Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

مزارِ قائد کا تقدس اور ’ایم آر ڈی‘ اور ’پی ڈی ایم‘ تحریک کا اس سے تعلق!(حصہ اول)

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

اختر بلوچ

 

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سیاسی اتحاد بنتے اور بگڑتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں عمران خان کی حکومت کے خلاف ایک اتحاد، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے نام سے تشکیل پایا ہے جس میں 11 جماعتیں شامل ہیں۔18 اکتوبر کو ان کا جلسہ کراچی میں منعقد ہوا لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک ایسا واقعہ بھی ہوا جس کا تعلق مزارِ قائد پر مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی فاتحہ خوانی کے لیے آمد اور پھر ہونے والی نعرے بازی اور اس کے نتیجے میں کیپٹن صفدر کی گرفتاری سے ہے، اور تاحال یہ ایک ایسا موضوع بنا ہوا ہے جس پر روز ٹی وی چینلز اور اخبارات میں تبصرے جاری ہیں۔مزارِ قائد پر اس سے قبل بھی ایک بہت بڑا جلسہ ہوا تھا، لیکن یہ 14 اگست 1983ءکی بات ہے۔ اس مظاہرے کے خلاف مزارِ قائد پروٹیکشن آرڈیننس 1971ءکے تحت مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔ جس سیاسی اتحاد نے یہ مظاہرہ منعقد کیا تھا اس کا نام ایم آر ڈی تھا۔ایم آر ڈی کے بارے میں عموماً یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ اس کی تشکیل 1983ءمیں ہوئی، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ایم آر ڈی کا وجود 1981ءمیں عمل میں آیا تھا۔ایم آر ڈی میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی)، تحریکِ استقلال، پاکستان مسلم لیگ (خواجہ خیر الدین) اور ملک قاسم گروپ، پاکستان نیشنل پارٹی (پی این پی)، عوامی تحریک اور نیپ پختونخواہ شامل تھیں۔ایم آر ڈی کا مطالبہ تھا کہ مارشل لاء فوری طور پر ختم کرکے آزادانہ اور شفاف انتخابات منعقد کروائے جائیں۔ تحریک کا آغاز بڑے ہی جوش و خروش سے ہوا، اور ملک بھر میں جنرل ضیاءکے خلاف مظاہرے ہونے لگے، لیکن اس موقع پر پی آئی اے کے ایک طیارے کو اغوا کرلیا گیا، جس کی ذمہ داری ‘الذوالفقار’ نامی تنظیم نے قبول کی، جس کے روح رواں ذوالفقار علی بھٹو کے بیٹے میر مرتضیٰ اور شاہنواز تھے۔غلام مصطفیٰ جتوئی نوابزادہ نصراللہ خان سے ایم آرڈی کے ایک اجلاس کے موقعہ پر مشورہ کر رہے ہیں۔

اس کے نتیجے میں تحریک کو بہت بڑا نقصان پہنچا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کو ایم آر ڈی میں شامل تمام جماعتوں پر شدید تحفظات تھے۔ جس کا ذکر انہوں نے اپنی کتاب ‘دختر مشرق’ مطبوعہ 1999 زیرِ اہتمام مساوات پبلی کیشنز اسلام آباد کے صفحہ نمبر 273 تا 277 میں یوں کیا ہے:”ایم آر ڈی کی تشکیل سے قبل میری والدہ نے مجھے کہا کہ اس سے پہلے کہ ضیائ اپنی چالوں سے ہمیں مات دے دے، ہمیں اسے مات دینی چاہیے۔ یہ ستمبر کا واقعہ ہے جب جتوئی کو وزارتِ عظمیٰ کی پیشکش کی گئی تھی۔ ‘اگرچہ اس خیال سے مجھے وحشت ہوتی ہے تاہم ہمیں پاکستان قومی اتحاد کی طرف سے مثبت رویوں کا استقبال کرنا چاہیے۔ ضیائ کے مخالفین میں پھوٹ ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے‘۔ پہلے پہل تو میں خوفزدہ ہوگئی۔ ‘اس سے پارٹی رہنماو¿ں میں زلزلہ برپا ہوجائے گا’، میں نے احتجاج کیا۔ ہم کیسے بھول سکتے ہیں کہ سب سے پہلے انتخابات میں دھاندلی کے الزام لگانے والے یہی پاکستان قومی اتحاد کے لوگ تھے جنہوں نے قومی آمریت کے لیے راستہ ہموار کیا؟ یہ لوگ ضیاءکی کابینہ میں وزیر تھے جب اس نے پاپا کو موت کے گھاٹ اتارا۔ ‘لیکن ہمارے پاس اس کے سوا اور کونسا راستہ ہے؟’، والدہ نے پوچھا۔ جب مثالی حالات موجود نہ ہوں تو بدنما حقائق کو قبول کرنا پڑتا ہے۔’انہوں نے تقریباً 30 ارکان پر مشتمل پی پی پی کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلایا۔ ہمیں علم تھا کہ ہم ایک بہت بڑا خطرہ مول لے رہے ہیں۔ سیاسی ملاقاتوں پر پابندی تھی لیکن اگر ہم خاموش تماشائی بنے رہے تو اس کا مطلب حکومت کی کارروائیوں پر سر ہلانا ہوگا۔ یہ اجلاس ایسی ہی دوسری ملاقاتوں کی طرح 70 کلفٹن میں منعقد کیا جارہا تھا۔ رہنما ملک کے د±ور دراز علاقوں یعنی صوبہ سرحد اور بلوچستان سے بھی تشریف لائے تھے اور متوقع طور پر مذاکرات میں کافی تلخی دیکھنے میں آئی۔ ‘پاکستان قومی اتحاد کے لوگ قاتل ہیں، قاتل ہیں‘، سندھ کے ایک رکن نے برملا کہا۔ ‘اگر آج ہم ان سے معاہدہ کرتے ہیں تو کل کو جنرل ضیاءسے براہِ راست مذاکرات سے ہمیں کون سی چیز مانع ہوگی؟”آخرکار عملیت پسندی کا بول بالا ہوا اور ہم میں سے ہر ایک نے پاکستان قومی اتحاد کے ساتھ سلسلہ جنبانی کو ترجیح دی۔ تحریک بحالی جمہوریت یعنی ایم آر ڈی کے تانے بانے کو تشکیل دیا گیا۔

’ذاتی طور پر مجھے اپنے والد کے پرانے دشمنوں کے ساتھ اتحاد قبول کرنے میں دقت محسوس ہور ہی تھی۔ سابقہ مخالف پارٹیوں کو بھی پی پی پی کے ساتھ مذاکرات میں ایسی ہی مشکل کا سامنا تھا۔ وہ آپس میں بھی کھل کر بات چیت کرنے سے احتراز کرتے تھے۔ ابتدائی ملاقاتوں میں شدید مخالف پارٹیوں کے رہنما ایک دوسرے سے براہِ راست بات چیت سے گھبراتے رہے اور ایلچیوں کے ذریعہ مصروفِ گفتگو رہے۔ خیالات میں تلخی کی بنائ پر پورے طریقہ کار میں پیچیدگی پیدا ہوگئی، خاص طور پر مجوزہ ایم آر ڈی کے چارٹر پر، یعنی آیا 1977ء کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی یا نہیں، آیا میرے والد کی موت کو بیان کرنے کے لیے لفظ ‘پھانسی’ کا استعمال کیا جائے گا یا ‘قتل’۔ اکتوبر 1980ءسے فروری 1981ءتک کے 4 طویل مہینوں کے بعد تعطل د±ور ہوا اور تمام 10 پارٹیوں نے ایک متفقہ لائحہ عمل طے کرنے میں کامیابی حاصل کی مگر یہ بھی کوئی آسان معاہدہ نہیں تھا۔’میں نے اپنے والد کے سابقہ مخالفین کو ان کے گھر میں ان کی بیوہ جو پی پی پی کی چیئرپرسن تھیں اور بیٹی سے سیاسی معاہدہ کرتے ہوئے دیکھا۔ سیاست کس قدر عجیب چیز ہے؟ پاکستان جمہوری پارٹی کے نصراللہ خان ترکی ٹوپی پہنے ہوئے میری والدہ کے دائیں بازو کی طرف بیٹھے۔ اصغر خان کی معتدل مزاج تحریک استقلال کے بھرے ہوئے چہرے والے قصوری ان کے نمائندے کے طور پر میرے بالمقابل براجمان تھے۔ مذہبی جماعت جمعیت علمائے اسلام کے باریش رہنما کمرے کے ایک طرف تھے اور دوسری طرف بائیں بازو کی ایک چھوٹی سی پارٹی کے رہنما فتح یاب علی خان جنہوں نے کلف لگا ہوا چوڑی دار کرتا اور تنگ پاجامہ پہنا ہوا تھا۔ تقریباً 20 کے قریب افراد تھے، جن میں سے اکثریت سابقہ پاکستان قومی اتحاد کے رہنماو¿ں کی تھی۔ میں اپنے آپ کو یاد دلاتی رہی کہ اصل بات تو ضیاءکو اقتدار سے محروم کرنا اور متضاد خیالات کے باوجود سیاسی اتحاد کو مضبوط کرکے ضیاءکو انتخابات منعقد کرانے پر مجبور کرنا تھا۔ یہ امر بہت مشکل تھا۔ سگریٹ کا دھواں اور جذبات کا اشتعال بڑھتا رہا۔ ڈرائنگ روم کی دیواروں پر مخملیں پوش اور چھت پر فانوس جگمگاتے رہے اور اجلاس طویل ہوگیا کہ دوسری صبح دوبارہ منعقد کرنا پڑا۔ ایک مرحلے پر پاکستان قومی اتحاد کے ایک سابق رہنما نے 1977ءکی متشدد تحریک میں اپنی پارٹی کے کردار کے جواز پر تقریر شروع کردی۔ میں اپنے ہی گھر میں پی پی پی پر بالواسطہ تنقید سن کر حیران رہ گئی۔ ‘یہاں ہم جمہوریت کی خاطر ایک اتحاد کے بارے میں مذاکرات پر اکھٹے ہوئے ہیں نہ کہ اس بحث کے لیے کہ آپ ہمیں کیا سمجھتے ہیں یا ہم آپ کو کیا سمجھتے ہیں‘، میں نے سرد لہجے میں کہا۔ تاہم مجھے ان سیاستدانوں کو اس حالت میں دیکھنا عجیب لگا کہ میرے والد کے دشمن آج اسی کے پیالوں میں کافی پی رہے تھے، اسی کے ٹیلی فون پر اپنے دوستوں کو ہیجان خیز پیغام دے رہے تھے کہ ‘ہاں میں 70 کلفٹن میں بیٹھا ہوں، حقیقت یہی ہے کہ یہ مسز بھٹو ہی کا گھر ہے‘۔(جاری ہے)

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.