Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

ایمانویل ماکروں ایک بار پھر فرانس کے صدر منتخب

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

فرانس : ایمانویل ماکروں دائیں بازو کی امیدوار میرین لی پین کو شکست دے کر اگلے پانچ برسوں کے لئے پھر سے فرانس کے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔

ایمانویل ماکروں نے دوسرے راؤنڈ میں 58 فیصد ووٹ حاصل کئے جبکہ دائیں بازو کی امیدوار مارین لیپن تقریباً 42 فیصد ووٹ حاصل کر سکیں۔ صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں 10 اپریل کو ووٹنگ ہوئی تھی۔ صدر ایمانویل ماکروں پہلے مرحلے میں بھی 27 اعشاریہ 85 فیصد ووٹ حاصل کرکے پہلی پوزیشن پر رہے۔

انتہائی دائیں بازو کی امیدوار مارین لیپن نے 23 اعشاریہ 15 فیصد ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہی تھیں۔ یاد رہے کہ 2017ء کے صدارتی انتخاب میں بھی ایمانویل ماکروں اور مارین لے پین کے درمیان مقابلہ ہوا تھا۔ دوسرے مرحلے میں میکرون 66 فیصد سے زائد ووٹ لے کر صدر منتخب ہوئے تھے۔

ابتدائی جائزوں میں بھی کہا گیا تھا کہ ایمانویل ماکروں کو انتہائی دائیں بازو کی اور مہاجرین مخالف خاتون رہنما مارین لے پین پر 10 فیصد ووٹوں سے سبقت حاصل تھی۔ سیاسی ماہرین بھی ایمانویل ماکروں کو پسندیدہ امیدوار قرار دے رہے تھے۔

لے پین اگر جیت جاتیں تو وہ جدید فرانس کی پہلی انتہائی دائیں بازو کی رہنما اور پہلی خاتون صدر ہوتیں۔ دوسری جانب ایمانویل ماکروں گذشتہ دو دہائیوں میں دوبارہ انتخاب جیتنے والے پہلے فرانسیسی صدر بن گئے ہیں۔

یہ بات ذہن میں رہے کہ تقریباً 48 اعشاریہ 7 ملین فرانسیسی ووٹ دینے کے اہل ہیں۔

اس صدارتی انتخاب میں یورپ کے لیے بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا تھا۔ ایمانویل ماکروں یورپی یونین کے اتحاد کے حامی ہیں اور انہوں نے یورپی انضمام کا وعدہ کر رکھا ہے۔

دوسری جانب مارین لے پین اس بلاک میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی خواہش مند تھیں۔ ناقدین لے پین کے اس منصوبے کو ‘فریگزٹ‘ کا نام دیتے ہیں۔ یہ بالکل بریگزٹ کی طرح ہے یعنی جیسے برطانیہ یورپی یونین سے الگ ہو گیا تھا۔

مارین لے پین مہاجرین مخالف ہونے کے ساتھ ساتھ مسلم مخالف بھی ہیں اور انہوں نے کہا تھا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد عوامی مقامات پر ہیڈ سکارف پہننے پر بھی پابندی عائد کر دیں گی۔

صدر ایمانویل ماکروں نے کھلے الفاظ میں اس منصوبے کی مخالفت کی تھی تاکہ انہیں مسلمان ووٹروں کی حمایت حاصل ہو سکے۔ تاہم ووٹنگ سے پہلے لے پین کی ٹیم نے سکارف پر پابندی عائد کرنے کی تجویز واپس لے لی تھی اور کہا تھا کہ یہ موضوع اب ‘ترجیحی‘ نہیں رہا۔

یوکرین جنگ کے حوالے سے بھی ان دونوں صدارتی امیدواروں کے مابین اختلافات پائے جاتے ہیں۔ صدر ایمانویل ماکروں کا کہنا ہے کہ لے پین یوکرین تنازعے سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں کیوں کہ ان کی پارٹی نے روسی چیک بینک سے قرض لے رکھا ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.