Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

مقبوضہ کشمیر،بنگلہ دیش ترکی میں بھی خوشیاں:متعدد بھارتی علاقوں میں پاکستان کی جیت کا جشن ،انتہا پسند ہندوآپے سے باہر،کشمیری طلبہ پر حملے

0

نئی دہلی : ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان کی طرف سے بھارت کو تاریخی شکست پر جہاں مقبوضہ کشمیر، بنگلہ دیش اور ترکی میں خوشیاں منائی گئیں،وہیں متعدد بھارتی علاقوں میں بھی جشن منایا گیا،انتہا پسند ہندو آپے سے باہر ہوگئے ، کشمیری طلبہ پر حملے شروع کرکے تشدد کا نشانہ بنانے لگے ۔تفصیلات کے مطابق اتوار کی رات کو جیسے ہی ٹی 20 ورلڈ کپ میچ میں پاکستان نے بھارت کو شکست دی تو مقبوضہ کشمیر، بنگلہ دیش اور ترکی کے شہریوں نے بھی خوشی منانا شروع کردی، سرینگر میں شادی کے دوران دلہن کے موبائل پر پاک بھارت میچ دیکھنے کی منفرد تصویر وائرل ہوگئی، جس نے شادی کے ساتھ پاکستان کی جیت کی خوشی بھی منائی، کشمیریوں نے پاکستان کے حق میں نعرے لگائے اور بھنگڑے ڈالے ، آتش بازی بھی کی گئی، ترکی اور بنگلہ دیش میں بھی شہری بھارت کی تاریخی شکست سے محظوظ ہوئے ، ادھر بھارت کے علاقے اترپردیش ، دلی میں پٹاخے پھوڑے گئے ،پٹیالہ یونیورسٹی میں سکھوں نے بھنگڑے ڈالے ، انتہا پسند ہندوئوں نے اپنا غصہ کشمیری طلبہ پر نکالا اور متعدد تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ پر حملے شروع کردئیے ، جن پر قابوپانے کیلئے انتظامیہ کو پولیس طلب کرنا پڑی، ان حملوں میں متعدد کشمیری طلبہ کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں،بھارتی ریاست پنجاب میں پولیس کے مطابق پہلا حملہ ضلع سنگرور میں واقع ’’بھائی گرو داس انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی‘‘ میں ہوا، کالج نے اس حملے سے متعلق ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں ہاسٹل کے اندر کشمیری طلبہ پر حملے کو دیکھا جا سکتا ہے ، اسی نوعیت کا دوسرا حملہ موہالی کے کھرار کی ’’ریات بھارت یونیورسٹی‘‘ میں ہوا اور وہاں بھی کشمیری طلبہ کو نشانہ بنایا گیا۔سنگرور کالج کے ایک طالب علم کے مطابق ہاسٹل کی حفاظت کرنے والے گارڈز نے یو پی اور بہار کے طلبہ کو ان کے ہاسٹل میں اندر آنے کی اجازت دی جنہوں نے اندر داخل ہوتے ہی حملہ کر دیا، بعد میں پولیس کو طلب کیا گیا جس نے پہنچ کر حالات پر قابو پانے کی کوشش کی۔بھارتی میڈیا نے علاقے کے ایک سینئر پولیس افسر کے حوالے سے لکھا ہے کہ میچ کے دوران جب بھی پاکستانی کھلاڑی رن بنا رہے تھے اس وقت کشمیری طلبہ ان کی حمایت میں آواز بلند کر رہے تھے ، جبکہ اسی دوران آزادی کے نعرے بھی لگے ،جب میچ ختم ہوا تو یو پی اور بہار کے طلبہ نے کشمیری طلبہ کے کمروں میں گھس کر ان کے ساتھ مار پیٹ کی، بعد میں بعض کشمیری طلبہ نے بھی یو پی اور بہار کے طلبہ کے ساتھ مارپیٹ کی، پولیس اور کالج کی انتظامیہ نے بعد میں اس معاملے کو حل کر لیا،اطلاعات کے مطابق لڑائی کے دوران سکھ طلبہ نے کشمیریوں کی مدد کی۔دوسری جانب گزشتہ رات کے میچ کے بارے میں اب بھی سوشل میڈیا جیسے پلیٹ فارم پر گرما گرم بحث جاری ہے ۔ بیشتر کھلاڑیوں، ماہرین اور بھارتی کرکٹ مبصرین نے بہترین کارکردگی کیلئے پاکستان کو مبارک باد پیش کی ہے ، کھیل کے بعد جس طرح کوہلی اور دھونی نے پاکستانی کھلاڑیوں سے بات کی اور انہیں مبارک باد پیش کی، اسے بھی یہ کہہ کر سراہا جا رہا ہے کہ بھارت نے ہار کے بعد بھی دل جیت لیا۔لیکن بھارت میں ہندو قوم پرستوں کا ایک گروہ اس شکست سے اس قدر نالاں ہے کہ وہ سارا غصہ مسلمانوں پر نکال رہا ہے اور مضحکہ خیز دعوے کررہا ہے ،پریس کلب آف انڈیا کے سابق سیکرٹری اور سخت گیر ہندو خیالات کے مبلغ پشپیندر کلشریٹرابھی اس شکست کیلئے کوہلی کامسلمان ہونا قرار دیتے ہیں، انہوں نے ا پنے ایک ٹویٹ میں لکھا،‘‘مولانا ویرات الدین’’ اور اسے کوہلی کو ٹیگ بھی کیا ہے ۔کرشنا نامی صارف نے بھی ویرات کوہلی کی بغیر مونچھ والی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ، ”کتنے لوگ جانتے ہیں کہ کوہلی صرف میچ کے وقت مونچھ لگاتے ہیں، یہ ان کی اصلی تصویر ہے جو ایک زوم میٹنگ سے لیک ہوئی تھی، ان کا اصلی نام ویرات الدین کوہ علی ہے ۔”اجیت نامی ایک صارف نے ٹویٹر پر لکھا، شامی نے مسلم ہونے کا پورا فرض نبھایا۔بھارتی گیند باز محمد شامی کے آخری اوور میں ایک چھکا اور دو چو کے لگے تھے ، اسی اوور میں پاکستان نے میچ جیت لیا تھا۔بہت سے لوگ اتنے برہم ہیں کہ بھارتی کپتان کوہلی کو غدار بتا رہے ہیں اور مسلمان کھلاڑی محمد شامی کیلئے گا لم گلوچ والے الفاظ استعمال کر رہے ہیں، بہر حال ہندوؤں کا ایک بڑا طبقہ کھیل کو مذہب کی نظر سے دیکھنے کی بجائے سپورٹس سپرٹ کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہا ہے ۔سلیل ترپاٹھی نے لکھا ہے اگر ویرات کوہلی پاکستانی اوپنرز کو کھلے دل کے ساتھ گلے لگا سکتے ہیں (بہت اچھا رویہ تھا میں اس کی قدر کرتا ہوں) تو انہیں اب محمد شامی کیلئے بھی کھڑا ہونا چاہئے ۔آل انڈیا اتحادالمسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے پریس کانفرنس میں کہا پہلے ہی کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ میچ نہیں کھیلنا چاہیے ،بھارتی فوجی کشمیر میں مررہے ہیں اور ان کے قتل کی وجہ پڑوسی ملک سے آنے والے دہشت گرد ہیں۔مسلمان کرکٹر محمد شامی کے خلاف سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہم سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت، فرقہ پرستی اور بنیاد پرستی میں کتنا اضافہ ہوچکا ہے ،انہوں نے کہا کہ ٹیم میں 11کھلاڑی ہوتے ہیں لیکن ان میں صرف ایک مسلمان کھلاڑی کو نشانہ بنانا تشویش ناک اور افسوس کی بات ہے ۔سوشل میڈیا پر ہندی لفظ پنوتی جس کا مطلب منحوس ہے ،کا بھی ہیش ٹیگ چلتارہا جو کہ بھارتی فلم سٹار اکشے کمار کے ایک فلمی کردار کانام تھا،اکشے کمار بھی میچ دیکھنے گئے تھے ، سوشل میڈیا صارفین نے جے شاہ اور اکشے کمار کی میچ دیکھتے ہوئے تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ان پر جیسے ہی نظر پڑی انڈیا کی ہار یقینی ہو گئی۔ بہت سے لوگوں نے اسی طرح کی دوسری تصویریں پوسٹ کر کے لکھا کہ انڈیا کی ہار یہیں سے شروع ہوتی ہے ۔ایک صارف نے جے شاہ، اکشے کمار کے ساتھ نریندر مودی کی پیڈ اپ کرتے ہوئے ایک بنائی ہوئی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھایہ تینوں انڈیا اور ٹی 20 ورلڈ کپ میچ کیلئے اصل پنوتی ہیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.