Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

حکومت دہرے دباﺅ میں(آخری حصہ ) 

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

راحت ملک

 

چنانچہ اب جبکہ حکومت کرونا( بلکہ پی ڈی ایم) سے خائف ہے اور عوام سے ایس او پیز پر سنجیدہ عمل کی ہدایت کررہی ہے تو لوگ حکومت کی بات پر دھیان دینے سے گریزاں ہیں۔دیگر اسباب کے ساتھ حکومت کی ناقص پالیسیوں کے نتیجے میں جنم لینے والی بے پناہ مہنگائی بے روز گاری غربت افلاس اور اشیاءضروریہ سے محرومی نے عوام میں کرونا کے خلاف اقدامات کے خلاف گہری مزاحمت پیدا کی ہے۔حزب اختلاف کی بڑھتی احتجاجی تحریک روکنے سیاسی مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے سے حکومت کے انکار نے سیاسی درجہ حرارت میں شدید ابھار پیدا کیا ہے۔حکومت پی ڈی ایم کے جلسوں پربراہ راست کرونا پھیلانے کا الزام عائد کررہی ہے۔ حالانکہ گزشتہ ہفتے تک حکومتی جماعت نے سیاسی اجتماعات منعقد کئے جی بی کے انتخابات اور انتخابی مہم انہی ایام میں انجام پذیر ہوئی جب کرونا کے پھیلنے کی اطلاعات ملکی و عالمی ذرائع پر ارزاں ہورہی تھیں حکومت نے جی بی انتخابات میں ہر ذریعے سے اپنی جیت ممکن بنا نے کےبعد اپنے جلسے منسوخ کئے وزیراعظم اس اعلان سے ٹھیک ایک روز قبل سیاسی اجتماعات سے خطاب کر چکے تھے جہاں انہوں نے فیس ماسک پہننے کا تکلف بھی روا نہیں رکھا تھا۔

امریکہ جہاں کرونا سے زیادہ تباہی ہورہی ہے 20 نومبر کو صدارتی انتخابات مکمل ہوئے انتخابی مہم میں لاکھوں افراد جمع ہوئے پاکستان میں محترم مولانا خادم رضوی کی نماز جنازہ میں لاکھوں افراد کاجم غفیر لاہور میں دیکھا گیا حکومت نے اس اجتماع کو روکنے کے لئے کسی قسم کا اقدام کیا نہ ہی کوئی وارننگ جاری کی نہ حکومت کی رٹ چیلنج کرنے والوں سے آھنی ہاتھ سے نبٹنے کا روائتی بیان داغا۔ لیکن پشاور کے احتجاجی سیاسی جلسے سے قبل وزیراعظم نے ضروری سمجھا کہ وہ دھمکی آمیز تنبیہ جاری فرمائیں کہ ” پشاور جلسہ سے کرونا پھیلا تو اس کی ذمہ دار پی ڈی ایم ہوگی۔”

یہ برملا بات ہے کہ کرونا وبائ اپنی جگہ لیکن ملک میں متنازعہ انتخابات کے نتیجے میں مسلط شدہ

نااہل حکومت کی ناقص کارکردگی بھی ایک خطرناک سیاسی وباءکی صورت ملک کے ہر شعبے میں موجود ہے۔کرونا تو افراد کو انفرادی طور پر متاثر کرتا ہے کوئی ایک شخص کرونا سے ہلاک ہوتا یا دوسروں تک ادے پھیلا کر زندگی اجیرن کرتاہے جبکہ معاشی انحطاط روزگار کا خاتمہ عام آدمی کی قوت خرید سے باہر نکلی مہنگائی اشیاءضروریہ کی قلت و جی ڈی پی میں ترقی معکوس پورے ملک کی زندگی کو اجتماعی طور پر اجیرن بناتی ہے دریں حالات عوام کے جان ومال صحت زندگی اور معاشی بر بادی سے بچاﺅ کے لئے کرونا اور عمرانا۔ دونوں سے فوری نجات بلکل معقول مطالبہ اور وقتی ضرورت ہے چنانچہ یہ مطالبہ جائز ہوگا کہ پی ڈی ایم کے جلسوں سے کرونا پھیلاﺅ کے خدشے کو ختم کرنے کے لئے حکومت زیادہ سنجیدگی اور خیر خواہی کا عملی مظاہرہ کرے اقتدار سے چمٹے رہنے کی بجائے مستعفی ہوجائے تو احتجاجی سیاست سمیت کرونا کا خدشہ ختم ہو جایےگا ملک کی معیشت سیاست۔ سفارت کاری کی تباہی اور جی ڈی پی کا انحطاط بھی رک جائے گا۔

پی ڈی ایم اور حکومت کے درمیان جو تنازعات موجود ہیں ان میں عوامی جمہوری رائے چرانے کا عمل بہت بنیادی سوال ہے جسے حل کئے بغیر مسائل کا خاتمہ ممکن نہیں۔المیہ ہے کہ جمہوریت کی مدعی ایک حکومت اپوزیشن کے ان مطالبات پر سنجیدہ توجہ دینے یا بہ الفاظ دیگر آزادنہ منصفانہ انتخابات یقینی بنانے سے فاصلہ اختیار کررہی ہے۔الزامات در الزامات کے ماحول میں بڑھتی کشیدگی خطرناک ہوسکتی ہے دریں حالات اگر فریقین۔

الف۔۔اتفاق کر لیں کہ یکم جنوری 2021 تک حکومتیں تحلیل کر کے

1۔ وسیع البنیاد سیاسی حکومتیں قائم کی جائیگی جو آزادانہ منصفانہ انتخابات کا انعقاد یقینی بنانے غیر سیاسی محکموں کی مداخلت روکنے کے لئے موثر میکنزم تشکیل دیں گی۔

2. اور یکم مارچ کو تمام اسمبلیاں تحلیل ہو جائیں گی بعد ازاں نگران حکومتیں جون 2012 کے پہلے ہفتے تک انتخابات کراکے اقتدار و اختیار یقینی طور نو منتخب حکومتوں کو منتقل کرینگی جو شراکت اقتدار کے رائج نسخے سے مکمل مبرا ہو گا

3۔ وسیع البنیاد حکومت تمام ریاستی محکموں کو آئین کی پاسداری وبالادستی تسلیم کرنے پر قائل مجبور یا رضا مند کرینگی۔

4۔ الیکشن کیشن کو مکمل خود مختار ادارہ بنایا جائے گا جو انتخابات کے بعد تمام ابتخابی عذر داریوں کو چھ ماہ میں منطقی انجام تک پہنچانے کا پابند ہوگا۔الیکشن کمیشن کسی بھی سطح کے سرکاری اہلکار. ادارے کی سیاسی عمل وانتخابات میں دخل اندازی۔یا اثر انداز ہونے پر ملازمت سے برخاست کر کے قانون کے مطابق سزا دینے کا مجاز ہوگا۔

5۔جون2021میں نئے عام انتخابات ہونگے جس کے بعد سینیٹ کے نصف ارکان کا انتخاب عمل میں آئے گا.

تو شاید پی ڈی ایم کے لئے احتجاجی تحریک ختم کرنا ممکن ہوسکے بصورت دیگر پی ڈی ایم تحریک سے بچنے کے لئے کرونا کا سہارا لینے کی حکومتی پالیسی اس کے لئے ناقابل برداشت سماجی بوجھ بن سکتی ہے کیونکہ مکمل لاک کے بغیر حکومت پی ڈی ایم کے جلسے نہیں روک سکےگی۔جلسے روکنے کے لئے کرونا کے نام پر مکمل لاک ڈاﺅن ناگزیر ہوگا۔

کیا پی ڈی ایم کے لئے یہ ایسا عمل نہیں ہوگا جو عوام کے وسیع حلقوں کو حکومت کے مقابل صف آرا کر دے گا۔؟

پی ڈی ایم جلسے ملتوی نہیں کرے گی اور احتجاج کو زیادہ پرو زور بنائے گی یہ اس کی تحریک کی کامیابی کے لئے لازمی ہے جبکہ حکومت کے انتظامی اقدامات تصادم پیدا کرینگے جو حالات میں مزید سنگینی لایے گا۔ اور کرونا کے نام پر مکمل لاک ڈاﺅن ہی پی ڈی ایم کے جلسوں سے کچھ تحفظ سے دے سکا تو ادکے ساتھ سماج کی وسیع پرتوں تاجر محنت کش کاریگر دکاندار دیہاڑی دار غریب اور نچلے متوسط طبقے کو حکومت کے مقابل صف آر کردے گا ہر دو صورتوں میں پی ڈی ایم کے اغراض کی تکمیل ممکن ہے اور حکومت عقل کے ناخن سے محروم ہونے کا گہرا کرتے ہوئے ” میں نا مانوں کی ” کا راگ الاپ کر ہر روز اپنے زوال اور سیاسی خودکشی کی طرف بڑھ رہی ہے کیونکہ سیاسی عدم بصیرت ایسے ہی حادثات کا باعث ہوا کرتی ہے اور اب بھی اس کا امکان ہلے سے زیادہ اور واضع طور پر موجود ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.