Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

جب ایک کانفرنس کووڈ 19 کے لاکھوں کیسز کا باعث بن گئی

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

نئے کورونا وائرس کی دنیا بھر میں بہت تیزی سے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ اس کا ایک سے دوسرے فرد میں خاموشی سے منتقل ہونا ہے۔

درحقیقت ایسا بھی ممکن ہے کہ کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 سے متاثر ایک فرد اسے درجنوں افراد میں منتقل کردے۔

ہوسکتا ہے کہ یقین کرنا مشکل ہو مگر اب ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ایک عام سی کانفرنس کے نتیجے میں لاکھوں افراد کووڈ 19 کا شکار ہوگئے۔

رواں سال 26 فروری کو بائیو ٹیک کمپنی بائیو جین کے عہدیداران بوسٹن کے ایک ہوٹل میں ہونے والی کانفرنس میں شریک ہوئے۔

اس وقت کورونا وائرس اممریکی عوام کی نظر میں کوئی خاص مسئلہ نہیں تھا جو چین تک ہی محدود تھا۔

مگر وائرس اس کانفرنس میں موجود تھا جو ایک سے دوسرے فرد میں منتقل ہوتا چلا گیا۔

ایک نئی تحقیق کے مطابق وہ کانفرنس کورونا وائرس کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کا باعث بننے والا ایونٹ ہوگیا جس نے امریکا، سنگاپور اور آسٹریلیا تک ممکنہ طور پر لاکھوں افراد کو متاثر کیا۔

اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے بلکہ آن لائن جاری کیے گئے اور اس میں بتایا گیا کہ موزوں حالات میں کورونا وائرس کتنی دور تک پھیل سکتا ہے۔

تحقیق کے نتائج ایک پراجیکٹ کا حصہ تھے جس کا آغاز مارچ کے اوائل میں ہارورڈ اور ایم آئی ٹی کے براڈ انسٹیٹوٹ نے کیا تھا، یہ ایسا تحقیقی مرکز ہے جو بڑے پیمانے پر جینوم سیکونسنگ میں مہارت رکھتا ہے۔

جب میساچوسٹس جنرل ہاسپٹل میں کووڈ 19 کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا تو اس انسٹیٹوٹ کے محققین نے متاثرہ افراد کے خلیات میں موجود وائرسز کے جینیاتی مواد کا تجزیہ کیا۔

محققین نے میساچوسٹس ڈیپارٹمنٹ آف پبلک ہیلتھ کے نمونوں کو بھی دیکھا جس کی جانب سے بوسٹن میں بے گھر افراد کی پناہ گاہوں اور نرسنگ ہومز میں ٹیسٹنگ کی جارہی تھی۔

سائنسدانوں نے جنوری سے مئی کے دوران کووڈ 19 کے 772 مریضوں کے وائرل جینومز کا تجزیہ کیا۔

اس کے بعد محققین نے ان تمام جینومز کا موازنہ کرتے ہوئے جاننے کی کوشش کی کہ ہر فرد میں یہ وائرس کہاں سے آیا۔

جب ایک وائرس اپنی نقول بنانا شروع کرتا ہے تو یہ ورثے میں جینیاتی مواد پیچھے چھوڑتا ہے جس کی مدد سے محققین وائرس کی منتقلی کے واقعے کو ٹریک کرسکتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.