Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

کیا پاکستان مزید قرضے لینے کی سکت رکھتا ہے؟

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تنویر ملک

وزیر اعظم پاکستان کے مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے اعلان کیا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ چھ ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی بحالی کے لیے عالمی مالیاتی ادارے کی ٹیم جلد پاکستان کا دورہ کرے گی۔آئی ایم ایف نے جولائی 2019 میں پاکستان کو تین برس کے دوران چھ ارب ڈالر کا قرض دینے کی منظوری دی تھی تاکہ اس کے ذریعے ملک کی بیرونی ادائیگیوں کے ساتھ ساتھ پائیدار اقتصادی ترقی کو مدد فراہم کی جا سکے۔ اس پروگرام کے تحت اب تک پاکستان کو دو قسطوں میں 1.5 ارب ڈالر کی رقم وصول ہو چکی ہے۔تاہم رواں برس فروری میں یہ پروگرام اس وقت التوا کا شکار ہو گیا تھا جب پاکستان نے آئی ایم ایف شرائط کے تحت پاور سیکٹر کے نرخوں میں مزید اضافے کو جون کے مہینے تک ملتوی کرنے کا کہا تھا جس کی وجہ سے آئی ایم ایف کا اس پروگرام پر دوسرا نظرثانی جائزہ نہیں ہو سکا۔کورونا وائرس کی وبا نے جب دنیا بھر کی طرح پاکستان کو بھی متاثر کیا تو اس پروگرام کے تحت آئی ایم ایف سے مزید ادائیگی کو موخر کر دیا تھا۔ تاہم اس پروگرام کے معطل ہونے کے باوجود آئی ایم ایف نے پاکستان کو کورونا وائرس کے منفی اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے 1.4 ارب ڈالر کی رقم فراہم کی تھی جو اس پروگرام کا حصہ نہیں۔اب آٹھ سے نو ماہ کے بعد پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اس پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے مذاکرات ہونے جا رہے ہیں۔آئی ایم ایف کی جانب سے اس پروگرام کے دوبارہ شروع کرنے سے متعلق کچھ شرائط ہیں جن میں سب سے نمایاں پاکستان میں بجلی کے نرخوں میں اضافہ اور اضافی ٹیکس کی وصولی شامل ہیں۔سوال یہ ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے متاثرہ پاکستانی معیشت جو تقریباً ستر برسوں کے بعد پہلی بار گذشتہ مالی سال میں منفی شرح نمو میں داخل ہوئی، کیا آئی ایم ایف کی ان شرائط کو پورا کر پائے گی؟آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کی صورت میں ملکی معیشت پر کیا منفی اثر پڑیں گے اور کیا حالیہ عرصے میں ہونے والی کچھ معاشی ریکوری متاثر ہو گی؟ بظاہر معاشی ماہرین اور حکومتی افراد اس بارے میں متضاد خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔
پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا قرضہ کیوں ضروری ہے، اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے ماہر معیشت ڈاکٹر پرویز طاہر نے کہا کہ پاکستان کا یہ شروع سے مسئلہ رہا ہے کہ جب بھی کوئی حکومت اپنی مدت کے اختتام پر ہوتی ہے تو حکومتی اخراجات میں اضافے کی شکل میں ایک بڑا بجٹ خسارہ چھوڑ کر جاتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ بیرونی ادائیگیوں کا توازن بھی بگڑا ہی ہوتا ہے۔ ’ہر نئی آنے والی حکومت کو جب یہ خسارہ ورثے میں ملتا ہے تو اس کے پاس آئی ایم ایف کے پاس جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچتا۔‘ڈاکٹر پرویز کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کو بھی یہی مسئلہ درپیش تھا لیکن پہلے سال وہ اس کشمکش کا شکار رہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا چاہیے یا نہیں۔انھوں نے کہا کہ جب کئی ماہ بعد موجودہ حکومت آئی ایم ایف کے پاس گئی تو حالات بہت زیادہ خراب ہو چکے تھے جس کی وجہ سے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط بھی قبول کرنا پڑیں۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے ریونیو ڈاکٹر وقار مسعود خان نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب کسی ملک کو ادائیگیوں کا مسئلہ درپیش ہو تو آئی ایم ایف انھیں وسائل فراہم کرتا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ بہت عشروں سے چلا آ رہا ہے اور ہر ملک کے لیے فنانسنگ کا ایک کوٹہ ہوتا ہے اور اس لحاظ سے ان کی مدد کی جاتی ہے اور بعض اوقات کوٹے سے زیادہ رقم بھی دی جاتی ہے۔
لاہور سکول آف اکنامکس کے پروفیسر ڈاکٹر راشد امجد کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا لازمی نہیں لیکن پاکستان جیسے ملکوں میں جب ادائیگیوں میں توازن میں بگاڑ اور کرنٹ اکاو¿نٹ خسارہ بڑھ جاتا ہے تو ان کے پاس آئی ایم ایف کا آپشن ہی بچتا ہے کہ وہ ان سے قلیل مدتی اور درمیانی مدت کے لیے مدد حاصل کریں جو بغیر شرائط کے نہیں دی جاتی۔اس پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر راشد امجد نے کہا کہ اگر آئی ایم ایف کسی ملک پر اعتماد کا اظہار کر دے تو عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک جیسے بین الاقوامی مالیاتی ادارے بھی اس کے لیے مالی امداد اور قرضے فراہم کرنا شروع کر دیتے ہیں۔انھوں نے کہا اس کے ساتھ عالمی سرمایہ کار بھی آئی ایم ایف کی طرف دیکھتے ہیں کہ کسی ملک پر اس کا کتنا اعتماد ہے۔’اگر آئی ایم ایف کہہ دے کہ کسی ملک (جیسے پاکستان) کی معیشت ٹھیک نہیں تو بین الاقوامی مارکیٹ میں اس کے لیے اپنے بانڈز کے لیے سرمایہ کار ملنا بھی مشکل ہو جائے گا اور اگر کوئی مل بھی جائے تو وہ انتہائی کم داموں پر یہ بانڈ خریدے گا۔‘انھوں نے کہا کہ پاکستان نے بین الاقوامی مارکیٹ میں کچھ نئے بانڈ ز کا اجرا کرنا ہے جس کے لیے ضروری ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کے ساتھ اپنا پروگرام دوبارہ شروع کرے اور قسط ادا کرے۔ جس کا مطلب ہو گا کہ آئی ایم ایف نے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کر دیا ہے۔
ڈاکٹر راشد امجد نے کہا کہ بد قسمتی سے پاکستان کی آئی ایم ایف کے ساتھ تاریخ اچھی نہیں رہی اور پندرہ سے زائد پروگراموں میں سے فقط دو ہی مکمل کیے جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ’ایک قسط والا ملک‘ ہے کہ ایک قسط وصول کرنے کے بعد یہ پروگرام سے نکل جاتا ہے۔آئی ایم ایف پروگرام کے دوبارہ شروع ہونے اور اس کے ملکی معیشت پر منفی پہلوو¿ں پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر پرویز طاہر نے کہ اس پروگرام کی شرائط کی وجہ سے پاکستان میں معاشی ریکوری کی سرگرمیوں کے ر±ک جانے کا خدشہ ہے۔انھوں نے اس سلسلے میں بتایا کہ آئی ایم ایف کی شرائط میں بجلی کے نرخوں میں اضافہ شامل ہے۔ حکومت نے حال ہی میں صنعتی شعبے کے لیے بجلی کے کم نرخوں کے پیکج کا اعلان کیا ہے اگر آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کی بحالی کے لیے یہ نرخ بڑھائے جاتے ہیں تو صنعتی شعبہ اس سے متاثر ہو گا اور ملکی معیشت میں بحالی کی سرگرمی پر اس کا منفی اثر ہو گا۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی شرح نمو گذشتہ مالی سال میں منفی ہو گئی تھی۔ کورونا وائرس کے پیدا کردہ منفی معاشی اثرات کو زائل کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے سستے قرضوں کی فراہمی کے ساتھ شرح سود بھی کم کی گئی جس نے معیشت کو سہارا دیا اور ریکوری کے آثار برآمد ہونا شروع ہوئے۔ان کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کی جانب سے بحالی اور ٹیکس کی اضافی وصولیاں اور بجلی کے نرخ بڑھانے کی شرائط پورا کرنے کی صورت میں اس معاشی ریکوری کے ر±ک جانے کا خطرہ موجود ہے۔’اگر ٹیکس وصولی بڑھانی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ حکومت کو وہ رعایتیں ختم کرنا پڑیں گی جو وہ معاشی ترقی کے لیے مختلف شعبوں کو فراہم کی گئی ہیں جس کی وجہ سے معاشی بحالی کا عمل سست پڑ جائے گا۔‘ڈاکٹر پرویز نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کو پاکستان کی معاشی پیداوار سے غرض نہیں کہ یہ بڑھتی ہے یا گھٹتی ہے۔ ’اس کی غرض صرف یہ ہے کہ پاکستان کے پاس قرض واپس کرنے کی گنجائش ہے یا نہیں۔ اور ٹیکس وصولی اور بجلی کے نرخ بڑھانے کی شرائط اسی کی ایک کڑی ہے کہ کس طرح زیادہ سے زیادہ پیسے اکٹھے کر کے قرض کی واپسی کو ممکن بنایا جا سکے۔‘پاکستان کے سابق وزیر خزانہ اور مسلم لیگ نواز کے رہنما اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے لیے شرائط پر نظر ثانی ہونی چاہیے۔ان کے مطابق بجلی کے نرخوں میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے البتہ ٹیکس وصولی میں اضافے کی شرط میں کوئی مضائقہ نہیں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ ’اس حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام میں جانے میں بہت دیر کر کے ملک کا بہت بڑا نقصان کیا۔‘ انھوں نے زور دیا کہ مسلم لیگ نواز کی حکومت کے اختتام پر موجود معاشی اشاریوں پر اگر حکومت آئی ایم ایف پروگرام میں جاتی تو یہ ملک کےلیے بہت اچھا ہوتا۔’تاہم موجودہ حکومت نے بہت دیرسے آئی ایم ایف پروگرام میں جانے کا فیصلہ کیا اور جب پروگرام میں گئے اس میں جانے کے لیے ان کی ناقص منصوبہ بندی نے ملک کو معاشی طور پر بہت نقصان پہنچایا۔‘آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی اور اس سے جڑی سخت شرائط (جن میں ٹیکس میں اضافہ اور بجلی کے نرخ بڑھانا شامل ہیں) سے ملکی معیشت اور عوام کو کیسے محفوظ رکھا جائے گا اور اس سلسلے میں حکومت کی کیا حکمت عملی ہو گی؟ اس بارے میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے ریونیو ڈاکٹر وقار مسعود خان نے کہا کہ ہے ’ہماری کوشش ہے کہ اس انداز سے اس پروگرام کو بحال کیا جائے کہ جو ملک کی معیشت کے لیے مفید ہوں۔ ہماری کوشش ہو گی کہ اس کی بحالی سے غریب عوام پر بوجھ نہ بڑھے اور قیمتوں میں اضافہ بھی نہ ہو کیونکہ عام افراد میں چیزوں کی طلب کم ہو چکی ہے۔‘انھوں نے کہا کہ جو بات چیت ہو رہی ہے وہ اسی انداز سے ہو رہی ہے کہ لوگوں پر بوجھ کم سے کم پڑے۔کیا آئی ایم ایف پروگرام سے پاکستانی روپے کی قدر مزید کم ہو گی، اس پر ڈاکٹر وقار نے کہا کہ ’اب کرنسی کی قدر مارکیٹ طے کرتی ہے اور اس میں ا±تار چڑھاو¿ اس کا ثبوت ہے۔‘انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی ملک کی لیے ضروری ہے۔ڈاکٹر راشد امجد نے کہا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف دونوں کو اس پروگرام کی بحالی کے لیے لچک دکھانا ہو گی۔انھوں نے کہا ہے کہ پاکستان اگر شرائط پر آمادگی ظاہر کرتا ہے تو آئی ایم ایف کو بھی سمجھنا پڑے گا کہ کورونا کی وجہ سے ملکی معیشت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات سخت شرائط کی وجہ سے مزید بگڑ جائیں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.