے اسرائیل مخالف جذبات اورشدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ وہ جذبات ہیں جو عوام کے دلوں میں فلسطین کیساتھ ہمدردی ہونے کے سبب گہری جڑیں رکھتے ہیں۔ پاکستان میں اس معاملے پر اپنا مو¿قف بیان کرتے اعلیٰ سطحی پالیسی بیانات اور اسرائیل کیساتھ تعلقات منقطع رکھنے کے بیانئے کو بھرپور عوامی حمایت حاصل رہی اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کے بیرونی دباو¿ کو ماننے سے یکسر انکار کر دیا گیا۔ اس بات میں اب کوئی شبہ باقی نہیں رہا کہ امریکہ کی حمایت یافتہ یہ ڈیل ایران کیخلاف محاذ کو مستحکم کرنے کیلئے کی گئی ہے کہ اس کے خطے میں بڑھتے اثر ورسوخ کو خلیجی ممالک سمیت امریکہ اور اسرائیل بھی اپنے لئے بڑاخطرہ سمجھتے ہیں۔ سعودی اور اماراتی سنی مسلم اتحاد کو ترکی کی جانب سے حمایت یافتہ اور ایران کی بڑھتے علاقائی اثر ورسوخ کو عداوت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ چین، ترکی اور ایران کے بڑھتے تعلقات بھی ان خدشات میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ ایران اس وقت چین کیساتھ چار سو ارب ڈالر کے معاہدے طے کر رہا ہے۔ یہ اس کی چین کیساتھ پچیس برسوں پر محیط شراکت داری ہوگی جس میں وہ بیجنگ کو تیل فروخت کرنے کے بدلے اس مقام تک رسائی حاصل کرلے گا کہ جہاں وہ امریکہ کی پابندیوں سے خود کو آزاد کرا سکے اور بڑی مالی امداد کا بھی اہل ہو جائے۔ پاکستان کے سعودیہ کیساتھ تاریخی تعلقات اور ایران کیساتھ سرحدی بندھن اسے اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہ کوئی ایسا فیصلہ نہ کرے جسے نبھانے کی خاطر ہماری وزارت خارجہ کو مشکل کا سامنا کرنا پڑے۔ ان دونوں ممالک کیساتھ خوشگوار تعلقات ہماری ضرورت ہیں اور ایک دوجے پر سبقت لے جانے کیلئے بچھی اس بساط پر کسی بھی چال کا حصہ بننا ہمارے ملک کے اندر اور آس پڑوس میں شدت پسندی کی آگ کو بھڑکا سکتا ہے۔ اس کے بعد پاکستان کو بھارت اور خلیجی ممالک کے بیچ گہرے ہوتے تعلقات پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ عرب خلیجی ممالک کی طرف سے جموں وکشمیر میں جاری بھارتی جارہیت کیخلاف آواز بلند نہ کرنے کے پیچھے بھی یہی بڑھتی پینگیں ہیں۔ کئی عرب ممالک کا بالاکوٹ پر بھارتی حملے کے بارے چپ سادھے رہنا ان خدشات کو اور بھی مضبوط کر دیتا ہے۔ پاکستان کے ریاض کیساتھ تعلقات پر بھی اسی باعث منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں کہ انہوں نے کشمیر کے معاملے پر ہمارا ساتھ نہیں دیا۔ دوسری جانب نئی دہلی کے بیجنگ کے تعلقات کا منقطع ہونا اور تہران سے ٹھنڈے پڑتے تعلق کے پیش نظر ممکن ہے کہ بھارت عرب خلیجی ممالک سے تل ابیب کی مدد لیکر قریب تر ہو جائے کہ اسرائیل تو پہلے سے ہی بھارت کا ایک کلیدی دفاعی ساتھی ہے۔ اس بات میں اب کوئی شبہ باقی نہیں رہا کہ بھارت اور اسرائیل کے بیچ بڑھتے دفاعی تعاون نے پاکستان کو اپنے نشانے پر لا رکھا ہے اور اس بات کا ثبوت ہمیں بالاکوٹ پر بھارتی حملے سے بھی خوب ملتا ہے۔ پاکستان کیلئے یہ بھی خاصی فکر کی بات ہے کہ بھارت کے خلیجی ممالک پر بڑھتے اثر ورسوخ کے سبب مغربی ایشیائ میں ہمارے پاس ترکی اور ایران کے سوا کوئی ایسا ملک نہیں ہوگا جو ہمارے کشمیر کے بابت بیانئے پرکھل کر حمایت کرے۔ ظاہر ہے کہ وہ اس سبب نئی دہلی سے تو اپنے تعلقات خراب کرنے سے رہے۔ اس تمام صورتحال میں پاکستان کو مشر ق وسطیٰ کیساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ گزشتہ برس انہی دونوں ممالک کی جانب سے کوالالمپور سمٹ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ پاکستان کا اس تمام صورتحال میں فرض بنتا ہے کہ وہ کشمیر اور فلسطین کے مسئلے پر اپنی توقعات کے مرکز پر نظرثانی کرے اور ساتھ ہی ساتھ مسلم دنیا میں ا±بھرتے نئے مواقع سے بھی بھرپور استفادہ کرے۔ وقت آگیا ہے پاکستان یہ طے کر لے کہ وہ مسلم دنیا میں اپنا کردار کس طور ادا کرنا چاہتا ہے۔ آیا وہ ترقی اور خوشحالی کے خواہش مند ہر اول دستے کا حصہ بننا چاہتا ہے یا پھر بس دوسروں کے اشاروں پر چلنے والی کٹھ پتلی کا کردار نبھانے پر ہی اکتفا کرنا چاہتا ہے۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.