Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

بلوچستان کی پسماندگی کی ذمہ دار جماعتیں پی ڈی ایم کے اسٹیج پر بیٹھی تھیں، لیاقت شاہوانی

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے بارے میں جذباتی تقاریر ہم سنتے رہتے ہیں لیکن اچھا ہوتا کہ بلوچستان میں اپنے کرائے گئے ترقیاتی کاموں کا ذکر کر کے عوام کے سامنے اپنا مؤقف رکھتے تو لوگ اسے سنجیدگی سے لیتے۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ کل بھی بلوچستان صوبے کی پسماندگی کی بات کی گئی جس کی ذمہ دار اسٹیج پر دائیں بائیں بیٹھے تھے، 3 مرتبہ مسلم لیگ (ن) کی وفاق میں حکومت رہی کوئی ایک منصوبہ نہیں گنوا سکے اور حکومت کھو دینے، نااہلی اور الیکشن ہارنے کا غصہ نکالنے بلوچستان آگئے۔

ان کا کہنا تھاکہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن انتخاب ڈیرہ اسمٰعیل خان میں ہارے اور غصہ اتارنے بلوچستان آگئے، اسی طرح پیپلز پارٹی بھی 18ویں ترمیم کے سوا صوبے میں اپنا تعمیر کردہ کوئی بڑا منصوبہ نہیں بتا سکی۔

لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت الزامات کے کھیل اور منفی چیزوں میں نہیں پڑی نہ ہی کبھی غلط زبان استعمال کی، 18ویں ترمیم اور این ایف سی کارنامے ہیں جس کے فوائد بلوچستان کو بھی حاصل ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کی جانب سے اس لیے سننے کو نہیں ملا کیوں کہ انہوں نے کچھ کیا نہیں،مریم نواز کی تقریر لعنت سے شروع ہوئی اور لعنت پر ختم ہوئی ایک شرمناک تقریر تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کا منصب آئینی،جمہوری اور سیاسی منصب ہے جسے گالی دی گئی، آئین مخالف تقاریر کی گئیں،جس آئین کی بالادستی، جمہوری اقدار، انسانی شرافت، عزت، سیاست کی بات کی جاتی ہے کل اس کے پرخچے انہوں نے خود اڑا دیے۔

ترجمان بلوچستان نے کہا کہ جب جام کمال خان مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں وفاقی وزیر تھے اس وقت تو ان کا بہت احترام کرتے تھے، آج چونکہ وہ آپ کی بلوچستان دشمن حکومت کو چھوڑ کر عوام کے وسیع تر مفاد میں دوسری سیاسی جماعت میں شامل ہو کر وزیراعلیٰ بن گئے ہیں تو ان پر منفی تنقید کی جارہی ہے جس پر ہمیں افسوس ہے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں پاک چین اقتصادی راہداری کے 62 ارب روپے کے منصوبے آئے، جس میں سے محض 9 فیصد یعنی 5.5 ارب روپے بلوچستان کے لیے مختص کیے گئے اور اس میں سے بھی ایک ارب روپے سے کم رقم خرچ کی گئی اور ایک دو جو منصوبے بنے اس سے حاصل ہونے والی بجلی تو نیشنل گرڈ میں گئی جس کا صوبے کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

لیاقت شاہوانی کے مطابق پی ڈی ایم کے جلسے کے اسٹیج پر موجود 90 فیصد قائدین 10 جنوری 2016 کو اسلام آباد کے اسلام آباد ہوٹل میں بی این پی مینگل کی سی پیک اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس میں شریک تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام قیادت مغربی راہداری پر بات کرتے رہے اور اس کی تفصیلات پوچھ رہے تھے لیکن احسن اقبال نے فائل اپنے پاس دبائے رکھی جس پر اخترمینگل ناراض بھی ہوئے جنہیں سعد رفیق نے منانےکی کوشش کی۔

ترجمان بلوچستان کے مطابق میں نے اس وقت کے وفاقی وزیر میر حاصل بزنجو سے کہا کہ مجھے سی پیک کے اعداد و شمار چاہیئے آپ احسن اقبال سے مجھے دلوادیں جس پر انہوں نے جوب دیا کہ احسن اقبال سی پیک کی فائل اپنےسرہانے رکھ کر سوتے ہیں جس کا کسی کو علم نہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.