Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

اسٹیبلشمنٹ جعلی حکومت کی حمایت چھوڑ دے آنکھوں پر بٹھائیں گے، فضل الرحمان

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس میں عدالتی فیصلے کے بعد صدر مملکت کے استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نام نہاد کابینہ نے جسٹس فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس بھیجا۔ عدالت نے ریفرنس بدنیتی پر مبنی قرار دیا۔ عدالتی فیصلے کے بعد حکومت اخلاقی جواز کھو چکی ہے۔ کس بنیاد پر آپ صدر اور وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھے ہیں؟

ملک کی معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ریاستوں کی بقا کا دارومدار معیشت کے اوپر ہوتا ہے لیکن پاکستان کنگال ہو چکا ہے۔ ان جعلی حکمرانوں کیخلاف ہماری تحریک اب مزید زور پکڑے گی۔

انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کی معیشت تباہ وبرباد کر دی گئی۔ واجپائی جب وزیراعظم تھا تو پاکستان کی معیشت بہتر تھی، وہ بھارت سے چل کر پاکستان سے دوستی کرنے آیا تھا لیکن آج وہی بھارت پاکستان کی معاشی کمزوری کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا۔ آج واضح اعلان کرتا ہوں کہ کوئی مائی کا لعل اٹھارویں ترمیم میں تبدیلی کا نہ سوچے۔ سندھ اور بلوچستان کے جزائر پر ان کی عوام کا حق ہے۔ کسی نادیدہ قوت کو بھی حاکمیت پر ڈاکے کی اجازت نہیں دیں گے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج چین اور سعودی عرب جیسے دوست ناراض ہو چکے ہیں۔ جب خزانے میں کچھ نہیں تھا تو سعودی عرب نے 3 ارب ڈالر بینکوں میں رکھے جبکہ موجودہ حکومت نے کہا کہ پاکستان سی پیک کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ گیس پائپ لائن منصوبے کو بھی خاک میں ملا دیا گیا۔ آج افغانستان، ایران کو پاکستان سے دلچسپی نہیں ہے۔ ان میں شعور ہی نہیں، خارجہ پالیسی کیا ہوتی ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی کا محور ہمیشہ کشمیر رہا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا عمران خان نے خود کشمیر کے تین حصوں کا فارمولا نہیں دیا تھا؟ اور دعا مانگی تھی کہ نریندر مودی کی حکومت آئے۔ بھارت نے کشمیر کی حیثیت تبدیل کی، انہوں نے خاموشی سے تسلیم کر لیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.