Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

‘کورونا ویکسین کے باوجود عالمی وبا کے معاشی نقصانات جلد ختم نہیں ہوں گے’

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آباد: کورونا وبا کے خاتمے کے حوالے سے بڑھتے ہوئے اعتماد کے باوجود اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی سے متعلق کانفرنس (یو این سی ٹی اے ڈی) کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کورونا وائرس ویکسین معاشی نقصان روک نہیں سکے گا۔

یو این سی ٹی اے ڈی کی رپورٹ کے مطابق وبا کی وجہ سے ہونے والے معاشی نقصانات طویل عرصہ تک جاری رہنے کا خدشہ ہے اور بالخصوص غریب اور پسماندہ ممالک کی معیشتیں زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں۔

یو این سی ٹی اے ڈی کی ‘امپیکٹ آف کووڈ۔19پینڈیمک آن ٹریڈ اینڈ ڈیولپمنٹ’ رپورٹ کے مطابق سال 2020 کے دوران کووڈ-19 کی وبا سے بین الاقوامی معیشت میں 4.3 فیصد سکڑاؤ متوقع ہے۔

عالمی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث دنیا بھر کے مزید 13 کروڑ افراد انتہائی غربت کا شکار ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر فی الفور پالیسی ایکشن نہ لیا گیا تو اقوام متحدہ کا پائیدار ترقی کا ایجنڈا 2030 بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔

تجارتی بحالی اور وبا کے نقصانات کو کم کرنے کے لیے تجارتی پالیسیوں پر نظر ثانی کے ساتھ ساتھ ماحولیات کے شعبہ پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

یو این سی ٹی اے ڈی نے بین الاقوامی برادری کو خبر دار کیا ہے کہ کووڈ 19 کے معاشی نقصانات کو کم کرنے کے لیے عالمی سطح پر مربوط اقدامات کیے جائیں تاکہ کروڑوں انسانوں کو غربت سے بچانے کے ساتھ ساتھ معاشی بحالی کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔

 

رپورٹ میں یو این سی ٹی اے ڈی نے عالمی معیشت کے تمام شعبوں پر وائرس کے گہرے اثرات کا پتا لگایا ہے اور معلوم کیا ہے کہ اس بحران نے عالمی تجارت، سرمایہ کاری، پیداوار، روزگار اور بالآخر انفرادی معاش پر بھی کیا اثر ڈالا ہے۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ وبائی مرض کا اثر غیر متزلزل اور سب سے زیادہ کمزور ممالک پر اثر انداز ہوا ہے جو کم آمدنی والے خاندانوں، تارکین وطن، غیر رسمی کارکنوں اور خواتین کو متاثر کرتی ہے۔

1998 کے ایشیائی مالی بحران کے بعد پہلی بار عالمی غربت عروج پر ہے۔

1990 میں عالمی غربت کی شرح 35.9 فیصد تھی، 2018 تک اس کو 8.6 فیصد تک محدود کردیا گیا تھا تاہم رواں سال پہلے ہی یہ 8.8 فیصد تک پہنچ چکا تھا اور امکان ہے کہ یہ 2021 میں بڑھ جائے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.