Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

میں پاکستان ہوں

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

عطاءالرحمان

پاکستان میں پانچ طاقتیں قومی اور سیاسی زندگی میں غلبہ برقرار رکھنے اور اس کے مکمل حصول کے لئے ایک دوسری کے ساتھ برسرپیکار ہیں۔ کہیں کہیں ان میں سے ایک دو کے درمیان وقتی مفاہمت وجود میں آجاتی ہے لیکن اندر کی رقابت ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ پانچوں میں ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ ملک خداداد کے اقتدار پر مکمل قبضہ کرنا، بلاشرکت غیرے کار حکومت چلانا اور اپنی مرضی کے مطابق عوام کی قسمتوں کے فیصلہ کرنے کا اسے استحقاق حاصل ہے، جو اسے چھین لیتا ہے یا اس کی کوشش کرتا ہے وہ قابل گردن زدنی ہے، اسے پچھاڑ کر رکھ دینا میرا اولین فریضہ ہے۔ ملک و ملت کی فلاح اور یہاں کے عوام کی ترقی و خوشحالی کا راز اسی میں مضمر ہے کہ اقتدار اعلیٰ میرے ہاتھوں میں ہو۔ امور مملکت پر میری اجارہ داری نہ صرف برقرار رہنی چاہئے بلکہ اسے تسلیم بھی کیا جانا چاہئے جو میری راہ میں مزاحم ہو گا اسے اڑا کر رکھ دیا جائے گا۔ ان پانچوں طاقتوں نے اسی زعم کے ساتھ ایک دوسری کے ساتھ ٹکراو¿ کی کیفیت پیدا کر رکھی ہے۔ آج کی صورتحال یہ ہے ٹکراو¿ تیزی کے ساتھ تصادم کی جانب بڑھ رہا ہے۔ مفاہمت کے امکانات کم سے کم تر ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے قومی میں زندگی سخت انتشار پایا جاتا ہے۔ بے یقینی کی کیفیت ہے۔ ملک کی حالت پتلی ہے اور عام آدمی کی حرماں نصیبی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ طاقتیں ہیں (۱) اسٹیبلشمنٹ (۲) پاکستان مسلم لیگ (ن) (۳) پاکستان پیپلز پارٹی (۴) پاکستان تحریک پاکستان اور (۵) پاکستان کا آئین یا دستور اساسی۔ اسٹیبلشمنٹ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ سب سے زیادہ طاقت کی مالک ہے۔ مسلح قوت ہے۔ ہمہ گیر اثر اور بے پناہ رسوخ رکھتی ہے۔ اگرچہ فریضہ اس کا ملک کی سرحدوں کی نگہبانی اور دشمن کے عزائم کے مقابلے میں سینہ تان کر کھڑے رہنا اور اس کے جارحانہ اقدامات کو شکست سے دوچار کرنا ہے۔ اس کی ادائیگی میں پیچھے بھی نہیں رہتی لیکن صلے کے طور پر اقتدار کو بھی گھر کی لونڈی بنا کر رکھنا ضروری سمجھتی ہے۔ حکومت کسی کی ہو فیصلہ کن اختیارات اپنے پاس رکھتی ہے۔ یہیں پر مقابلے کی دوسری اور کمزور سول طاقتوں کے ساتھ چپقلش پیدا ہوتی ہے۔ ملک خداداد کی آدھی تاریخ کے دوران حکومت پر براہ راست قبضہ جمائے رکھا۔ چار مرتبہ مارشل لاءلگائے فوجی راج قائم کئے۔ جب یہ ممکن نہ رہا تو پس پردہ بیٹھ کر اقتدار کی طنابیں اپنے ہاتھوں میں رکھتی ہے اور مرضی کی حکومتیں لاتی ہے۔ پسند نہ آئیں تو انہیں اڑا کر رکھ دیتی ہے۔ سیاستدانوں میں سے چند جو اس کے سامنے آکھڑے ہیں زیادہ دیر ٹھہر نہیں پاتے اکثر جھک جھک جاتے ہیں۔ وقتی اقتدار کے بھوکے سیاستدانوں کو استعمال کرنے کا فن اسے خوب آتا ہے۔ وہ اگر نافرمانی کی روش اختیار کریں یا حکومت پر اپنا استحقاق منوانے کی کوشش کریں تو ان کی رسوائی کا ایسا سامان کرتی ہے کہ تادیر مقابلے کی ہمت نہ پاتے ہوئے راستے سے ہٹ جاتے ہیں۔ ورنہ جیلوں میں ڈال دیئے جاتے ہیں۔ پھر بھی کچھ کھڑے رہیں تو انہیں شراکت اقتدار کی پیشکش کر دیتی ہے۔ یہ ہتھکنڈہ کبھی کامیاب ہوتا ہے کبھی ناکام۔ مشہور ہے اس نے مرضی کے سیاستدان تیار کرنے کے لئے نرسریاں بنا رکھی ہیں۔ آج کے کئی سیاستدانوں پر تہمت لگائی جاتی ہے کہ انہیں نرسریوں سے تیار ہو کر میدان میں اتارے گئے۔ کچھ نے اطاعت اور وفاداری کے طوق کو ہمیشہ گلے لگائے رکھا اسی لئے ہر نئے انتظام حکومت سے اپنا حصہ وصول کر لیتے ہیں۔ کچھ ایسے ہیں جو بغاوت کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کو تنگ کرتے ہیں۔ اس سے تمام کا تمام اختیار مانگ کر اپنا راج جمانا چاہتے ہیں جو نہیں ملتا تو لڑائی اور تصادم کی صورت پیدا ہوتی ہے۔
دوسری بڑی طاقت لمحہ موجود کے اندر پاکستان مسلم لیگ (ن) ہے۔ نواز شریف اس کے قائد ہیں۔ کہا جاتا ہے اسٹیبلشمنٹ نے بڑے چاو¿ کے ساتھ انہیں اپنی نرسری میں پالا تھا۔ انگلی پکڑ کر حکومت کے اندر لائی تھی۔ ان کے چہرے مہرے سے وفاداری جھلک جھلک جاتی تھی۔ اسی لئے پنجاب جیسے طاقتور صوبے کے وزیراعلیٰ بنائے گئے۔ پھر ایک انتخابی عمل کے ذریعے وزیراعظم کی گدی پر لا بٹھائے گئے۔ وہیں سے انہوں نے پر پرزے نکالنا شروع کر دیئے۔ شعور بیدار ہوا آئینی اختیارات کی طاقت وزیراعظم کو تفویض کرتا ہے پھر میں کیوں ڈکٹیشن لوں۔ اندر ہی اندر سمجھانے کی کوشش کی گئی نہ مانے۔ سامنے آن کھڑے ہوئے۔ نکال باہر پھینکے گئے۔ یہ عوام کے پاس چلے گئے۔ ان
کے دلوں میں جگہ بنائی۔ دوبارہ وزیراعظم منتخب ہوئے۔ ترقیاتی منصوبے شروع کئے۔ ایٹمی دھماکہ کر ڈالا۔ سمجھ بیٹھے اب کوئی ان سے حکومت چھین نہیں سکتا۔ سب ماتحت ہیں۔ میرا کیا بگاڑ سکتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کی غیرت جاگ اٹھی ایک شب خون کی مار نہ نکلے۔ حوالات میں ڈال دیئے گئے۔ انہوں نے بھی طے کر رکھا تھا جھکنا ہرگز نہیں۔ قریب تھا کہ بھٹو کے انجام کو پہنچا دیئے جاتے۔ سعودی عرب بیچ میں آگیا۔ اپنی پناہ میں لیا۔ مشرف کا زوال شروع ہوا تو یہ پھر وطن لوٹ آئے۔ انتخابات میں بھرپور حصہ لیا۔ تیسری مرتبہ وزیراعظم بنے۔ تب اسٹیبلشمنٹ کو معلوم ہوا یہ آدمی تو پرلے درجے کا کرپٹ ہے۔ الزامات کی بارش کر دی گئی۔ ایک عدالتی فیصلے نے کام ان کی حکومت کا تمام کیا۔ یہ بھی ڈٹ گئے۔ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بلند کیا۔ آج کل علاج کے لئے لندن میں مقیم ہیں۔ وہاں بیٹھ کر اسٹیبلشمنٹ اور اس کی قائم کردہ حکومت کے لئے ایک کے بعد دوسرا چیلنج پیدا کر رہے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے سرکردہ افراد کا نام لے کر ان کے ساتھ محاذ آرائی کی جرات روزانہ کر ڈالتے ہیں۔ پاکستان کے اندر بیٹی نے باپ کی جگہ سنبھال لی ہے۔ دھواں دھار تقریریں کرتی ہے۔ عوام ذوق و شوق کے ساتھ سننے آتے ہیں۔ بڑے بڑے جلسے ہو رہے ہیں۔ نیا سیاسی اتحاد قائم ہوا ہے۔ جس نے ہلچل سی مچا دی ہے۔
تیسری طاقت پاکستان پیپلز پارٹی کی ہے۔ نواز لیگ سے پرانی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو جیسا دبنگ سیاستدان اس کا بانی تھا۔ روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے کی وجہ سے مقبول ہوا۔ 1970ءکا انتخاب اس نے مغربی پاکستان کی حد تک جیتا۔ 1971ءکے المیے کے بعد بچے کھچے پاکستان کا وزیراعظم بنا، خوب دندنایا لیکن کب تلک، ایک قتل میں بالواسطہ ملوث ہونے کے الزام کے تحت تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ اسٹیبلشمنٹ سمجھی جان چھوٹی لیکن اس کی بیٹی بیچ میدان میں آن کھڑی ہوئی۔ بے نظیر دو مرتبہ وزیراعظم بنی۔ دونوں بار گھر کی راہ لینے پر مجبور کی گئی۔ ڈٹی رہی پھر اچانک گولیوں کا نشانہ بن گئی۔ سندھ کارڈ مگر اس نے خوب کھیلا۔ آج بھی اس صوبے میں اس کی جماعت کی حکومت ہے۔ شوہر زرداری اور بیٹا بلاول۔ سیاست کا کھیل کھیلنے میں پیش پیش ہیں۔ کبھی اوپر والوں سے اندر اندر سمجھوتہ کر لیتے ہیں تاکہ سندھ میں اپنی حکومت قائم رہے لیکن موقع پاتے ہی سینہ تان لیتے ہیں۔ آج کل نواز اور دوسری چھوٹی بڑی جماعتوں کے ساتھ پی ڈی ایم کے نئے اتحاد میں شامل ہیں۔ مشترکہ جلسے کئے جا رہے ہیں۔ جلوس بھی نکلیں گے۔ کہتے ہیں اقتدار میں پورا حصہ لے کر دم لیں گے۔ چوتھی طاقت نسبتاً نئی پاکستان تحریک انصاف اور اس کا بانکا لیڈر موجودہ وزیراعظم عمران خان ہے۔ کرکٹ کا ورلڈ کپ جیت کر نامور ہوا۔ چندہ اکٹھا کر کے لاہور میں کینسر کا ہسپتال بنا ڈالا۔ عوام کے اندر پذیرائی میں اضافہ ہوا۔ اسٹیبلشمنٹ کے دل میں جگہ بنالی۔ وہ نواز سے تنگ آئی بیٹھی تھی۔ اس کی آزادانہ روش قابو سے باہر ہوئی جاتی تھی۔ عمران خان کو متبادل کے طور پر لانے کی ٹھان لی گئی۔ نوجوانوں میں کھلاڑی ہونے کی وجہ سے مقبول تھا۔ اب جو ہسپتال بنا ڈالا تو اسٹیبلشمنٹ کو گویا پکا پکایا پھل مل گیا۔ تبدیلی کا نعرہ اس کے منہ میں ڈالا۔ نئے گھوڑے کو مقابلے کی دوڑ میں لاکھڑا کیا۔ جلسے ہوئے۔ نعرے لگائے گئے۔ لوگ اکٹھے ہوئے۔ 2018ئ کا انتخاب اس نے جیتا یا جتوایا گیا۔ سادہ اکثریت اس کے باوجود نہ ملی۔ کچھ علاقائی جماعتوں کو ساتھ ملوایا گیا۔ یوں نئے شہزادہ کو وزارت عظمیٰ کی خلعت پہنائی گئی۔ مملکت خداداد کو آن واحد میں جنت اراضی میں بدل دینے کے دعوے چونکہ اس نے بہت کئے تھے۔ اس لئے لوگوں کی توقعات بھی بے شمار تھیں۔ دو برس سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ ایک بھی پوری نہیں ہوئی۔ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ بے روزگاری کا چلن ہے۔ افراتفری کا عالم ہے۔ عمران کو مگر یقین ہے اسٹیبلشمنٹ اس کے ساتھ ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن کے نئے اتحاد نے یوں کہئے کہ تھرتھلی مچاد ی ہے۔ الزام تراشی کا بازار گرم ہے۔ شدید غصے کی حالت میں منہ پر ہاتھ پھیر کر جلالت ماآبی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ جذبات کی شدت میں نواز کو چوہا تک کہہ دیا۔ گرفتاریاں ہو رہی ہیں۔ نت نئے مقدمات قائم کئے جا رہے ہیں۔ کھلاڑی وزیراعظم کی ایک ہی پکار ہے نہیں چھوڑونگا۔ این آر او مانگتے ہو ہرگز نہیں دونگا۔ وہ کہتے ہیں تمہاری حیثیت کیا ہے۔ ہماری جنگ تمہارے ساتھ نہیں تم تو پرلے درجے کے نااہل اور سلیکٹڈ ہو۔ تمہیں لے کر آنے والوں کے ساتھ ہے۔ عوامی یلغار برپا ہوا چاہتی ہے۔ جلد تمہیں بہا کر لے جائے گی۔ وہ کہتا ہے مجھے ہاتھ لگا کر دیکھو کچل کر رکھ دونگا۔ جانتے نہیں ہو میں اور ”وہ“ ایک صفحے پر ہیں۔ مقابلہ کر کے تو دیکھو۔
ان سب کے بیچ میں پانچویں طاقت کھڑی ہے۔ آئین پاکستان کہلاتی ہے۔ بے زبان ہے مگر ایسی قوت گویائی رکھتی ہے کہ بڑے بڑوں کو چب کرا دیتی ہے۔ وہ ایسے حقارت کے ساتھ اسے کاغذ کا ٹکڑا کہتے ہیں بوٹوں تلے روند بھی ڈالتے ہیں۔ چیر پھاڑ کر رکھ دیتے ہیں مگر یہ پھر ابھر کر اپنا وجود منوا لیتی ہے۔ اپنے آپ کو بالادست کہلوا کر دم لیتی ہے۔ کہتی ہے مجھے اٹھا پھینکا تھا تو ملک ٹوٹ گیا تھا۔ دوبارہ میرے وجود پر اتفاق کیا گیا تو بچھے کھچے پاکستان کو زندگی کی نئی رمق ملی۔میرے بغیر ریاست نہیں چل سکتی۔ سلطنت نہیں قائم رہتی۔ تم مجھے نظرانداز کرتے ہو۔ حقیر جانتے ہو تو منہ کی کھاتے ہو۔ پھر میرے نام کی مالا جپنے پر مجبور ہو جاتے ہو۔ اسٹیبلشمنٹ مجھے اپنا حریف جانتی ہے۔ میں اس کے آگے آن کھڑا ہوتا ہوں تو زچ ہوکر رہ جاتی ہے۔ اپوزیشن کا سارا کاروبار میری وجہ سے چلتا ہے۔ اس کی دکان میرے نام سے سجتی ہے۔ نواز شریف مجھ سے اصولوں کی طاقت پکڑتا ہے تو لیڈر کہلاتا ہے۔ میرا جنم نہیں ہوا تھا بابائے قوم نے میرے نام کا حلف اٹھایا تھا۔ تمہیں ماتحت قرار دیا تھا۔ اپنی حیثیت پہچانو میری بالادستی عملاً بھی مانو تب سکون آئے گا۔ امن قائم ہو گا ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا میں اس مملکت کا نظریہ ہوں۔ پاکستان کی جان ہوں۔ اسلام اور جمہوریت کا ملاپ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کا اقرار میرے خمیر میں شامل ہے۔ عوام کو اپنے منتخب نمائندوں پر مشتمل حکومت کرنے کا جواز مجھ سے ملتا ہے۔ تم سب سیاستدان ہو، وردی والے یا کوئی اور اپنی اپنی حدود میں رہو۔ میرے اصول و ضوابط کی پیروی کرو۔ میری حکمرانی صحیح معنوں میں تسلیم کرو۔ اسی سے تصادم ختم ہو گا۔ مفاہمت کی راہ ہموار ہو گی۔ بہار آئے گی۔ پھول کھلیں گے۔ درختوں کو پھل لگیں۔ محتاجی ختم ہو گی۔ پاکستان قوموں کی صف میں فخر کے ساتھ سربلند کرے گا۔ تم کو آخر کب عقل آئے گی؟

Leave A Reply

Your email address will not be published.