Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

کیا مسلم لیگ (ن) احسن اقبال کے ذریعے معافی مانگ رہی ہے؟

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

مسلم لیگ (ن) کےسیکرٹری جنرل احسن اقبال کے بیان نے ملکی جمہوری نظام میں فوج کے کردار کے بارے نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپوزیشن لیڈروں کے خلاف جو انتقامی کارروائیاں شروع کی ہیں، ان کےپس پشت فوج کا ہاتھ نہیں ہے ۔ البتہ تحریک انصاف کی حکومت یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ اس کی پالیسیاں فوج کی مرضی و منشا سے تیار ہورہی ہیں۔ ایسے میں ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کے سیکرٹری جنرل کو پہلے خود یہ جواب دینا چاہئے کہ ان کے خیال میں حکومت کی کون سی پالیسیوں  میں فوج براہ راست ملوث ہے اور کیا وہ اور ان کی پارٹی اس طریقہ کار کو جائز و درست سمجھتے ہیں؟

کوئی بھی اپوزیشن کسی بھی حکمران جماعت کو تنقید کا نشانہ بناتی ہے لیکن اس تنقید میں توازن اور دلیل دکھائی دینی چاہئے۔ اگر ایک آئین کے تحت ملک میں قائم جمہوری نظام کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے سیاسی جماعتیں فوج کے سیاسی کردار کے حسن و قبح پر گفتگو کرنے کی بجائے یہ بحث شروع کردیں کہ قومی سیاست کے کس شعبہ میں فوجی مداخلت درست ہے اور یہ اعانت کس سیاسی لیڈر کو فراہم ہونی چاہئے تو اس سے عام شہری، سیاسی لیڈروں کی جمہوریت دوستی اور ملکی آئین سے وفاداری کے بارے میں شبہات کا شکار ہو گا۔

احسن اقبال سے پہلے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف یہ بیان دے چکے ہیں کہ فوج اگر اس سے نصف تعاون بھی مسلم لیگ (ن) کو فراہم کرتی تو ملک کے حالات بدرجہا بہتر ہوتے۔ گویا اصولی طور پر یہ بات تسلیم کی جارہی ہے کہ سیاست میں فوج کی مداخلت امر واقع ہے اور اسے قبول کرکے ہی آگے بڑھا جاسکتا ہے۔ ایسی قیادت سے ملک کے عوام اپنے حق انتخاب اور ووٹ کے احترام وحفاظت کے بارے میں کیا توقع کرسکتے ہیں؟

 

عمران خان کے وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد سے اپوزیشن جماعتیں انہیں نامزد قرار دیتی رہی ہیں۔ یہ اصطلاح مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے یکساں شدت اور تواتر سے استعمال کی ہے۔ 2018 کے انتخابات سے پہلے ’خلائی مخلوق اور محکمہ زراعت‘ جیسی اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے عوام کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی گئی تھی کہ قومی انتخابات میں فوج کی نگرانی اور سرپرستی میں ایسے نتائج سامنے لائے جائیں گے جو عوامی خواہشات کا پرتو نہیں ہوں گے۔

مسلم لیگ (ن) کے بانی قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے 2017 میں اقتدار سے محروم ہونے کے بعد ’ ووٹ کو عزت دو‘ یا ’عوامی حاکمیت‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے عوام کی ہمدردی اور حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان کے اس سیاسی مشن کو ان کی صاحبزادی مریم نواز نے آگے بڑھایا تھا۔ تاہم گزشتہ برس نومبر میں نواز شریف کی بغرض علاج جیل سے لندن روانگی کے بعد سے اس نعرے کو سرد خانے کے سپرد کردیا گیا ہے۔

سیاسی حلقوں اور مباحث میں یہ بات اب کوئی راز نہیں کہ مسلم لیگ (ن) واضح طور سے دو حصوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔ شہباز شریف کی قیادت میں ایک حصہ کسی بھی قیمت پر اسٹبلشمنٹ سے مصالحت اور اس طرح اقتدار تک راستہ کھوجنا چاہتا ہے جبکہ پارٹی میں نواز شریف اور مریم نواز کی حمایت کرنے والے لوگ مصالحت کی بجائے سیاسی میرٹ پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ تاہم یہ بات بھی واضح ہورہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت عمومی طور پر مزاحمت کرنے اور جمہوریت کے لئے کھڑے رہنے کا حوصلہ دکھانے میں ناکام رہی ہے۔

 

کورونا وائرس پھیلنے کے بعد شہباز شریف نے اچانک لندن سے پاکستان آنے کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ وہ اس بحران میں پاکستانی عوام کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ تاہم ان کا یہ بیان سیاسی نعرے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا کیوں کہ مارچ میں پاکستان واپس آنے کے بعد سے انہوں نے زیادہ وقت سیاسی تنہائی میں ہی گزارا ہے۔ وہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیں لیکن اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہونے سے بھی گریز کرتے رہے۔ انہوں نے عید الاضحیٰ سے پہلے عید کے فوری بعد اپوزیشن پارٹیوں کی اے پی سی بلانے کا اعلان کیا تھا لیکن وہ خود اپوزیشن کے اتحاد اور حکومت کے خلاف احتجاج منظم کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

نواز شریف اور مریم نواز کی خاموشی کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی رہی ہے کہ شہباز شریف اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کا راستہ ہموار کررہے ہیں۔ اس طرح شریف خاندان کے لئے سہولت اور مسلم لیگ (ن) کی سیاست کے لئے راستہ فراہم ہو سکے گا۔ ظاہر ہے کہ یہ وہی طریقہ ہے جس کا الزام عمران خان پر عائد کیا جاتا ہے کہ ملک میں اصل حکومت فوج کی ہے اور عمران خان حکومت کے محض ’فگر ہیڈ‘ ہیں۔ اس مؤقف کا صرف یہی مطلب نکلتا ہے کہ ملک میں اپوزیشن اگر کوئی بھی احتجاج منظم کرے گی تو وہ عمران خان کی بجائے ان غیر منتخب اداروں یا افراد کے خلاف ہونا چاہئے جو درحقیقت عمران خان کو وزیر اعظم بنوانے اور ملک پر ان کی حکومت کے تسلسل کا سبب بنے ہوئے ہیں۔

اس صورت حال میں احسن اقبال کا یہ دعویٰ کہ اپوزیشن لیڈروں کے خلاف انتقامی کارروائی حکومت کا کام ہے، فوج اس میں ملوث نہیں ہے، درحقیقت یہ واضح کرتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل سیاست میں عسکری مداخلت کو اصولی طور پر تسلیم کر رہے ہیں۔ اپوزیشن لیڈروں کے خلاف مقدموں کی ذمہ داری تحریک انصاف کی حکومت پر ڈال کر وہ دراصل فوج سے مراسم بحال کرنے کی درخواست دے رہے ہیں۔ کسی بھی جمہوریت پسند کے لئے یہ طرز عمل قابل قبول نہیں ہوسکتا۔

 

’ووٹ کو عزت دو ‘ کی مہم کے بعد بغرض علاج لندن روانگی اور اس کے بعد اختیار کی گئی نواز شریف اور مریم نواز کی خاموشی سے درحقیقت یہی واضح ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اصولی طور پر اب بھی وہیں پر کھڑی ہے جہاں سے میاں نواز شریف نے اپنی سیاست کا آغاز کیا تھا۔ عوام میں یہ تاثر ضرور قائم کیا گیا ہے کہ نواز شریف اب اصول پرست اور نظریاتی ہو چکے ہیں لیکن بظاہر ان کا نظریہ بھی اقتدار کا حصول اور جوابدہی سے ’غیر مشروط معافی‘ ہی ہے۔ البتہ دونوں بھائی اس مقصد کے لئے مختلف ہتھکنڈے اختیار کرتے ہیں۔ شہباز شریف تصادم سے گریز اور نظام کو بچانے کی بات کرتے ہوئے عسکری حلقوں سے مواصلت قائم کرکے رعایت لیتے ہیں۔ اگر یہ رعایت مل جائے یعنی نواز شریف کو ایک جرم میں سزا پانے کے بعد بھی ملک سے جانے کی اجازت مل جائے تو خاموش رہ کر اس کی قیمت چکا دی جاتی ہے۔ اور جب رعایت نہیں ملتی یعنی نیب کی پھرتیاں کم نہیں ہوتیں اور تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ بظاہر عسکری قیادت کے تصادم کی صورت حال دکھائی نہیں دیتی تو حکومت کے ’جرائم‘ پر تیزی سے بیان بازی شروع ہوجاتی ہے۔

شہباز شریف مصالحت سے ’ کام نکلوانا‘ چاہتے ہیں۔ متبادل ہتھکنڈے کے طور پر نواز شریف عوام میں مقبولیت کو دباؤ کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ گزشتہ دنوں مریم نواز کی نیب میں پیشی کے موقع پر کیا جانے والا سیاسی شو اور اس کے بعد نواز شریف کی لندن سے رابطہ سازی کی مہم سے اس حکمت عملی کا دوسرا رخ سامنے آیا ہے۔ دونوں کا مقصود شریف خاندان کی مشکلات سے نجات اور مسلم لیگ (ن) کی سیاست کے لئے سہولت حاصل کرنا ہے۔ بس اس مقصد کے لئے شہباز اور نواز شریف مختلف ہتھکنڈے اختیار کرتے ہیں۔ ان کے درمیان بظاہر کوئی اصولی سیاسی اختلاف موجود نہیں ہے گو کہ اس کا تاثر مضبوط طریقے سے قائم کیا گیا ہے۔

اگر یہ اختلاف موجود ہے اور نواز شریف کی سیاست واقعی اصولوں اور ملک میں جمہوریت کی حقیقی بحالی کے نظریہ پر استوار ہوچکی ہے تو انہیں چپ کا روزہ توڑنا پڑے گا۔ خاص طور سے اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل کی طرف سے سیاست اور فوج کے بارے میں غیر جمہوری بیان کے بعد نواز شریف کو یہ وضاحت کرنا ہوگی کہ ان کے نام سے چلنے والی مسلم لیگ اب اقتدار کی دوڑ میں شامل ہونے کی بجائے عوام کے حق انتخاب کو تسلیم کروانے کی جد و جہد کرے گی۔ یا یہ سمجھ لیا جائے کہ میاں نواز شریف اور مسلم لیگ (ن)نے برسر عام احسن اقبال کے ذریعے فوج سے معافی کی درخواست کی ہے۔

تحریک انصاف اور عمران خان کے خلاف بیان بازی کرتے ہوئے تمام اپوزیشن جماعتیں عام طور سے اور مسلم لیگ (ن) خاص طور سے اس بے یقینی کا شکار ہیں کہ ان کے منہ سے کوئی ایسی بات نہ نکل جائے جس سے اسٹبلشمنٹ کو ان کی ’وفاداری‘ پر شبہ ہو۔ یعنی ملک کے تمام اہم سیاسی لیڈروں نے کسی نہ کسی طور سے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ معروضی حالات میں ملکی فوج کو سیاسی فیصلوں سے مکمل طور سے دور نہیں رکھا جاسکتا۔ ملکی سیاسی قوتوں کا یہ طرز عمل نہ صرف آئین کے برعکس ہے بلکہ جمہوریت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہؤا ہے۔ جب تک سب سیاسی جماعتیں سیاسی معاملات میں کسی بھی قسم کی ادارہ جاتی مداخلت کے خلاف یک آواز نہیں ہوں گی، اس وقت تک حقیقی جمہوری نظام کی بنیاد رکھنا ممکن نہیں ہے۔

 

موجودہ حکومت کی ناکامیوں اور ناقص فیصلوں پر زبان دراز کرنے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہئے کہ ان فیصلوں کا اصل محرک کون ہے۔ اگر اپوزیشن بھی انہی عناصر کی سرپرستی سے تحریک انصاف کے خلاف ’سیاسی بغاوت‘ کا راستہ ہموار کرنا چاہتی ہے تو یہ لڑائی جمہوریت کی بجائے مفاد اور اقتدار کی جنگ ہو گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.