Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

امریکی کس کو ووٹ دیں؟ نسل پرست کو یا لبرل کو؟(آخری حصہ)

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

راجہ کامران
اپنے ٹیکس اہداف کو درست قرار دیتے ہوئے بائیڈن کہتے ہیں کہ امریکی اسٹاک مارکیٹ میں درج فورچیون 500 کمپنیوں میں سے 91 کمپنیاں ایسی ہیں جو امریکا میں ایک ڈالر یا پینی بھی ٹیکس ادا نہیں کرتی ہیں اور وہ اس ٹیکس چوری کر روکنا چاہتے ہیں۔ٹیکس چوری کے حوالے سے بائیڈن اپنے مدِمقابل پر ذاتی حملے بھی کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ٹرمپ نے اپنے دورِ صدارت کی ابتدا میں محض 750 ڈالر وفاقی ٹیکس ادا کیا۔ ٹرمپ نے اس کم ترین ٹیکس کا ذمہ دار بھی اوباما کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اوباما کی ٹیکس پالیسی ٹھیک نہیں تھی۔کورونا کی وجہ سے امریکا میں صحت کے شعبے میں بحران پیدا ہوگیا ہے۔ امریکا میں 70 لاکھ افراد کورونا کا شکار ہوئے ہیں اور 2 لاکھ سے زائد افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ امریکا دنیا کی آبادی کا 4 فیصد ہے جبکہ امریکا میں کورونا کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتیں دنیا میں ہونے والی ہلاکتوں کا 20 فیصد ہیں۔امریکی صدر ٹرمپ سابق صدر اوباما کی جانب سے متعارف کروائے گئے اوباما کیئر بل کو ختم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے صحت کے شعبے پر توجہ دی ہے اور ادویات کو سستا کردیا ہے۔ امریکا میں انسولین کو پانی جیسا سستا کردیا گیا ہے اور گورنروں کو اس بات کی اجازت دیدی ہے کہ وہ بیرونِ ملک سے ادویات خرید کر لاسکتے ہیں۔ جبکہ بائیڈن ووٹرز کو بتا رہے ہیں کہ اگر انہیں موقع ملا تو وہ اوباما کیئر کو آگے بڑھائیں گے۔بائیڈن اور ٹرمپ دونوں اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ پیداواری شعبے کو دوبارہ امریکا میں واپس لایا جائے گا۔صدر ٹرمپ تجارتی شعبے میں اپنے کارناموں میں میکسیکو سے تجارتی معاہدہ کرنے کے علاوہ کینیڈا سے مذاکرات کا ذکر کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یورپی یونین کے ساتھ معاہدے میں پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کا مقصد امریکی برآمدات میں اضافہ ہے۔ٹرمپ اسٹیل اور المونیم کی صنعت کو قومی سلامتی سے منسلک کرتے ہوئے غیر ملکی مصنوعات پر محصولات عائد کرنے کو اپنا کارنامہ گردانتے ہیں۔ اسی طرح چین پر تجارتی اور کاروباری الزامات عائد کرتے ہوئے چین پر محصولات عائد کرنا بھی اہم فیصلہ قرار دیتے ہیں۔بائیڈن کا منصوبہ ہے کہ امریکا کی تعمیرِ نو کی جائے۔ اس تعمیرِ نو میں سرمائے کو امریکا میں واپس لانے کو امتیازی اہمیت حاصل ہوگی۔ بائیڈن امریکی وفاقی خریداری کو لازمی مقامی پیداوار سے منسلک کریں گے، جو 4 ہزار ارب ڈالر ہے۔بائیڈن نے بنیادی ڈھانچے، جدت، مینوفیکچرنگ، تعلیم، رہائش، صاف توانائی، وفاقی خریداری اور چھوٹے کاروباروں میں جرآتمند سرمایہ کاری کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ بائیڈن امریکی معیشت میں پیچھے رہ جانے والے نسلی گرہوں، ایشیائی، لاطینی اور افریقی امریکیوں کو ترقی کے عمل میں شامل کرنے کے پ±رزور حامی ہیں اور ان کے انتخابی وعدوں میں یہ وعدہ متعدد مقامات پر نظر بھی آتا ہے۔ بائیڈن ایشیائی، لاطینی اور افریقی نسلی گروہوں میں تعلیم، صحت، ملازمت، کاروبار اور گھروں کی ملکیت کے کم ترین درجے میں بہتری کا بھی وعدہ کررہے ہیں۔
ٹرمپ کے مقابلے میں بائیڈن ماحولیاتی تبدیلی کو حقیقی تصور کرتے ہیں۔ وہ اپنے انتخابی منشور میں ناصرف ماحول کو بہتر بنانے کے لیے منصوبے لگانے کا وعدہ کررہے ہیں بلکہ ساتھ ہی یہ بھی بتا رہے ہیں کہ ہر منصوبے پر کتنے اخراجات آئیں گے۔صنعتی آلودگی سے موسمی تغیر کے علاوہ بڑھتی ہوئی فضائی اور پانی کی آلودگی بائیڈن کے منشور کا حصہ ہے۔ موسمی تبدیلی کی وجہ سے آنے والے بڑے طوفان اور سخت موسمی حالات بھی سیاہ فام اور بھورے امریکیوں کو زیادہ متاثر کررہے ہیں۔بائیڈن سال 2050ءتک امریکا میں 100 فیصد توانائی شفاف ذرائع سے حاصل کرنے کی حکمتِ عملی پیش کرتے ہیں جس میں امریکی حکومت کے دفاتر، عمارتوں اور تنصیبات پر زیادہ کارآمد اور ماحول دوست بجلی کی فراہمی اور سپلائی چین کو یقینی بنایا جائے گا۔
ٹرانسپورٹ کے شعبے پر موجودہ کلین ایئر ایکٹ کا اطلاق کیا جائے گا جس سے گرین ہاﺅس گیسز میں کمی آئے گی۔ گرین ہاﺅس گیسز امریکا میں فضائی آلودگی کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ مستقبل میں خریدی جانے والی ہلکی اور درمیانے درجے کی گاڑیاں 100 فیصد بجلی سے چلنے والی ہوں گی۔ اس کے علاوہ بائیو ایندھن، تیل و گیس کی تلاش کے لائسنس کے بجائے جنگلوں میں توسیع اور پانی کی بچت بائیڈن کے منشور کا حصہ ہیں۔دوسری جانب امریکی صدر اور آئندہ مدت کے لیے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ ماحولیاتی آلودگی اور موسمی تغیر کو حقیقی تصور نہیں کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں کاربن اخراج کے قوانین کو نرم کیا تھا اور وہ امریکی کوئلے کی برآمدات کو بھی اپنے کارناموں میں شمار کرتے ہیں۔امریکی صدارتی انتخابات میں امریکی عوام کے لیے فیصلہ مشکل ہوگا کہ آیا ایک نسل پرست ٹرمپ کو ووٹ دیں جس نے ٹیکسوں میں چھوٹ دی ہے یا پھر جو بائیڈن جیسے لبرل ذہنیت کے شخص کو امریکا کا صدر بنائیں جو ان پر اضافی ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کا اعلان کررہا ہے۔اس حوالے سے حتمی فیصلہ تو 3 نومبر کو ہونے والے رائے دہی کے آخری مرحلے میں ہوگا، مگر یہ بات طے ہے کہ امریکی صدارتی انتخابات طویل عرصے بعد مقامی مسائل اور معیشت پر لڑے جارہے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.