Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

کراچی واقعہ کی سنگینی

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

ڈ اکٹر ابر اہیم مغل
اپنے گذ شتہ کا لم میں میں نے کرا چی میں کیپٹن ریٹا ئر ڈ صفد ر کی گر فتا ری کا ضمناًذ کر کیا تھا۔ تا ہم یہ ہما ری ملکی تا ریخ کا اسقد ر سنگین وا قعہ ہے کہ اس پہ جس قد ر لکھا جا ئے کم ہے۔ یہ اس چا در اور چا ر دیوا ری کے تقد س کا معا ملہ ہے جس کی ضما نت ہمیں ہما را و طنِ عز یز دیتا ہے۔وا قعہ کی تفصیلا ت مختلف ز ا و یو ں سے اخبا رت میں شا ئیع ہو چکی ہیں۔ کہنا یہ ہے کہ اس وا قعہ نے تحر یکِ ا نصا ف کی حکو مت کے با رے میں بہت سے سوا لا ت اٹھا دئیے ہیں۔ وز یرِ ا عظم کا یہ کہنا کہ انہیں وا قعہ ہو جا نے کے بعد اس کی خبر ملی ،ایک ایسا سوال ہے جو بہت سے مز ید سوا لا ت اٹھا تا ہے۔ آ دمی سو چنے پہ مجبو ر ہو جا تا ہے آ یا اس ملک میں کو ئی نظا م بھی مو جو د ہے یا یہ ملک صر ف اور صر ف آ ج کا دن گذ ار نے کے حو ا لے سے چل ر ہا ہے؟تا ہم اچھی خبر یہ ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کراچی میں پیش آنے والے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے کور کمانڈر کراچی کو معاملے کی فوری تحقیقات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کور کمانڈر کراچی کو حقائق تک پہنچ کر جلد از جلد رپورٹ پیش کرنے کی ہدیات کردی ہے۔ علاوہ ازیں جنرل قمر جاوید باجوہ نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو ٹیلی فون کیا اور کراچی واقعہ پر تبادلہ خیال کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے آرمی چیف کی جانب سے کراچی واقعہ کا نوٹس لینے پر اظہارِ ستائش کیا اور واقعہ کی شفاف انکوائری کے لیے آرمی چیف کے احکامات کو بھی سراہا۔کراچی پولیس کی پوری اعلیٰ انتظامی فورس کا ایک واقعہ پر شدید ردّ عمل کے تحت ایک ساتھ چھٹیوں پر چلے جانا ہماری تاریخ میں غیرمعمولی واقعہ ہے۔ صوبہ سندھ اور بالخصوص کراچی کی حساس صورتحال، ملکی سیاسی منظر نامہ کا عکس ہے۔ ایسی کوئی صورتحال نہیں ہونی چاہیے جس سے کوئی بحران جنم لے اور کوشش ہونی چاہیے کہ شہر کے امن و امان کو کسی قسم کے مسائل ایمرجنسی کا سامنا نہ ہو۔ اس کے لیے لازم ہے کہ ارباب اختیار انتظامی ہم آہنگی، موثر ڈسپلن، اشتراک عمل اور کمان اور کنٹرول کے جملہ پیرامیٹرز میں رہتے ہوئے صوبے کے عوام کی خدمت کریں اور لا انفورسمنٹ کا کوئی ناخوشگوار واقعہ اس حفظ مراتب کو نقصان نہ پہنچائے۔ اس حوالے سے آرمی چیف نے بروقت صائب اقدام کی ہدایت کی۔ بلاول بھٹو سے رابطہ کرکے صورت حال کی شفاف اور فوری تحقیقات کی ہدایت کرکے ایک ممکنہ بحران کا راستہ روک لیا۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آئی جی سندھ پولیس کے گھر کا گھیراﺅ کرنے پر آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی محکمانہ تحقیقات کرائیں۔ تحقیقات میں سب منظر عام پر آجائے گا۔ وفاقی حکومت از خود گورنر راج نہیں لگا سکتی، گورنر راج غیر قانونی ہوگا۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ اگلے روز جو مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے ساتھ ہوا، میں اس پر شرمندہ ہوں۔ قائد کے مزار پر ایک نعرہ لگانے پر طوفان کھڑا کیاگیا۔ عمران خان خود بھی مزار قائد جاتے تھے تو ایسے ہی نعرے لگائے جاتے تھے لیکن کسی نے ایف آئی آر کاٹنے کی کوشش نہیں کی۔ صبح سویرے مہمانوں کو ہراساں کرکے کیپٹن صفدر کو گرفتار کرنا سندھ کے عوام کی توہین ہے۔ آدھی رات کو صوبے کے آئی جی کو ہراساں کرنا اور زبردستی کہیں لے جانا، ان کی تذلیل ہے۔ پولیس کے افسران کی عزت کا سوال بن گیا ہے اور وہ استعفے دے رہے اور چھٹیوں پر جارہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بھی معاملے کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ بلاول نے کہا کہ غیرسیاسی فیصلوں کی وجہ سے سندھ پولیس کا مورال گرا ہے لیکن ہمیں سندھ پولیس کا مورال بلند کرنا ہے۔ سب اپنے دائرے میں رہ کر کام کریں۔ واضح رہے کہ آئی جی سندھ مشتاق احمد مہر نے چھٹی پر جانے کی درخواست موخر کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے وسیع تر قومی مفاد میں افسران 10 دن کے لیے فیصلہ موخر کردیں۔ 18 اور 19 اکتوبر کی درمیانی شب ہونے والا واقعہ تکلیف دہ تھا، واقعہ سندھ پولیس کے تمام رینکس کے افسران کے لیے دلی صدمے کا باعث بنا۔ آئی جی کا فیصلہ ان کی کشادہ نظری کی دلیل ہے، یہ بڑے حوصلے اور ظرف کا کام ہے۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن صفدر کی کراچی میں گرفتاری کے معاملے کی جامع تحقیقات کے لیے سندھ کابینہ کے ارکان پر مشتمل وزراتی کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ مزار قائد پر جو کچھ ہوا وہ مناسب نہیں تھا۔ مزار کا تقدس سیاسی معاملہ نہیں سب کو اس کا خیال کرنا چاہیے۔ قوانین پر عمل سب پر لاگو ہے۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق 3 سے 4 وزراءپر مبنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے۔کراچی واقعہ اپنی نوعیت کا غیرمعمولی واقعہ ہے۔ انتظامی ماہرین نے پولیس کے حوالے سے سنجیدہ اور تشویش ناک بھی قرار دیا ہے۔ جسے حسن تدبر سے سنبھالا گیا، دور اندیشی کا انتظامی اور سیاسی ثبوت دیا گیا۔ خدا کا شکر ہے کہ سندھ دشمن عناصر کی طرف سے کراچی کی صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش ناکام بنائی گئی۔ اس سیاسی بصیرت کا کثیر جہتی سطح پر مظاہرہ ہوا جو لائق تحسین ہے۔ ادھر گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ وزیراعلیٰ ابہام سے بالا تر ہوکر حقائق سے عوام کو آگاہ کریں تاہم حقائق جب تک سامنے نہیں آتے اس وقت تک شہر قائد کے مذکورہ واقعہ کے تناظر میں کوئی حتمی بات نہیں کی جاسکتی جبکہ تحقیقات دو اعلیٰ سطحوں پر ہورہی ہے۔ آرمی چیف کی ہدایت پر کور کمانڈر کراچی اور دوسری طرف وزیر اعلیٰ، بلاول بھٹو کی ہدایات پر تحقیقات کمیٹی قائم کرچکے ہیں، ان کی رپورٹس میں حقائق جلد سامنے آجائیںگے۔ اس لیے قیاس آرائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ ماہرین نے درست رائے دی ہے کہ پولیس اور دوسرے اداروں کے درمیان ٹکراﺅ ملک کے لیے ٹھیک نہیں۔ وزیراعلیٰ کے انداز نظر کو مختلف حلقوں نے سراہا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ پولیس نے ملک کو دہشت گردی کے ناسور سے نجات دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ رینجرز اور پولیس کی مشترکہ کاوشوں کی بدولت شہر قائد میں امن بحال ہوا، میٹروپولیٹن سٹی کی رونقیں لوٹ آئیں۔ اگر دیکھا جائے تو پولیس فورس ہماری دوسری دفاعی لائن ہے۔ جن معاملات کا ذکر میڈیا میں ہوتا ہے اس کے مضمرات انتظامی اقدامات یا فیصلوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ لیکن پولیس ملک میں امن و امان کی بنیادی ذمہ داری نبھانے میں دیگر قانون نافذ کرنےوالے اداروں کے شانہ بشانہ ہے۔ سندھ پولیس کا اپناایک رول ہے اور وقت کی ضرورت ہے کہ ادارے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے پر اپنی انتظامی اور پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں اسی جوش و جذبہ سے قوم و ملک کی خدمت کریں۔اب لازم ہے کہ سیاسی سٹیک ہولڈرز ملکی سیاسی صورت حال کے دھارے کو عوامی امنگوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوششیں تیز کریں۔ جمہوریت میں امن و امان کا قیام اور شہریوں کی زندگی، آبرو اور چاردیواری کا تحفظ بنیادی ٹاسک ہیں۔ کوئی ریاست اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور معاشرے میں قانون کی حکمرانی کے بلند آدرش کے بغیر جمہوری منزل تک نہیں پہنچ سکتی۔ اس حقیقت کو کراچی میں پیش آنے والے واقعہ کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے، یہی ملک کے مفاد میں ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.