Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

بھارت کا امریکا سے فوجی معاہدہ، مقبوضہ کشمیر میں نیا متنازعہ قانون نافذ

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

نئی دہلی،سری نگر  :   بھارت اور امریکا کے مابین ٹو پلس ٹو مذاکرات، دونوں ملکوں نے پانچ معاہدوں پر دستخط کر دیئے جن میں امریکی حساس سیٹلائٹس تک رسائی کا معاہدہ بیسک ایکسچینج اینڈ کوآپریشن ایگریمنٹ بھی شامل ہے ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اس معاہدے کے نتیجے میں بھارت پہلے مرحلے میں امریکا سے مسلح ڈرون طیارے ، بعدازاں جنگی طیارے حاصل کرسکے گا۔ امریکی وزیر دفاع مارک اسپر نے اسے دونوں ملکوں کے مابین تعلقا ت میں اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا بھارت کو مزید جنگی اور ڈرون طیارے فروخت کرنا چاہتا ہے ۔ نیوز ایجنسی کے مطابق ٹو پلس ٹو ملاقات کے دوران امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور وزیر دفاع مارک اسپر نے مذاکرات کا فوکس چین کو بنایا۔ اس موقع پر مارک اسپر نے کہا کہ چین کی جارحانہ سرگرمیوں کی روشنی میں امریکا کھلے اور آزاد انڈوپیسفک ریجن کی حمایت میں بھارت سمیت دیگر ملکوں کیساتھ کھڑا ہے ۔ مائیک پومپیو نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مذاکرات کے دوران چینی کیمونسٹ پارٹی کے بارے میں جامع گفتگو ہوئی، یہ پارٹی جمہوریت، قانون کی بالادستی، شفافیت اور آزادانہ جہاز رانی کی حامی نہیں ۔ نیوز ایجنسی کے مطابق ملاقات کے دوران بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے براہ راست چین کا نام لینے سے گریز کیا تاہم جے شنکر نے کہا کہ قیام امن اسی صورت ممکن ہے کہ تمام ملک دیگر ریاستوں کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کریں۔ انہوں نے ملٹی پولر ایشیا کا مطالبہ بھی کیا۔ نیوز ایجنسی کے مطابق ملاقات کے دوران امریکی وزیر خارجہ نے بھار ت پر ایف 18 طیاروں کی خریداری اور روسی ہتھیاروں سے انحصار ختم کرنے پر زور دیا۔ دوسری طرف بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں زمینوں سے متعلق نیا متنازعہ قانون نافذ کردیا جس کے تحت بھارت کی کسی بھی ریاست کے شہری مقبوضہ وادی میں اراضی خرید سکیں گے ۔مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بھارتی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے نیا قانون ’یونین ٹریٹری آف جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن(ایڈاپٹیشن آف سینٹرل لاز)تھرڈ آرڈر 2020 کا نفاذ فوری طور پر ہوگا۔اس سے قبل مقبوضہ جموں و کشمیر کے مستقل رہائشی ہی خطے میں اراضی خرید سکتے تھے لیکن اب اس قانون کو ختم کردیا گیا ہے ۔ 5 اگست 2019 کو بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کی جانب سے آرٹیکل 370 کے تحت حاصل مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد کئی قوانین متعارف کروائے جاچکے ہیں۔بی جے پی حکومت نے قانون بنایا تھا بھارت کی کسی بھی ریاست کا شہری مقبوضہ خطے میں جائیداد خرید سکتا اور ملازمت حاصل کرسکتا ہے ۔بھارت نے نیا متنازعہ قانون ایسے وقت میں متعارف کروایا ہے جب مقبوضہ جموں و کشمیر اور دنیا بھر میں کشمیری بھارتی قبضے کے خلاف احتجاجاً یوم سیاہ منا رہے ہیں ۔ سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ٹویٹر پر اپنے بیان میں بی جے پی حکومت کے اس اقدام کی شدید مذمت کی اور کہا مقبوضہ جموں و کشمیر کی زمینوں کی ملکیت کے حوالے سے قانون ناقابل قبول ہے ۔عمر عبداللہ نے کہا اب مقبوضہ جموں و کشمیر کو برائے فروخت کردیا گیا ہے جس سے غریب زمین داروں کو مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا۔ادھر ٹوپلس ٹو ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران مائیک پومپیو نے کہا کہ دونوں جمہوری ملک اپنے لوگوں اور دنیا کی آزادیکے تحفظ کیلئے ایک ہیں۔ ہمارے رہنما اور عوام صاف دیکھ سکتے ہیں کہ چین کی کیمونسٹ پارٹی کا جمہوریت، قانون کی حکمرانی، شفافیت اور آزادانہ جہاز رانی سے کوئی تعلق نہیں جوکہ انڈوپیسفک ریجن کی آزاد ی اور خوشحالی کی بنیاد ہے ۔ امریکی وزیر دفاع مارک اسپر نے کہا کہ بھارت کیساتھ نیا دفاعی معاہدہ بیسک ایکسچینج اینڈ کوآپریشن ایگریمنٹ ایک اہم سنگ میل ہے جوکہ دونوں ملکوں کے افواج کے مابین تعاون کو فروغ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا بھارت کو مزید جنگی طیارے اور ڈرونز فروخت کرنا چاہتا ہے ۔ نئے دفاعی معاہدہ بھارت کو جغرافیائی، بحری اور ہوابازی سے متعلق معلومات تک رسائی دے گا جوکہ میزائلوں اور مسلح ڈرون طیاروں سے نشانہ بنانے کیلئے لازمی خیال کی جاتی ہیں۔ بھارتی دفاعی ذرائع کے مطابق نئے معاہدہ کے نتیجے میں امریکا بھارت کو فراہم جدید ترین آلات سے لیس طیارے فراہم کرے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.