Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

پی ڈی ایم میثاق درست ،پر حقائق مسخ نہ کیجیے

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جلال نورزئی
مقتدرہ درپیش سیاسی صورتحال کی سنگینی میں کوتابیں دکھائی دیتی ہے۔آبرومندانہ زباں و بیاںا و رطرز عمل حکمران حلقوں کا بھی نہیں۔یقینا حزب اختلاف کی جماعتیں جن کا اب پاکستان ڈٰیمو کریٹک موومنٹ میں اکٹھ کے بعض اظہارات سے بھی اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔چناں چہ پی ڈی ایم 17 نومبر کو منظور کی گئی اپنی بارہ نکاتی میثاق پر قائم رہے۔عداوت میں ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں تو لا محالہ ان کی تحریک منتشر ہو گی۔۔ جیسے مولانا فضل الرحمان کے بھائی سینیٹر مولانا عطاءالرحمان کے اشاروں اور کنایوں سے مترشح ہے کہ ہمسایہ ممالک کے اندر ہمارے پاﺅں کے نشانات جاتے ہیں۔ مولانا کا یہ اظہار کشمیر کے مو¿قف پر کاری وار ہے۔ جس کے لیے ان کی اپنی جماعت کی سالوں جدوجہد رہی ہے۔ افغانستان کے اندر روسی فوجی حملے،سیاسی مداخلت، بھارت کی ہم رکابی ۔ پھر اصحاب شمال کی کفالت ،ان کی عسکری و سیاسی نشونما جس کے لیے بھارت کے ساتھ ایران بھی ، افرادی، عسکری سازو سامان اور مالی طور پر ان کے سروں پرموجود رہا۔ نائن الیون کے نا خوشگوار سانحات کے بعد افغانستان پر امریکا کی قیادت میں نیٹو کے تحت دنیا کے 40ممالک کا افغانستان پر قبضہ ، طالبان کی حکومت کو تاراج کرنا، کھیت،کلیان، باغات، شہری و دیہی آبادیوں، اسکولوں، مدارس ، ہسپتالوں اور نظام زندگی کی تباہی اور افغان عوام کے قتل عام میں ہمسایہ ملک بھارت اور بالخصوص ایران پوری طرح شریک تھے۔ چناں چہ اس پورے منظر نامے میں جمعیت علماءاسلام منطقی رائے کی حامل ہے کہ ان ہمسائیوں نے انتہائی گھناﺅنی اور انسان کش پالیسیا ں اپنا رکھی ہےں۔ تسلیم کہ دہشتگردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں ،جنرل پرویز مشرف رجیم ان استعماری ممالک کے کندھے سے کندھا ملا کر افغانوں کی بربادی میں شامل ر ہی۔ جس کے خلاف جمعیت علماءاسلام، جماعت اسلامی اور دوسری دینی جماعتوں نے پاک افغان دفاع کونسل،بعد ازاں متحدہ مجلس عمل کے تحت زبردست تحریک چلائی اور یقینا جنرل مشرف رجیم کی اس تابع اور برادر کُش پالیسی نے ملک پاکستان کو بھی طرح طرح کی آزماﺅشوں اور مصائب سے دو چار کئے رکھا ۔ گویا پرویز مشرف رجیم کی افغان پالیسی اپنے پاﺅں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ثابت ہوئی ۔ کابل کے اسٹیج پر سجائی گئی نئی سامراجی بازی میں پاکستان کے لیے کوئی جگہ نہ رہنے دی گئی ۔ امریکا نے بھارت کو پہلو میں بٹھایا ۔نتیجتاً افغانستان کی اس نئی صورتحال کے باعث پاکستان عسکری گروہوں کی آماجگاہ میں تبدیل ہوا۔ جس کا خمیازہ ستر ہزار سے زائد جانوں کے ضیاع کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ اس ناسور سے اب بھی چھٹکارا نہ پایا جاسکا ہے ۔ چناں چہ جب اس نوع کا مو¿قف سامنے آئے گا تو بادی النظر میں اس کا مضر اثر کشمیری عوام کی طویل جدوجہد،افغان عوام ،افغان طالبان اور حزب اسلامی کی بے پناہ قربانیوں پر مشتمل آزادی کی طویل تحریک پر پڑے گا۔ علی الخصوص افغان طالبان نے افغان عوام کی حمایت سے امریکا کو نکلنے اور مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کر رکھا ہے۔ لہٰذا حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے سیاسی جنگ کے لمحہ اپنے اصولی مو¿قف سے انحراف نہیں کرنا چاہئے ۔ کشمیری عوام پر نریندر مودی کی فاشسٹ حکومت نے ظلم کے پہاڑ ڈھا رکھے ہیں ۔ یہی وتیرہ بھارت کی بزعم خویش سیکولر کانگریسی حکومتوں میں بھی رہا ہے۔ اور حیرت انگیز طور پر نئی دہلی پر حکمران ان دو جماعتوں کا نقطہ نظر کشمیر اورپاکستان بارے یکساں ہے۔ افغانستا ن کے اندر استعماری قبضہ گر ممالک کی معاونت میں بھارت کی مداخلت اور معاونت یکسانیت اور واضح لائن رکھتی ہیں ۔ حیرت انگیز امر یہ بھی ہے کہ پاکستان کے اندر بعض سیاسی حلقے کانگریس کی طرح بی جے پی کی حکومت ،ان کی پالیسیوں سے سے بھی قطعی ہم آہنگی اورموافقت رکھتے ہیں ۔ امریکی نمائندہ خصوصی زلمئی خلیل زاد نے اپنے دورہ بھار ت کے دوران بھارت کو افغان طالبان سے تعلقات بہتر بنانے ،ان سے مذاکرات کر نے کی تجویز دی تو افغان طالبان کی جانب سے مثبت رائے سامنے آئی۔ البتہ یہ واضح کرنا ضروری سمجھا کہ بھارت نے ہمیشہ افغان دشمنوں کا ساتھ دیا ہے۔افغان طالبان ہو یا حزب اسلامی دونوں جماعتیں سمجھتی ہیں کہ بھارت اور پاکستان اپنے تنازعات باہمی طور پر حل کریں ۔خصوصاً کشمیر ی عوام کی اخلاقی حمایت کرتے ہوئے دونوں ممالک کو قضیہ بات چیت کے ذریعے حل کے مﺅقف کا اعادہ کیا ہے۔ جے یو آئی کے سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری کا پچھلے دنوں، اتوار25اکتوبر کو کوئٹہ کے نواح ”ہزار گنجی “ میں دھماکا پی ڈی ایم جلسہ ناکام بنانے کی غرض سے کرایا جانے کا الزام درست نہیں ہے ۔ معروضی حقائق یہ ہیں کہ ہزار گنجی دھماکا ،کالعدم بلوچ عسکریت پسندوں کے گروہی جنگ کا شاخسانہ تھا ۔ جس میںاپنے منحرف و مخالف افراد کو بم دھماکے کا نشانہ بنایا گیا۔ مزید برآں پشاور مدرسہ دھماکا کرنے والے بھی شناخت کے لحاظ سے مخفی عنوان نہیں ہے۔جنہیں بدیہی طوربھارت اور کابل کے خفیہ اداروں نے پاکستان کے خلاف محفوظ کر رکھا ہے۔یہ گروہ ہی عوامی نیشنل پارٹی پر حملہ آور تھے ۔ان ہی نے مولانا عبدالغفور حیدری مولانا فضل الرحمان ، مولانا محمد خان شیرانی پر خودکش حملے کر ائے تھے۔اورجدا ان سے داعش بھی نہیں ہے ۔جس نے کابل یونیورسٹی کو طلباءو طالبات کے خون سے سرخ کردیا ۔کابل شہر پر راکٹ باری کی۔گویا اس حقیقت کو جھٹلانا نہیں چاہیے۔ قدموں کے نشان کابل ہو یا بھارت یہاں تک ایران کے بھی پاکستان کی طرف آتے ہیں۔ بہر کیف ملک میں سول و جمہوری معاملات میں مداخلت بلاشبہ ہو رہی ہے ۔ آئین کے وقار،پارلیمنٹ کی با لا دستی اور حاکمیت کا سوال درپیش ہے۔ لہٰذا اس باب میں سیاسی و جمہوری احتجاج و تحریک بہر طور جاری رکھنی چاہیے۔ البتہ سیاسی جنگ میں حقائق مسخ کرنے کی سعی جائز نہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.