Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

’میں نے کوئٹہ جلسے میں کیا کچھ دیکھا؟‘(حصہ اول) 

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

فواد احمد

 

 

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اتحاد کے جلسوں کی ہیٹ ٹرک کوئٹہ میں ہونی تھی۔ جلسے کی کوریج کے لیے کوئٹہ جانے کے حکم پر لبیک کہنے کے علاوہ کوئی اور آپشن بھی نہیں تھا۔نیکٹا کا متوقع دہشتگردی الرٹ اور بلوچستان حکومت کے ترجمانوں کی جانب سے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر جلسہ منسوخ کرنے کی بار بار اپیلیں، میرے اہل خانہ کو خوفزدہ کرنے کے لیے کافی سے زیادہ تھیں۔جلسے کی صبح نجی ایئرلائن کی پرواز سے کوئٹہ جانے کا قصد کیا۔ جہاز میں ایک سیٹ خالی چھوڑنے اور ناشتہ نا دینے کی کورونا ایس او پی اب ختم ہوچکی ہے، اس لیے جہاز بھرا ہوا تھا۔ ناشتے سے فارغ ہوکر جب نظر دوڑائی تو میرے برابر میں بیٹھے درمیانی عمر کے فرد گفتگو کے لیے سب سے مناسب محسوس ہوئے۔ میرے ہمراہی اسلام آباد کی ایک بڑی سرکاری یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر تھے۔بلوچستان کے حالات پر وہ کہنے لگے کہ بلوچ عوام اپنے حقوق کے لیے پہلے کے مقابلے اب زیادہ سنجیدہ ہیں۔ جلسے کے حوالے سے انہوں نے یہی بتایا کہ پی ڈی ایم کی جن جماعتوں نے جلسہ کرنا ہے وہ اکیلے بھی بڑے بڑے جلسے کرنے کی استعداد رکھتی ہیں اور کوئٹہ شہر کا مینڈیٹ بھی پی ڈی ایم کی اتحادی جماعتوں کے پاس ہے اس لیے جلسہ کامیاب ہی ہوگا۔ پروفیسر صاحب سمجھتے تھے کہ صوبائی حکومت بنیادی عوامی مسائل کی جانب عدم توجہی کی وجہ سے غیر مقبول ہو رہی ہے۔

مقررہ وقت پر جہاز کوئٹہ ایئر پورٹ پر لینڈ کر گیا۔ یہ ایئر پورٹ پرانے اسلام آباد ایئر پورٹ کی طرح چھوٹا لیکن خوبصورت ہے۔ ایئرپورٹ لاﺅنج سے باہر آتے ہی سرد ہوا کے جھونکوں نے استقبال کیا۔ ایک رات پہلے کراچی میں تو اے سی چل رہے تھے لیکن یہاں سردی آچکی ہے۔ ایئرپورٹ کی پارکنگ بالکل خالی نظر آئی۔ باہر ہمارے سینئر صحافی کاظم مینگل موجود تھے۔ ایئر پورٹ کے علاقے میں اب تک موبائل فون سروس موجود تھی۔ کاظم بھائی نے بتایا کہ ایئر پورٹ میں داخلے کی اجازت آج نہیں دی جا رہی کیونکہ گزشتہ رات محسن داوڑ کی گرفتاری پر ایئر پورٹ کے قریب احتجاج کیا جاتا رہا ہے۔کاظم مینگل صاحب کے ہمراہ کوئٹہ شہر کی جانب سفر شروع کیا۔ خوبصورت پہاڑوں اور صنوبر کے درختوں کے درمیان گھرے شہر کے مناظر نے اپنے ماحول میں محو کردیا تھا۔ اتوار کو کوئٹہ کے زیادہ تر بازار کھلے ہوتے ہیں۔ دن کے 10 بج رہے تھے اور ابھی سے شہر کے مختلف علاقوں سے ریلیاں نکلتی دکھائی دے رہی تھیں۔ پورے شہر میں جلسہ کرنے والی جماعتوں کے رنگ برنگ پرچم اور خوش آمدیدی بینر آویزاں تھے۔

12 بجے کے قریب ہم جلسہ گاہ پہنچ چکے تھے۔ میر جعفر خان جمالی روڈ سے ایوب اسٹیڈیم کی جانب راستے کے آغاز پر ہی پولیس اہلکار نے گاڑی سے اتر کر پیدل جانے کا حکم دیا۔ جلسہ گاہ میں میڈیا کے لیے مختص مقام تک پہنچتے پہنچے کم از کم 5 مرتبہ مکمل تلاشی اور 2 مرتبہ واک تھرو گیٹ سے گزرنا پڑا۔ سیکیورٹی کے تمام انتظامات جمعیت علمائے اسلام (ف) کی رضاکار فورس انصار الاسلام کے ذمے تھے۔

ہمارا پہناوا تو مقامی افراد جیسا تھا لیکن کچھ تو اجنبی تھا، اسی لیے ہر تلاشی کے بعد رضا کار کان میں پوچھتے ’فورسز سے ہو’؟ جواب دینا ضروری نہیں تھا اس لیے مسکراہٹ سے ٹالنا بہتر سمجھا۔ ایک موقع پر اس وقت تو حد ہی ہو گئی جب میں ایک قطار میں کسی کے انتظار میں کھڑے بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے کارکنان کی تصویر لینے لگا۔ ایک کارکن نے ناراضگی سے کہا کہ ‘بنا لو تصویر، اچھی طرح پہچان لو ہمیں‘۔ گمان ہوا کہ یہ بھی ہمیں کچھ اور ہی سمجھ رہے ہیں۔

جلسہ گاہ میں میڈیا کا داخلہ کہاں سے اور کیسے ہوگا یہ بھی امتحان ہی تھا۔ کبھی ایک طرف تو کبھی دوسری طرف بھیج دیا جاتا۔ ہر جانب سے دوسرے گیٹ کی طرف بھیجا جاتا رہا۔ اس کے برعکس کراچی جلسے میں میڈیا کے لیے مکمل پلاننگ کے ساتھ بھرپور انتظام تھا۔ اگرچہ رضاکار تو میڈیا کے ساتھ دوستانہ انداز میں پیش آرہے تھے لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہ خود بھی انتظام سے آگاہ نہیں تھے۔ کافی جدوجہد کے بعد جلسہ گاہ میں انصار الاسلام کے انچارج سے ملاقات ہوگئی۔ انہوں نے فوری داخلہ کارڈ جاری کیے اور ساتھ گیٹ پر بھی کہہ دیا کہ میرے دستخط کے بغیر کسی کارڈ کو کارآمد نہ سمجھا جائے۔

جلسہ گاہ کراچی اور گجرانوالہ سے مختلف تھا۔ یہاں کرسیوں کا انتظام نہیں تھا۔ اسٹیڈیم کی دونوں جانب پویلین ہیں۔ ایک پویلین خواتین کے لیے مختص تھا جبکہ دوسرے پر اسٹیج بنایا گیا تھا۔ تماشائیوں کے لیے بنائی گئی سیڑھیاں کارکنان کے بیٹھنے کے لیے استعمال ہوئیں جبکہ اسٹیڈیم کے درمیان میں انگریزی حرف ڈی (D) کی شکل میں کارکنان کے زمین پر بیٹھنے کے لیے انتظام تھا۔

خاردار تار اور اس کے بعد انصار الاسلام کے رضاکاروں کا حفاظتی حصار، یہ 2 چیزیں کارکنان اور قیادت کے درمیان حائل رہیں۔ اسٹیج کی سیکیورٹی کا انتظام بلوچستان کی انسدادِ دہشت گردی فورس کے پاس تھا اور ان کو انصار الاسلام کا ساتھ میسر تھا۔ انسدادِ دہشت گردی فورس کے جوان کسی انگریزی فلم کے کردار کی طرح پینٹ کوٹ اور ٹائی لگائے مستعد کھڑے تھے۔

اسٹیج سے سادہ ڈائس کو ہٹا کر بلٹ پروف ڈائس رکھا گیا جس پر بلوچستان پولیس کا مونوگرام بنا ہوا تھا، یعنی سرکاری ڈائس۔ کوئٹہ کا یہ جلسہ سرِ شام ہی ختم کرنے کا پلان تھا اس لیے اسٹیڈیم میں لائٹ کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔ اسٹیج کی دونوں جانب ڈیجیٹل اسکرینیں نصب تھیں جبکہ لائیو براڈ کاسٹ کے آلات اور طاقتور ساﺅنڈ سسٹم بھی نصب کیے گئے تھے جس سے مختلف جماعتوں کے ترانے بجائے جا رہے تھے۔

جلسہ گاہ کے داخلی راستوں پر موجود دکانیں اور ہوٹل بند کرا دیے گئے تھے۔ اب چونکہ پانی اور کھانے کا کوئی بندوبست اس کے علاوہ نہیں تھا اس لیے اب دن بھر ٹھنڈی ہوا پر ہی گزارہ کرنا تھا۔

جلسہ شروع ہونے کا مقررہ وقت دن ایک بجے دیا گیا تھا۔ فوراً خیال آیا کہ اچھا موقع ہے شرکاءسے ابھی بات چیت کرلی جائے تو بہتر ہے۔ انصار الاسلام کے رضا کار سے اجازت لی کہ بھائی آپ سے سوال ہوسکتا ہے؟ چہرہ گوکہ کرخت دکھائی دے رہا تھا لیکن اخلاق اور بات کرنے کا انداز نرم اور سادہ تھا۔ میں نے فوری سوالات کی ایک قطار لگا دی کہ ’کتنے رضا کار کب سے ڈیوٹی پر ہیں اور کہاں کہاں سے آئے ہیں؟‘

رضا کار مولوی احمد جان نے بتایا کہ 4 ہزار رضا کار گزشتہ رات سے ڈیوٹی پر ہیں۔ وہ خود تو کوئٹہ شہر کے رہنے والے ہیں لیکن رضا کار بلوچستان بھر سے یہاں جمع ہوئے ہیں۔ احمد جان نے فخریہ بتایا انصار الاسلام کے رضا کار نے ہی اس سے قبل کوئٹہ میں ہونے والے خودکش حملے سے مولانا فضل الرحمٰن کو اپنی جان قربان کرکے بچایا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انصار الاسلام کو خاص طور پر ابتدائی طبّی امداد اور جلسوں کی سیکیورٹی سمیت شرکا کو کنٹرول کرنے کی خصوصی تربیت دی جاتی ہے اور باقاعدہ رجسٹر تربیت یافتہ کارکن ہی انصار الاسلام کا رضا کار بن سکتا ہے۔اس کے بعد جلسہ گاہ کا رخ کیا۔ دن ایک بج رہے تھے اور جلسہ گاہ میں اب بھی قافلوں کی آمد کا سلسلہ جاری تھا۔ (جاری ہے)

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.