Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

بچے تو پیدا کر لیے گندم کون پیدا کرے گا؟ : صبا حسین

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

ہم ان الفاظ کو کسی عورت کے جاہلانہ خیالات کہہ سکتے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ یہ ہمارے معاشرے کی عام معاشی حقیقت ہے۔ دیہی علاقوں کے سرکاری ہسپتال کا کبھی جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ ملک کی 60 فیصد آبادی، جو زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے، وہ کس قدر خستہ حال زندگی گزار رہی ہے۔ یہاں محض ایک صنف کی بات نہیں ہو رہی، یہاں پوری انسانی آبادی کی بات ہو رہی ہے۔ ایک طرف گھر کے مرد زمینوں کے تنازعات میں مار ماری کرتے نظر آتے ہیں تو دوسری طرف کا عالم یہ ہے کہ خواتین بار بار زچگی کے عمل سے گزر کر بدحالی کی شکار ہو چکی ہوتی ہیں۔

غذائی توانائی کی کمی کی وجہ سے یہ زچہ کبھی کبھار تو ہسپتال کی چارپائی پر دم توڑ دیتی ہے اور پیچھے غذائیت سے محروم بچوں کا ایک لاوارث انبار چھوڑ جاتی ہیں۔ وجہ صاف ظاہر ہے، بہت سارے گھروں میں خواتین پر بیٹے جنم دینے کا معاشرتی اور خاندانی دباؤ اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ بچے پیدا کرنے کے سوا کوئی آپشن ہی نہیں رہتا۔ بیٹا جنم دینے کا سیدھا سادہ مطلب ہوتا ہے کہ ایک معاشی مدد گار پیدا کیا جائے۔ اسی خواہش کی آڑ میں مانع حمل اقدامات کو گناہ بھی قرار دے دیا جاتا ہے۔

مانع حمل اقدامات کے استعمال پر ایک دو ورکشاپ کروا کے حکومت کو لگتا ہے کہ اس نے تو اپنے طور پر ساری کوششیں کر لی ہیں مگر عوام ہی اتنے “جاہل” ہیں کہ کوئی بات اس کے پلے نہیں پڑتی۔ معذرت کے ساتھ عرض کروں گی کہ سماجی حقیقتوں سے نمٹنا اتنا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ہر معاشرے کے اپنے طور طریقے ہوتے ہیں اور انہی طور طریقوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے عام لوگوں کو اپنی روِش سے ہٹانا ہوتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوتا ہے کہ اس پورے عمل میں وسائل کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔

 

بنگلہ دیش کو ہی دیکھ لیں کہ جب یہ ملک کبھی پاکستان کا حصہ ہوا کرتا تھا تو آبادی میں اضافے کے معاملے میں بہت کم پیشرفت ہوئی کیونکہ توجہ صرف مانع حمل پر تھی۔ جب سے وہ ایک الگ ملک بنا، تب سے وہاں مجموعی صحت پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ خواتین کی ملازمت کی شرح بھی بڑھ گئی ہے۔ لہذا اب بنگلہ دیش میں پیدائش کی شرح دو ہے جبکہ پاکستان کی یہ شرح 3.5 کے قریب ہے۔ بنگلہ دیش کے حوالے سے ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ کسی بھی حکمت عملی میں مردوں کو شامل کیا گیا، جیسے کہ ہمیں پتہ ہے کہ اس پورے خطے کی خواتین کی معاشرے میں فیصلہ سازی انتہائی محدود ہوتی ہے۔ لہذا بورڈ میں مردوں کا ہونا اور مشترکہ باخبر انتخاب کو فروغ دینا ایک اہم اقدام ثابت ہوا ہے۔
اور جہاں تک رہی گناہ اور ثواب کی بات تو ایران کو ہی دیکھ لیں کہ 1988 اور 1996 کے درمیان حکام نے فیملی پلاننگ مہم شروع کرنے کے بعد ایک اوسطا خاندان 5.2 سے کم ہو کر 2.6 بچوں تک رہ گیا۔ ایران نے 18 سال سے کم عمر خواتین یا 35 سال سے زیادہ عمر کی خواتین کے حمل کی حوصلہ شکنی کی۔ ساتھ ہی ساتھ ہر دو حمل کے بیچ تین سے چار سال کے وقفے کی حوصلہ افزائی کی۔

یہ بھی یاد رہے کہ پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔کورونا کے حالیہ ایام کی بات کی جائے تو اس دوران جہاں وسائل میں بھرپور کمی آئی ہے، وہاں آبادی میں مزید اضافے کے بھی پورے پورے خدشات موجود ہیں۔

پاکستانی معاشرتی رویے اور روایات جو بھی ہوں، آبادی کے اعتبار سے وہ انفرادی نہیں ہیں۔ اگر انفرادی ہوتے تو یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔ فیملی پلاننگ جیسے منصوبوں کو کامیاب بنانے کے لیے جہاں تحقیق کی بے حد ضرورت ہے، وہاں ہمارے پڑوسی ممالک بنگلہ دیش اور ایران جیسے ممالک سے بھی سیکھنے کی ضرورت ہے۔

اگر سیکھیں نہیں تو کم از کم کبھی کبھی یہ سوچ لیا کریں کہ ہم عمر میں اپنے سے چھوٹے ملک بنگلہ دیش اور اپنے سے زیادہ قدامت پسند ملک سے بھی گئے گزرے ہیں۔ یا چلو اگر بچے پیدا ہی کرنے ہیں تو  پھر یہ دیکھ لیں کہ گندم کون پیدا کرے گا؟

Leave A Reply

Your email address will not be published.