Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

ملک کے اصل وا ر ث کون؟

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

ڈاکٹر ابراہیم مغل

ملک کی معاشی صورت حال کیاہے؟ ملک کی سیاست آئندہ کیا رخ اختیار کرنے والی ہے؟ ملک کو اس وقت جس بحران کا سامنا ہے اس سے ملک کیونکر نکل پائے گا؟ معزز قارئین کرام! ہم اور آپ یہ سب جاننے کے لیے پرنٹ میڈیا یعنی اخبارات کا اور الیکٹرانک میڈیا یعنی ٹی وی وغیرہ کا رخ کرتے ہیں۔ان سب سوالوں کے جوابات موجودہ حکمرانوں سے منسوب ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ حکمران کسی سیاسی پارٹی کے سرکردہ سیاستدان ہوتے ہیں۔ مگر آپ غور فرمائیں تو دیکھیں گے کہ بظاہر جوابات یا بیانات تو حکمران سیاستدان جاری کرتے ہیں لیکن ان سب کے پیچھے ان بابوﺅں کا دماغ ہوتا ہے جو اس ملک میں اول دن سے نظر آئے بغیر تسلط جمائے بیٹھے ہیں۔ جب بھی ملک میں کوئی نئی سیاسی پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو بیوروکریسی کے بابوﺅں کا ٹولہ اس کے لیے سرکاری پیچیدگیوں کا ایسا جال ب±ن دیتا ہے جس کا حل ڈھونڈنے کے لیے سیاست دانوں کو انہی بابوﺅں کی جانب ر±خ کرنا پڑتا ہے۔ یوں یہ بابو حکومت کی باگ ڈور ہمیشہ اپنے ہاتھوں میں رکھتے ہیں۔ سیاست دانوں کا حکومت پر تسلط صرف اخبارات اور ٹی وی کی خبروں تک ہی محدود رہتا ہے۔ مشاہدے کی بات یہ ہے کہ سخت لفظوں میں کی گئی تنقید کبھی کسی شخص کو اتنا نقصان نہیں پہنچاسکتی جتنا TONGUT OILY یا کہہ لیجیے موقع بہ موقع خوشامد نقصان پہنچاسکتی ہے۔ ہمارے ملک کے بابو خوشامد کے آرٹ میں یدطولیٰ رکھتے ہیں۔ انہیں اس ملک سے کو ئی دلی وا بستد گی نہیں ہو تی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے بچے یو رپ اور امر یکہ میں بظا ہر تعلیم کی غر ض سے مقیم ہو تے ہیں ،لیکن طے شد ہ پر وگرا م کے مطا بق وہ ان مما لک کی شہر یت اختیا ر کر کے وہیں کے ہو رہتے ہیں۔ اپنی نو کر ی سے ریٹا ئر منٹ حا صل کر لینے کے بعد یہ با بو بھی مستقل بنیا دو ں پر ان مما لک کا رخ اختیا ر کر تے ہیں۔

میں خود اگر کبھی اپنی گزشتہ زندگی پر نظر دوڑاتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ میرے بچپن کا دو ر جنر ل ایوب خان کی حکمرانی سے پر تھا۔ بے شک جنرل ایوب کے دور میں ملک نے قابل قدر ترقی کی مگر یہی وہ دور تھا جب ملک میں بیوروکریسی کا بول بالا تھا۔ آسان لفظوں میں سمجھ لیجئے کہ حکومت کی پس پردہ پالیسیوں پہ بابوﺅں کے فیصلے کارفرما تھے۔یہ ایک سادگی اور غربت کا زمانہ تھا۔ میڈیا عام نہ تھا۔ آزاد تو ہرگز نہ تھا۔بیوروکریٹس کے کیے گئے فیصلے حرفِ آخر ہوا کرتے تھے۔ فائلوں کی درخواستوں پر سرخ فیتہ لپٹ جانا انہی دنوں کی اصطلاح تھی۔ ان سب بابوﺅں کے سپہ سالار تھے قدرت اللہ شہاب۔ وہی قدرت اللہ شہاب جن کے بارے میں حفیظ جالندھری نے تنگ آکر کہا تھا

جب کہیں انقلاب ہوتا ہے

قدرت اللہ شہاب ہوتا ہے

یہ بابو جہاں ملک کی اندرونی و بیرونی پالیسیوں پر اثر انداز ہوئے وہیں مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے درمیان فاصلے پیدا کرنے میں ان کا بڑا ہاتھ تھا۔ یہاں تک کہ دسمبر 1971ءمیں مشرقی پاکستان مکمل طور پر علیحدہ ہوگیا۔یہ تو خیر یادش بخیر میرے بچپن کا قصہ تھا مگر امر واقعہ یہ ہے کہ ملک میں خواہ کسی سیاسی پارٹی نے بھی حکومت کی حکومت کی اصل باگ ڈور انہی بابوﺅں کے ہاتھ میں رہی۔ کیا یہ اس ملک کا المیہ نہیں کہ یہاں کوئی بھی سیاسی جماعت اپنی مدت پوری نہیں کر پائی۔ وہ مشکلات کا شکار ہو کر حکومت سے نکلی۔ جہاں تک موجودہ سیاسی پارٹی یعنی تحریک انصاف کی حکومت کا تعلق ہے تو اسے مشکلات کے جال میں پھنسانے کے لیے بابوﺅں کو بمشکل چھ ماہ کا قلیل عرصہ لگا۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے برعکس عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف کو بیوروکریسی سے نپٹنے کا کوئی تجربہ نہ تھا۔ اپنے اپنے مخصوص مفادات کے تحت بیورکریسی میں بابوﺅں کے مختلف دھڑے یا ٹولے ہوتے ہیں۔ ان ٹولوں کے سرکردہ بابوﺅں نے موجودہ حکمرانوں کے یوں کان بھرے کہ اپنی بہتری انہی بابوﺅں کے کیے گئے فیصلوں میں نظر آئی۔ چنانچہ ان بابوﺅں نے اپنے ٹولے کے ارکان کے سوا کسی کو موجودہ حکمرانوں کے قریب پھٹکنے نہ دیا۔ اب صورت حال کچھ اس حد تک گھمبیر ہوچکی ہے کہ پارٹی کے حکمران سیاستدان تو اپنی بقا کے لیے اندھیرے میں ہاتھ پاﺅں ما ررہے ہیںاور ان کو اس حال تک پہنچانے والے بابو ایک طرف اطمینان سے بیٹھے دہی سے روٹی کھا رہے ہیں۔اس سلسلے میں اگر ملک کے اہم ترین صو بے پنجا ب کا جا ئز ہ لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ وہا ں کے وزیرِ اعلیٰ عثما ن بز دار آ ے روز بیورو کریٹس کی تبا دلو ں کی صو رت میں اکھا ڑ پچھا ڑ کر تے دکھا ئی دیتے ہیں۔ مگر بیو رو کر یسی ہے کہ کسی طو ر بھی ان کے قا بو نہیں آ رہی۔ اگر ہم ماضی میں دیکھتے ہیں تو پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ میاں شہباز کے تجربے سے بڑھ کر اس عہدے پر فائز رہنے کا تجربہ کسے ہوگا۔ مگر وہ بھی چند مخصوص بابوﺅں کی چاپلوسی سے نہ نکل پائے۔اپنے طو ر سا بق وز یرِ اعظم ذولفقا ر علی بھٹو نے بیو رو کر یسی کی رو ش در ست کر نے کی غر ض سے تیر ہ سو بیو رو کر یٹس کو ان کی نو کر ی سے فا رغ کر کے گھر بھیج دیا تھا۔ بھٹو صا حب کے اس فیصلے کو عوا می سطح پہ بہت سراہا گیا تھا۔ اور اسے ملک کی تر قی کی جا نب بہتر ین قد م قرا ر دیا گیا تھا۔ مگر آ خر میں ہو کیا ؟یہی ذ و لفقا ر علی بھٹو بھی بابوﺅں کی ریشہ دوانیوں کا شکار ہو کر حکومت سے رخصت ہوئے۔

میری عمر کے قارئین کو یاد ہوگا کہ 1970ءتک ہمارے ملک میں پاسپورٹ کا حصول ایک جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ چنانچہ مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی ملازمتوں سے ہمارے ملک کے عوام استفادہ حاصل نہ کرسکتے تھے۔ یہ ذوالفقار علی بھٹو تھے جنہوں نے پاسپورٹ کا حصول آسان بنادیا۔ یوں ہر درجے کے شہری دھڑا دھڑ ملازمتیں حاصل کرنے کے لیے مشرق وسطیٰ اور دیگر ممالک پہنچنے لگے۔ یہ پاسپورٹ کا حصول اس سے پہلے انہی بابوﺅں نے مشکل بنایا ہوا تھا۔ ہمارے عوام نے ہر دورِ حکومت میں سوچا کہ حکومت بدلنے سے ملک میں خوش حالی آجائے گی لیکن سادہ عوام نہیں جانتے تھے کہ کسی سیاسی پارٹی کے رخصت ہوجانے سے حکومت نہیں بدلتی۔ کیونکہ ملک کے اصل حکمران سیاست دان نہیں بلکہ ملک کے اصل وارث ہیںاس ملک کے بابو۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.