Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

جیف بیزوس کے اثاثے 200 ارب ڈالرز سے زائد ہو گئے

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

ایمیزون کے بانی اور دنیا کے امیر ترین شخص جیف بیزوس پہلے ایسے فرد بن گئے ہیں جن کے اثاثے 2 کھرب ڈالرز سے زیادہ ہوگئے ہیں۔

فوربز کے تخمینے کے مطابق بدھ کو جیف بیزوس کے اثاثے 204 ارب ڈالرز سے زیادہ ہوگئے تھے جبکہ بلومبرگ کے مطابق اثاثوں کی مالیت 202 ارب ڈالرز تھی۔

دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص اور مائیکرو سافٹ کے شریک بانی بل گیٹس اس وقت 116 ارب ڈالرز کے مالک ہیں یعنی جیف بیزوس سے 88 ارب ڈالرز پیچھے۔

ایمیزون کے بانی کے اثاثے اب امریکی جی ڈی پی کے ایک فیصد کے برابر پہنچ گئے ہیں جو 19 ٹریلین ڈالرز سے زیادہ ہیں (واضح رہے کہ ایک ٹریلین ایک ہزار ارب کے برابر ہوتا ہے)۔

ایمیزون کے حصص میں کورونا وائرس کی وبا کے دوران آن لائن خریداری کے رجحان میں اضافے کے نتیجے میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس کے نتیجے میں جیف بیزوس کے اثاثے بھی اس وبا کے دوران مارچ سے اب تک 97 ارب ڈالرز زیادہ بڑھ چکے ہیں۔

1994ء میں قائم کی جانے والی کمپنی آمیزون اس وقت امریکا سمیت متعدد ممالک میں آن لائن ریٹیل خریداری میں آگے ہے تاہم اسے اصل میں انٹرنیٹ بک اسٹور کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا۔

آج یہ دنیا بھر میں کتابوں سے لے کر لگ بھگ ہر چیز کو آن لائن فروخت کررہی ہے اور اپنے قیام کے 26 سال بعد اس کے اثاثوں کی مالیت 1.7 ٹریلین ڈالرز تک پہنچ چکی ہے اور تجزیہ کاروں کا تخمینہ ہے کہ یہ دنیا کی پہلی ٹریلین ڈالر کمپنی بن سکتی ہے۔

جیف بیزوس کا تعلق ایک متوسط طبقے کے خاندان سے تھا اور انہوں نے اپنی صلاحیت سے اتنی ترقی کی۔ اپنے بچن سے ہی وہ بہت زیادہ تخلیقی ذہن کے مالک تھے اور دو سال کی عمر میں ہی انہوں نے اپنے پنگھوڑے کا سرہانہ سکریو ڈرائیور سے کھول دیا تاکہ اسے حقیقی بیڈ کی شکل دے سکیں جبکہ چار سے سولہ کی عمر کے دوران وہ اپنی گرمیاں ٹیکساس میں اپنے دادا دادی کے فارم مین گزارتے جہاں ونڈ ملز وغیرہ کی مرمت کرتے۔

کمپیوٹر سائنس میں گریجویشن کے بعد انٹیل سے ملازمت کی پیشکش کو ٹھکرا کر انہوں نے فٹ یل نامی کمپنی میں شمولیت اختیار کی اور وہاں سے ایک کمپنی ڈی ای شا کا حصہ بن گئے جہاں چار سال میں ہی سنیئر نائب صدر کے عہدے پر پہنچ گئے۔

1994 میں انہیں ایک مضمون سے علم ہوا کہ انٹرنیٹ کی توسیع ایک سال میں 2300 فیصد تک ہوئی اور ان اعدادوشمار نے انہیں دنگ کردیا جس کے بعد انہوں نے اس سے فائدہ اٹھانے کا ذریعہ تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے بیس ممکنہ پراڈکٹس کی فہرست بنائی جنھیں آن لائن فروخت کیا جاسکے اور کتابوں کو سب سے بہترین آپشن پایا۔

اپنے اس نئے تجربے کے لیے (اس وقت ایسی کوئی آن لائن کمپنی نہیں تھی) انہوں نے ڈی ای شا میں بہترین عہدے کو چھوڑ دیا جس کے بعد انہوں نے ٹیکساس جاکر اپنے والد سے ایک گاڑی ادھار لی جس کے بعد سیٹل جاکر آمیزون ڈاٹ کام کی بنیاد ایک گیراج میں رکھی۔

اس زمانے میں وہ اکثر ملاقاتیں اپنے پڑوسی برنس اینڈ نوبل بک سیلرز میں جاکر کرتے۔ آمیزون کے آغاز کے پہلے ہی مہینے میں اس کمپنی نے امریکا کی تمام پچاس ریاستوں اور 45 مختلف ممالک میں لوگوں کو کتابیں فروخت کیں جس کے بعد 15 مئی 1997 کو اس کے شیئرز عوام کے لیے پیش کیے گئے۔

آغاز میں تجزیہ کاروں نے اسے آمیزون ڈاٹ بم کا نام دیا کیونکہ ان کے خیال میں یہ بہت جلد ختم ہوجائے گی مگر ایسا نہ ہوسکا۔

خیال رہے کہ جیف بیزوس گزشتہ سال 36 ارب ڈالرز سے زیادہ محروم اس وقت ہوگئے تھے جب ان کی سابقہ بیوی میکنزی بیزوس سے علیحدگی ہوئی۔

دنیا کی مہنگی ترین طلاق کے نتیجے میں دنیا کے امیر ترین شخص کے اثاثوں کی مالیت میں کمی آئی جبکہ میکنزی بیزوز ایمازون کے چند بڑے شیئر ہولڈرز میں سے ایک بن گئیں۔

جیف بیزوس نے 29 جولائی کو اپنے حصص کا 25 فیصد حصہ یا 19.7 ملین شیئرز میکنزی بیزوس کو منتقل کیے، تاہم ایمیزون کے بانی کو کمپنی کے ووٹنگ کنٹرول حاصل رہے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.