Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

بلوچستان اسمبلی اجلاس سپیکر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا

0

کوئٹہ :  بلوچستان اسمبلی کا اجلاس پیر کے روز ایک گھنٹہ کی تاخیر سے سپیکر میر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلا س میں بی این پی کی رکن زینت شاہوانی کی رخصت کی درخواست پیش کی گئی جسے ایوان نے منظور کرلیا۔ اجلاس میں سپیکر میر عبدالقدوس بزنجو نے ارکان اسمبلی کو وزیراعلیٰ کے استعفے سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے آئین کے آرٹیکل130(8)کے تحت استعفیٰ دے دیا ہے اور ان کا استعفیٰ منظور ہونے کے بعد نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے جس کی کاپی ارکان کو فراہم کردی گئی ہے چونکہ اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ جام کمال کے خلاف اسمبلی کے قواعدانضباط کار کے تحت آج کے اجلاس میں عد م اعتماد کی قرار داد نمبر115پر رائے شماری ہونی تھی تاہم وزیراعلیٰ کے مستعفی ہوجانے کے بعد اب رائے شماری کی ضرورت نہیں لہٰذا قاعدہ 180کے تحت محرکین میں سے کوئی بھی ایک رکن قرار داد واپس لینے کی تحریک پیش کرے جس پر سردار عبدالرحمان کھیتران نے تحریک عدم اعتماد کی قرار داد واپس لینے کی تحریک پیش کی جس کی منظوری دے دی۔اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے بی اے پی کی رکن بشریٰ رند نے اپوزیشن سمیت تمام ارکان اسمبلی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ان کے لاپتہ ہونے کے معاملے پر آواز اٹھائی اور انہیں عزت دی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین ارکان اسمبلی، ان کے لئے آواز اٹھانے والے ارکا ن شکرگزار ہوں۔ سپیکر میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ تاریخ میں کبھی ایسا واقعہ نہیں ہوا۔بلوچستان اپنی روایات، خواتین اور اقلیتوں کو مقام دینے کے حوالے سے جانا چاہتا ہے قتل بھی ہوتو خواتین کے آنے پر وہ معاف کردیا جاتا ہے جو روایت ڈالی گئی وہ غلط ہے میڈیا سو ل سوسائٹی سمیت ہر طبقے نے اپنی آواز بلند کی اور آخری وقت تک ساتھ دیا اور اس روایت کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ارکان آخری وقت تک اپنے ساتھیوں کے ساتھ رہے میں نے اسمبلی کے فلور پر کہا تھا کہ تحریک عدم اعتماد ارکان کا حق ہے وہ جس کی چاہیں حمایت کریں اور میڈیا پر آکر اس کا اعلان بھی کریں انہوں نے کہا کہ ایسی روایات جمہوری اقدار کے منافی ہیں اس وقت جمہوریت ہے آمریت نہیں۔ بلوچستان کے لوگوں نے اس عمل کو محسوس کیا میں پورے ایوان کی جانب سے ارکان اسمبلی کو سلام پیش کرتا ہوں۔اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلوچستان روایات کاپاسدار صوبہ ہے ظلم کے خلاف ہمیشہ جدوجہد ہوتی رہی ہے جس طرح ارکان اسمبلی کو ہراساں کیا گیا لالچ، دھونس، دھمکیاں دے کر ان کی وفاداریاں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی30کروڑ تک کی پیشکش کی گئی لیکن ارکان اسمبلی ضمیر کی آواز پر ڈٹے رہے اور عوام اور اسمبلی کی خاطر مظالم برداشت کئے انہوں نے کہا کہ بد ترین آمر کا دور گزر گیا تین سال میں جو مظالم اٹھائے گئے ان کا سب کو علم ہے ہمیں مارنے تک کی کوشش کی گئی۔ حق نمائندگی چھینا گیا آخری دم تک آواز بلند کی اور بالآخر ہم کامیاب ہوگئے انہوں نے کہا کہ ہم نے جمہوریت پر کاربند رہتے ہوئے ظلم کے خلاف لڑنے والوں کا ساتھ دیا اور بد ترین آمر نیست و نابود ہوگیا۔ جس طرح گزشتہ تین سال سیاہ ترین گزرے ہیں اللہ نے کرے کہ آگے ایسا ہو نئی حکومت عوام کی ترجیحات ان کی تکالیف، مسائل، بنیادی ضروریات مد نظر رکھے صوبے میں گیس، بجلی، پانی سمیت دیگر اہم مسائل ہیں انہیں حل کیا جائے انہوں نے کہا کہ لوٹ کھسوٹ کی بجائے عوامی وسائل عوام پر خرچ ہونے چاہئیں سابق وزیراعلیٰ نے اپنے لوگوں کو نوازنے کے لئے منتخب لوگوں کے حلقوں میں مداخلت کی سپیکر کی کرسی کا بھی پاس نہیں رکھا گیا عوام کی حالت ابتر کردی گئی آنے والی حکومت ہر معاملے میں میرٹ کو ملحوظ خاطر رکھے، بیوروکریسی، سیکورٹی فورسز بھی عوام کا اعتماد بحال کریں انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی جمہوری سیاسی جدوجہد پر فخر ہے پہلی بار جمہوریت نے ایسی کامیابی حاصل کی ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجودوزیراعلیٰ کو پسپا ہونا پڑا۔انہوں نے کہا کہ تمام ارکان اظہر من الشمس ہیں ہم آئندہ بھی سیاہ تاریخ کو دہرانے والوں کے ہاتھ روکیں گے۔بی این پی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی نے کہا کہ متحد ہ اپوزیشن نے روز اول سے اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہم نے بلوچستان کے وسیع تر مفاد کے لئے مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کی لیکن جام کمال خان نے اپوزیشن کو دور رکھا وزیراعلیٰ ہاؤس کے دروازے بند کئے کبھی سردار صالح بھوتانی تو کبھی اکبر آسکانی کے استعفے بھی آئے لیکن جام کمال خان اپنی ہٹ دھرمی پرقائم رہے ہم نے بلوچستان کے وسیع تر مفاد میں اپنی آواز بلند کی انہوں نے کہا کہ 14ستمبر کو اپوزیشن تحریک عدم اعتماد لائی اس کے بعد حکومتی ارکان کی وفاداریاں تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں مخلوط حکومت کے ناراض ارکان نے بھی بہترین حکمت عملی کا مظاہرہ کیا اور 20اکتوبر کو تین خواتین سمیت پانچ ارکان کو اغواء کرنے کے باوجودبھی33ارکان نے وزیراعلیٰ کے خلاف کھڑے ہو کر عدم اعتماد کی تحریک کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ نے تحریک عدم اعتماد کا مقابلہ کرنے کا اعلان کیا اور کل رات تک کوششیں کیں کہ وہ طاقت او رپیسے کے استعمال سے ارکان کو دباؤ میں لائیں اور انہوں نے خزانے لوٹے ٹینڈر کئے گئے راتوں رات آرڈر ہوئے لیکن پھر بھی بچ نہیں پائے انہوں نے کہا کہ بجٹ میں سابق وزیراعلیٰ نے اپنے چہیتوں کو نوازا تاکہ فنڈز ہڑپ کئے جائیں انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران ہونے والے تمام احکامات منسوخ کئے جائیں سابق وزیراعلیٰ کے ساتھی بھی چاہتے تھے کہ وزیراعلیٰ معاملے کو طول دیں تاکہ وہ اپنی لوٹ کھسوٹ کر سکیں اپوزیشن کو تین سال میں کوئی فنڈ نہیں دیا گیا کونسلر کی نشست نہ جیت پانے والوں کو اس بجٹ میں بھی چالیس سے پچاس کروڑ روپے دیئے گئے جس کے ذریعے کرپشن کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تمام ارکان دباؤ کے باوجود بھی ثابت قدم رہے امید ہے کہ آنے والا قائد ایوان سب کو ساتھ لے کر چلے گا۔بلوچستان عوامی پارٹی کے رکن سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ جس دن بلوچستان اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی قرار داد پیش ہوئی وزیراعلیٰ کو اسی روز ہی اکثریت کا فیصلہ کرکے مستعفی ہوجانا چاہئے تھا صوبے کی ستر سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ اخلاقیات کو پامال کرکے خواتین کو حبس بے جا میں رکھا گیا ہمارے دو ساتھی اکبر آسکانی اور احسان شاہ کو بھی لاپتہ کیاگیا یہ کون سی اخلاقیات ہیں جس کا انہوں نے مظاہرہ کیا انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے ایک ذمہ دار شخص کے ذریعے مجھے بیس کروڑ روپے اور من پسند وزارت کی آفر دی جب میں نے انکار کیا تو مجھے دھمکیاں دی گئیں۔ اراکین اسمبلی کے بھائیوں اور ساتھیوں کو موبائل چوری جیسے واقعات میں ملوث کرکے گرفتار کیاگیا وہ اراکین جو ایک جگہ محصور تھے انہیں اغواء کرنے کی سازشیں کی گئیں انہوں نے کہا کہ صوبے کی روایات کی پامالی، فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم، بیڈ گورننس کے بعد اب سابق وزیراعلیٰ عوام کا سامنا نہیں کرسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم اب ایسی حکومت بنائیں گے جس میں ارکان اسمبلی پر بکتر بند گاڑیاں نہیں چڑھائی جائیں گی بلکہ جمہوری طریقے سے آگے بڑھیں گے انہوں نے مطالبہ کیا کہ 14ستمبر سے 25اکتوبر تک جو بھی تقرریاں ہوئی ہیں انہیں منسوخ کیا جائے۔ اس موقع پر سپیکر نے رولنگ دی کہ چیف سیکرٹری بلوچستان 14ستمبر سے لے کر اب تک ہونے والے تمام ٹرانسفر پوسٹنگ منسوخ کئے جائیں اور سیاسی بنیادوں پر اٹھائے جانے والے احکامات کو تسلیم نہ کیا جائے اس حوالے سے سیکرٹری اسمبلی گورنر اور چیف سیکرٹری کو خط لکھ کر بھی مطلع کریں۔پشتونخوا میپ کے رکن نصراللہ زیرئے نے کہا کہ تین سال میں صوبے پر مسلط حکمرانوں نے صوبے اور عوام کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات پر اپوزیشن نے موثر آواز اٹھائی جس کی پاداش میں اپوزیشن کو کچلنے کی کوشش کی گئی چودہ ستمبر کو اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد کی قرار داد جمع کرائی جسے تکنیکی وجوہات پر واپس کیا گیا اور اس کے بعد حکومتی اراکین نے عدم اعتماد کی قرار داد جمع کرائی جس روز یہ قرار داد اسمبلی میں جمع ہوئی اس روز چار اراکین اسمبلی کو غائب کیا گیا جو شرمناک واقعہ ہے منفی ہتھکنڈے استعمال کئے گئے اور باقی اراکین کو بھی لاپتہ کرنے کی کوششیں کی گئیں جس پرارکان اسمبلی ایک جگہ محصور ہوگئے انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والی حکومت اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلے گی۔سابق صوبائی وزیر نور محمد دمڑ نے کہا کہ ارکان اسمبلی نے سخت حالات کا مقابلہ کیابی اے پی کے سینئر رہنماؤں میر جان محمد جمالی اور سردار صالح بھوتانی نے پارٹی کو بچانے کے لئے بہت سے مسائل برداشت کئے انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک کسی کے ذات کے خلاف نہیں بلکہ صوبے کے عوام کے مفاد میں لائی گئی بلوچستان پاکستان کا سب سے پسماندہ صوبہ ہے یہاں لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہین عوام کے مسائل کے حل کے لئے آسمان سے فرشتے نہیں اتریں گے ہم نے ہی ان کے مسائل حل کرنے ہیں انہوں نے کہا کہ آئندہ دو سال میں ہم صوبے میں ایک نئی تاریخ رقم کریں گے تمام حلقوں کو یکساں ترقی دی جائے گی اور مسائل حل کئے جائیں گے جس طرح ارکان اسمبلی نے متحد ہو کر تحریک چلائی آئندہ بھی متحد رہیں گے انہوں نے کہا کہ میرے پہلے بھی جام کمال خان سے گلے رہے ہیں جن کا میں نے پہلے بھی اظہار کیا ہے اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے جام کمال خان نے وسائل کا استعمال کیا ان وسائل کا آدھا حصہ بھی ہرنائی کے زلزلہ زدگان میں تقسیم کیا جاتا تو آج وہ ٹینٹوں میں زندگی بسر نہ کررہے ہوتے نئی آنے والی حکومت ہرنائی کے زلزلہ متاثرین کے لئے ہنگامی بنیادوں پر پیکج کا اعلان کرے گی۔ جے یوآئی کے رکن اصغر علی ترین نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے استعفے نہ دینے کے پیچھے ان کے ذاتی مقاصد تھے ہمارے ارکان اسمبلی کو غائب کیا گیا صوبے کی تاریخ میں کبھی ایسا واقعہ نہیں ہوا کہ خواتین ارکان اسمبلی کواغواء کیا جائے۔ ارکان اسمبلی پر بکتر بند گاڑیاں چڑھا کر ان کی پگڑیاں اچھالی گئیں سپیکر کی رولنگ کے باوجود ہماری جانب سے اٹھائے گئے عوامی نوعیت کے مسائل پر حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو اس نہج تک پہنچانے میں ان کے اتحادیوں کاہاتھ ہے۔ گزشتہ شب تک ایک اتحادی وزیر لوگوں میں تعیناتیوں کا آرڈر تقسیم کرتے رہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس کی تحقیقات کرائی جائیں اور جو بلڈوزر گھنٹے تقسیم کئے گئے ان پر کمیشن بنایا گیا غیر منتخب لوگوں کو ملنے والے ترقیاتی فنڈز کی تحقیقات کے لئے بھی کمیشن بنایا جائے۔ سابق وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا کہ جام کمال خان اور ان کے اتحادیوں کی عدم موجودگی میں ان کے حوالے سے بات کرنے کی اجازت ہماری روایات نہیں دیتیں میں یہاں اسمبلی فلو رپر بہت ساری باتیں کرنا چاہتا تھا مگر چونکہ وہ یہاں موجود نہیں لہٰذا ان کی غیر موجودگی میں بات نہیں کروں گا وہ یہاں ہوتے تو میں ضرور کہتا کہ تین سال کے دوران انہوں نے صوبے میں کیا کچھ کیا۔انہوں نے استدعا کی کہ چونکہ جام کمال خان اسمبلی میں موجود نہیں لہٰذا اجلاس ملتوی کردیا جائے جس پر پینل آف چیئر مین کے رکن سردار عبدالرحمان کھیتران نے گورنر کا حکمنامہ پڑھ کر سناتے ہوئے اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لئے ملتوی کردیا۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.