Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

بحیرۂ اسود میں گیس کے نئے ذخائر ترکی کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں؟

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

رواں ماہ 21 اگست کو ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اعلان کیا تھا کہ ترکی نے اپنی تاریخ کے سب سے بڑے قدرتی گیس کے ذخائر دریافت کیے ہیں۔

صدر اردوغان نے کہا کہ گیس کا یہ ذخیرہ 320 ارب مربع میٹر ہے جسے ترکی کے سمندر میں کھدائی کرنے والے اس جہاز نے دریافت کیا ہے جو 20 جولائی سے بحیرۂ اسود میں ترکی کی سمندری حدود میں گیس کی تلاش کر رہا تھا۔

جب سے یہ ذخیرہ دریافت ہوا ہے ماہرین اس کے ممکنہ معاشی اور سیاسی اثرات پر بحث کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بحیرۂ روم میں پائے جانے والے قدرتی وسائل پر بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی موضوعِ بحث ہے۔

اس کا اعلان کیسے کیا گیا؟

اس دریافت کا حکومت کی جانب سے بہت چرچا کیا گیا۔ صدر اردوغان نے 19 اگست کو کہا کہ وہ جلد ہی ایک ایسی خبر سنانے والے ہیں جو ایک نئے دور کا آغاز ہو گی۔

صدر اردوغان کے اعلان سے پہلے اور بعد میں حکومت کی جانب سے میڈیا پر اسے خوب اچھالا گیا کہ ترکی نے بحیرۂ اسود میں ’ٹونا ون‘ کنویں میں قدرتی گیس کے ذخائر دریافت کیے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سنہ 2023 تک گیس کے اس ذخیرے کا استعمال شروع کرنا ان کا ہدف ہے۔ سنہ 2023 میں ہی ترکی کو ایک جمہوریہ بنائے جانے کی 100 ویں سالگرہ ہے۔

یہ کتنا اہم ہے؟

ترکی کی سرکاری نیوز ایجسنی اندولو کے مطابق ترکی کو سالانہ 45 ارب کیوبک میٹر قدرتی گیس کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس وقت ترکی اپنی ضرورت کی صرف ایک فیصد گیس پیدا کرتا ہے اور باقی 99 فیصد وہ روس، آزربائیجان اور ایران سے پائپ لائنوں کے ذریعے درآمد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ امریکہ، ناروے، قطر، الجزائر سے مائع گیس بھی درآمد کرتا ہے۔

ترکی میں قوم پرست حزبِ اختلاف کے اخبار کے مطابق یہ نئے ذخائر سنہ 2019 میں ملک میں گیس کے استعمال کے لحاظ سے اگلے سات برس کے لیے کافی ہوں گے۔ گیس کے ان نئے ذخائر کی مجموعی مالیت ممکنہ طور پر 80 ارب ڈالر ہے لیکن اس کی پیداوار پر چھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

لیکن انرجی پالیسی کے ماہر سینسر ایمر نے حزبِ اختلاف کے اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ترکی کے پاس اس گیس کو نکالنے کے لیے مطلوبہ ٹیکنالوجی اور صلاحیت نہیں ہے۔

ترکی کے صحافی مصطفیٰ کارالیغلو نے اوپیک ممالک کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر گیس کو نکالنے کا کام سستا ثابت ہوا تو اس دریافت کی وجہ سے ترکی کو گیس کے ذخائر کے لحاظ سے دنیا میں 32 واں نمبر حاصل ہو جائے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.