Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

مزارِ قائد کا تقدس اور ’ایم آر ڈی‘ اور ’پی ڈی ایم‘ تحریک کا اس سے تعلق!(حصہ آخر)

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اختر بلوچ

’آخرکار 2 فروری 1981ءکو تحریک بحالی جمہوریت کی پیدائش ہوئی۔ ایم آر ڈی کے منشور پر دستخط ہونے کی خبر جب لوگوں نے بی بی سی کی نشریات پر سنی تو پاکستان کے طول و عرض میں برقی رو کی طرح دوڑ گئی۔ اس خبر نے لوگوں کو ایک نفسیاتی حوصلہ دیا اور ان کا خیال تھا کہ یہ مارشل لائ حکومت کی ناانصافیوں کے خلاف احتجاج کا ابتدائیہ ہے۔ بے چینی جلد ہی سندھ اور پنجاب میں پھیل گئی، جہاں یونیورسٹی پروفیسر، وکلا اور ڈاکٹر ابھرتی ہوئی تحریک کے احتجاج میں جوق در جوق شامل ہوتے چلے گئے۔ ضیاءسمجھ گیا تھا کہ وہ شکنجے میں پھنس گیا ہے۔ اس نے پورے پاکستان میں تمام یونیورسٹیاں بند کردیں اور 5 افراد سے زیادہ کے اجتماع پر پابندی لگادی، لیکن مظاہرے جاری رہے۔’2 مارچ 1981 میں 70 کلفٹن میں اپنے رہائشی کمرے میں پارٹی کارکنوں کے ایک گروہ کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہوں کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجتی ہے۔ یہ ابراہیم خان ہے جو کراچی میں رائٹرز کا نمائندہ ہے۔ ‘آپ کا اس خبر کے بارے میں کیا ردِعمل ہے؟ کونسی خبر؟ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کا ایک طیارہ اغوا کرلیا گیا ہے۔ کس نے اغواءکیا؟ میں تلملا کر پوچھتی ہوں‘۔ پی آئی اے کا طیارہ اس سے قبل کبھی اغوا نہیں کیا گیا تھا۔ ‘ابھی تک اس کے بارے میں کسی کو کچھ علم نہیں‘، وہ کہتا ہے۔ ‘کوئی شخص بھی نہیں جانتا کہ اغوا کنندگان کون ہیں؟ وہ طیارے کو کہا لے جارہے ہیں اور وہ کیا چاہتے ہیں؟ میں پتہ کرنے کی کوشش کروں گا اور آپ کو باخبر رکھوں گا۔ لیکن کیا آپ مجھے اپنا ردِعمل بتاسکیں گی‘۔ ’ہمارا ایک طیارہ اغوا کرلیا گیا ہے، مجھے بھی صرف اتنا ہی پتہ چلا ہے۔“جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ اس طیارے کے اغوا کی ذمے داری الذوالفقار نامی تنظیم نے قبول کی تھی جس کے رہنما میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو تھے۔ طیارے کے اس اغوا نے ایم آر ڈی کی کمر توڑ دی اور تحریک آہستہ آہستہ معدوم ہوگئی۔اس تحریک نے 1983ء میں دوبارہ جنم لیا اور 12 اگست کو کراچی میں ہونے والے ایک اجلاس میں یہ طے کیا گیا کہ 14 اگست کی صبح 11 بجے تحریک کے رہنما اور کارکن مزارِ قائد پر حاضری دیں گے اور وہاں تحریک کے رہنما خطاب فرمائیں گے۔ کارکنوں کی ایک بڑی تعداد مزارِ قائد پر پہنچ گئی جن کی قیادت غلام مصطفیٰ جتوئی اور معراج محمد خان کر رہے تھے۔ اس موقع پر ضیا حمایت تحریک اور انجمن اتحاد المسلمون کے جلوس بھی وہاں پر پہنچ گئے اور اس کے بعد ایم آر ڈی کے کارکنوں اور ضیا حمایت تحریک کے حامیوں میں تصادم شروع ہوگیا جس کا احوال پروفیسر غفور احمد نے اپنی کتاب ’جنرل ضیا کے آخری 10 سال‘ صفحہ نمبر 138 سے 139 پر یوں بیان کیا ہے۔‘پاکستان کی 36 سالہ تاریخ میں پہلی بار یومِ پاکستان کے مقدس موقع پر مزارِ قائد کے اردگرد ایک انتہائی دلخراش اور افسوسناک صورتحال پیدا ہوگئی۔ مارشل لاءدور میں وجود میں آنے والی ضیائ حمایت تحریک کے کارکن تقریباً 30 ٹرکوں اور ویگنوں پر سوار ہوکر صبح 8 بجے ہی مزارِ قائد پر پہنچ گئے۔ ان ٹرکوں اور گاڑیوں پر صدر ضیا کی تصویروں والے بڑے بڑے پوسٹر چسپاں تھے۔ ان کارکنوں نے مزار کے احاطے میں اپنی پوزیشن سنبھال لی۔ بعد میں جیسے ہی ایم آر ڈی کے افراد وہاں پہنچے تو ان کے اور ضیائ حمایت تحریک کے کارکنوں کے درمیان تصادم شروع ہوگیا۔ لاٹھیوں اور لوہے کی سلاخوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔ بعض افراد چھرے لہرا رہے تھے۔ اس ہڑ بونگ میں قومی پرچم پیروں تلے روندے گئے اور دونوں گروہ ایک دوسرے پر پتھر، جوتیاں اور چپل برسا رہے تھے۔ صبح 10 بجے سے ایک بجے دن تک یہ تصادم ہوتا رہا۔ پولیس بڑی تعداد میں موجود تھی، لیکن وہ د±ور کھڑی یہ منظر دیکھتی رہی۔ اس کی جانب سے دونوں گروہوں کو من مانی کرنے کی کھلی چھوٹ تھی۔ ایک گروہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کا نعرہ لگا رہا تھا تو دوسرا گروہ پاکستان کا مطلب کیا غنڈہ گردی مارشل لاءکا نعرہ بلند کر رہا تھا۔ انتظامیہ کی جانب سے اختیار کیا جانے والا یہ رویہ قابلِ مذمت تھا۔‘

’14 اگست 1983ءصبح 11 بجے کالعدم سیاسی پارٹیوں کے کچھ کارکنوں نے مزارِ قائد پروٹیکشن ایکٹ 1971ءکی خلاف ورزی کرتے ہوئے مزار پر تقاریر اور نعرے بازی کی۔ اس موقع پر مزار پر فاتحہ خوانی کے لیے آنے والے افراد نے ان کے اس عمل کے خلاف اعتراض کیا تو نتیجے میں دونوں گروہوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ بعد ازاں کارکنوں نے مزار سے باہر نکل کر پتھراﺅ شروع کردیا جس کے سبب اسٹریٹ لائٹس اور ایک بینک کے شیشوں کو نقصان پہنچا۔ پولیس نے ان افراد کو منتشر کردیا اور واقعے کا مقدمہ مزارِ قائد آرڈینینس کے تحت درج کرلیا گیا۔‘

ایم آر ڈی کی تحریک 1983ءکے بعد پورے سندھ میں پھیل گئی۔ بعد ازاں پیپلز پارٹی کے رہنما غلام مصطفیٰ جتوئی نے نومبر 1983ءمیں تحریک کو معطل کرنے کا بیان جاری کیا جس کے بعد تحریک اختتام کو پہنچی۔ ایم آر ڈی کی تحریک پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اور بہت کچھ لکھا جانا باقی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.