Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

خشوگی کے قتل کا حکم محمد بن سلمان نے دیا : امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹ ، 76 سعودی شخصیات پر پابندی

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

واشنگٹن :  امریکا نے سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل سے متعلق خفیہ انٹیلی جنس رپورٹ جاری کردی،جس میں کہاگیاہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے صحافی کو قتل کرنے یا پکڑنے کیلئے استنبول آپریشن کی منظوری دی تھی،قتل کے دوسال بعد یہ رپورٹ آفس آف ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس کی جانب سے جاری کی گئی ہے ،یہ سی آئی اے کی اطلاعات اور تحقیقات پر مبنی ہے ۔رپورٹ میں ایسی تین وجوہات بیان کی گئی ہیں جن کی بنیاد پر یہ کہا گیا ہے کہ ولی عہد نے آپریشن کی منظوری دی تھی،مزید کہاگیاہے کہ 2017 کے بعد سے محمد بن سلمان نے سعودی عرب کی سکیورٹی اور انٹیلی جنس آپریشنز پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا تھا جس کی وجہ سے یہ ممکن نہیں کہ سعودی حکام نے اس نوعیت کا آپریشن ان کی منظوری کے بغیر کیا ہو۔ محمد بن سلمان نے صحافی کومملکت کیلئے خطرہ قرار دیا تھا،وہ انہیں خاموش کرانے کیلئے ضرورت پڑنے پر پرتشدد طریقے استعمال کرنے کے بھی حق میں تھے ،رپورٹ کے مطابق استنبول آپریشن میں ولی عہد کی حفاظت پر معمور ایک مشیر براہ راست ملوث تھے جس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ ولی عہد کو اس آپریشن کا علم تھا۔رپورٹ میں ان افراد کے نام لیے گئے ہیں جن پر خشوگی کے قتل کا الزام یا ذمہ داری ڈالی گئی ہے ۔سعودی ایلیٹ انٹیلی جنس یونٹ ریپڈ انٹرونشن فورس کو جمال خشوگی قتل کا واحد ذمہ دار قرار دیا گیا، کانگریس کی انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین ایڈم شیف نے جوبائیڈن انتظامیہ پر زور دیا کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ رپورٹ میں جنہیں ذمہ دار قرار دیا گیا ہے ، کمیٹی کے رکن سینیٹر رون وائیڈن سعودی ولی عہد کے علاوہ سعودی عرب پر بھی پابندیوں کا مطالبہ کیا۔ ادھر امریکی وزارت خارجہ نے 76سعودی شخصیات اور اہلکاروں پر ویزاپابندیاں عائد کردیں، امریکی حکام کے مطابق سعودی ولی پر پابندیاں نہیں لگائی جائیں گی۔ قتل میں کردار اداکرنے پرامریکا نے سابق سعودی انٹیلی جنس چیف احمد الاسیری ، سعودی ایلیٹ انٹیلی جنس یونٹ ریپڈ انٹرونشن فورس اور اس کے ا ہلکاروں پر بھی پابندیاں لگادیں،امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق وہ ان افراد اور یونٹس کے اثاثے منجمد کردے گا ۔ اس کے علاوہ چند ایسی سعودی شخصیات اور اہلکاروں پر بھی پابندی لگائی گئی ہے جو صحافیوں اور سیاسی مخالفین کے خلاف سرحدوں سے باہر مذموم سرگرمیاں سرانجام دیتے ہیں، جن میں ہراساں کرنا، نگرانی کرنا، دھمکی دینا یا جسمانی نقصان پہنچانا شامل ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہاکہ غیر ملکی حکومتوں کے کہنے پر صحافیوں،سماجی کارکنان کو دھمکانے کے اقدامات کو برداشت نہیں کیاجائے گا۔سعودی عرب کی جانب سے سیاسی مخالفین اور صحافیوں کو ماورائے سرحد دھمکانے اور حملے کرانے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے ۔ اس سے قبل امریکی صدر جو بائیڈن نے سعودی شاہ سلمان کو ٹیلی فون کیا، وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر بائیڈن نے سعودی شاہ کو یقین دلایا کہ دوطرفہ تعلقات کو ہر ممکن حد تک مضبوط اور شفاف بنانے کیلئے وہ کام کریں گے ۔ بات چیت کے دوران انہوں نے جمال خشوگی رپورٹ کا کوئی ذکر نہ کیا۔ دوسری جانب سعودی عرب نے امریکی رپورٹ کو یکسر مسترد کردیا۔یادرہے کہ جمال خشوگی سعودی شہری تھے جو امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کیلئے کام کرتے تھے ،استنبول کے سعودی قونصلیٹ میں انہیں 2اکتوبر2018کو قتل کیاگیاتھا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.