Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

سینیٹ انتخابات: بلوچستان میں تحریکِ انصاف اور بی اے پی کے درمیان کیا اختلافات ہیں؟

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ(آن لائن )سینیٹ انتخابات: بلوچستان میں تحریکِ انصاف اور بی اے پی کے درمیان کیا اختلافات ہیں؟اختلافات کے باعث سینیٹ کے انتخاب کے حوالے سے بلوچستان میں حکمراں اتحاد میں شامل دو بڑی جماعتیں بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) اور پاکستان تحریک انصاف تاحال کوئی مشترکہ حکمت عملی طے کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہیں۔تحریک انصاف کے صوبائی صدر سردار یار محمد رند نے اس حوالے سے اپنی پارٹی کی مرکزی قیادت کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے وزیراعلی جام کمال خان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں اس وقت بی اے پی اور تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات اور مشکلات بھی دیگر جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں جس کے باعث وزیر اعلی بلوچستان نے وزیر اعظم کو تجویز دی ہے کہ وہ مداخلت کریں۔اس انٹرویو دینے کے بعد بی بی سی نے سردار یار محمد رند سے فون پر رابطے کی متعدد بار کوشش کی لیکن کال اٹینڈ نہ کرنے کے باعث ان سے ان کے تحفظات پر براہ راست بات نہیں ہوسکی بی بی سی کے مطابق کوئٹہ میں سردار یار محمد رند کے ترجمان بابر یوسف زئی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ پارٹی کے صوبائی صدر نے جن تحفظات کا اظہار کیا تھا پارٹی کی مرکزی قیادت نے ان کا نوٹس لیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ مرکزی قیادت کی جانب سے رابطوں کے بعد کوئٹہ میں پارٹی کا اجلاس ہو رہا ہے اور جب تک پارٹی کا اس سلسلے میں کوئی فیصلہ نہیں آتا وہ اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کرسکتے۔بلوچستان کے سینیئر صحافی رضا الرحمان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے سینیٹ کے انتخاب کے لیے جو پہلی نامزدگی کی اس کو پارٹی کی صوبائی قیادت نے قبول نہیں کیا۔تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کی جانب سے پہلے کاروباری شخصیت عبد القادر کو ٹکٹ دیا گیا تھا۔تحریک انصاف بلوچستان میں عبدالقادر کو ٹکٹ دینے کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا تھا کہ نہ صرف ان کا تعلق بلوچستان سے نہیں بلکہ وہ تحریک انصاف میں بھی نہیں رہے۔تاہم عبد القادر نے بلوچستان سے تعلق نہ ہونے کے دعوے کو مسترد کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق نہ صرف کوئٹہ سے ہے بلکہ انھوں نے تعلیم بھی کوئٹہ سے حاصل کی۔عبد القادر کی مخالفت کے بعد تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کی جانب سے پارٹی سے پرانی وابستگی رکھنے والے سید ظہور آغا کو ٹکٹ دیا گیا لیکن رضا الرحمان کے مطابق پارٹی کے پارلیمانی گروپ میں سید ظہور آغا کی نامزدگی کے حوالے سے بھی تحفظات ہیں۔صحافی رضا الرحمان کے مطابق بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے اپنی صوبائی قیادت بالخصوص صوبائی صدر کو سینیٹ کے امیدوار کی نامزدگی کے حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا جس کا تحریک انصاف بلوچستان کے صدر نے برملا اظہار بھی کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ کے معاملات پر بات کرنے کے لیے سردار یار محمد رند نے اسلام آباد میں وزیر اعظم سے ملاقات کی بھی کوشش کی تھی لیکن انھیں یہ شکایت ہے کہ انھیں ملاقات کے لیے وقت نہیں دیا گیا۔دوسری جانب سردار یار محمد رند کے بڑے صاحبزادے سردار خان رند بھی بلوچستان سے سینیٹ کے انتخاب میں حصہ لینے کے لیے آزاد حیثیت سے میدان میں ہیں۔بلوچستان اسمبلی میں تحریک انصاف کے اراکین کی تعداد سات ہے۔سینئر تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ اس تعداد کے ساتھ تحریک انصاف کو بلوچستان سے بمشکل ایک جنرل نشست مل سکتی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ سردار یار محمد اپنے بیٹے کے لیے تحریک انصاف کی ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے لیکن ان کی خواہش ہے کہ تحریک انصاف ان کے بیٹے کی حمایت کرے کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پارٹی کے سات ووٹوں میں سے چار ان کے ساتھ ہیں۔انھوں نے اس رائے کا اظہار کیا کہ تحریک انصاف بلوچستان میں سینیٹ کے حوالے سے اندرونی اختلافات کی شکار ہے جبکہ بڑی اتحادی جماعت بی اے پی کے ساتھ اختلافات کے باعث معاملات طے نہ ہونے کی وجہ سے اس کی مشکلات زیادہ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی صوبائی قیادت بی اے پی سے اس بات پر نالاں ہے کہ اس کے بعض قائدین عبدالقادر کی حمایت کیوں کر رہے ہیں۔شہزادہ ذوالفقار کے مطابق عبدالقادر کی میدان میں موجودگی کی وجہ سے تحریک انصاف بلوچستان کی صوبائی قیادت کو اپنے ووٹوں کی تقسیم کا خدشہ ہے۔تحریک انصاف بلوچستان کی مخالفت کے بعد پارٹی کی مرکزی قیادت کی جانب سے ٹکٹ واپس لینے کے بعد یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ عبدالقادر سینیٹ کے انتخاب میں حصہ لینے سے دستبردار ہوں گے لیکن ایسا نہیں ہوا، بلکہ انھوں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔ان کے تجویز اور تائید کنندگان وزیر اعلی بلوچستان کی جماعت بی اے پی سے تھے۔تحریک انصاف بلوچستان کی مخالفت کے باوجود وزیر اعلی جام کمال خان کا عبد القادر کے دفاع کے حوالے سے کہنا ہے کہ عبدالقادر تحریک انصاف اور بی اے پی کے مشترکہ امیدوارتھے۔وزیر اعلی کا یہ مقف ہے کہ اگرچہ تحریک انصاف نے عبد القادر کی حمایت کو ترک کیا لیکن بی اے پی ان کی حمایت سے دستبردار نہیں ہوئی۔شہزادہ ذوالفقار کے مطابق عبد القادر کی موجودگی سے خود بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار بھی تشویش میں مبتلا ہیں کیونکہ ان کو خدشہ ہے کہ عبدالقادر کی موجودگی میں ان کی کامیابی کے امکانات کم ہوں گے۔تحریک انصاف بلوچستان اور خود بی اے پی کے اندر سے مخالفت کے باوجود جام کمال کی عبدالقادر کی اعلانیہ حمایت کرنے کے حوالے سے شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ عبد القادر ایک بااثر شخصیت ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینیٹ میر صادق سنجرانی نہ صرف عبدالقادر کے بڑے حامی ہیں بلکہ بعض دیگر حلقوں کے بھی وہ قریب سمجھے جاتے ہیں جس کی وجہ سے بی اے پی میں اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات ان کی حمایت کررہے ہیںسینیٹ کے انتخاب کے حوالے سے جہاں تحریک انصاف مشکلات کا شکار ہے وہاں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کے مقابلے میں بلوچستان عوامی پارٹی کی مشکلات کہیں زیادہ ہیں۔ کوئٹہ پریس کلب کے صدر رضا الرحمان اس کی ایک بڑی وجہ پارٹی سے امیدواروں کی بڑی تعداد کے علاوہ باہر سے تعلق رکھنے والے امیدوار اور اتحادی جماعتوں کی امیدواروں کو قراردیتے ہیں۔بلوچستان سے باہر سے تعلق رکھنے والی جس امیدوار کو بی اے پی نے ٹکٹ دیا ہے وہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی خاتون ستارہ ایاز ہیں۔وہ سینیٹ کے گذشتہ انتخاب میں عوامی نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر خیبر پختونخوا سے کامیاب ہوئی تھیں لیکن گذشتہ سال چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے پارٹی ڈسپلن کی مبینہ خلاف ورزی پر اے این پی نے ان کو پارٹی سے نکال دیا تھا۔بی اے پی نے ستارہ ایاز کو جنرل نشست پر ٹکٹ دیا ہے جبکہ جنرل نشست پر خود بی اے پی کے سیکریٹری جنرل منظور کاکڑ، میر سرفراز بگٹی اور میر اورنگزیب جمالدینی امیدوار ہیں۔اس کے علاوہ مخلوط حکومت میں شامل عوامی نیشنل پارٹی کا یہ کہنا ہے کہ سینیٹ کے گذشتہ انتخاب میں ووٹ دینے کے بدلے میں بلوچستان عوامی پارٹی نے جنرل نشست پر ان کے امیدوار کی حمایت کے حوالے سے کمٹمنٹ کی ہے۔مخلوط حکومت میں شامل بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے صدر میر اسرار اللہ زہری بھی جنرل نشست پر امیدوار ہیں اور ان کی بھی خواہش ہے کہ اتحادی کی حیثیت سے بی اے پی ان کی حمایت کرے۔تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ اپنی پارٹی کے امیدواروں اور اتحادیوں کو خوش رکھنا وزیر اعلی جام کمال کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں حکمران اتحاد کا خیال ہے کہ وہ سینیٹ کی 12 خالی نشستوں میں سے آٹھ نشستیں آسانی سے حاصل کرسکتے ہیں۔تاہم ان کا کہنا ہے کہ حکمران اتحاد جن اختلافات اور مشکلات سے دوچار ہے اگر ان پر قابو نہیں پایا گیا تو شاید ان کے لیے اتنی نشستیں حاصل کرنا ممکن نہیں ہوسکے گا جس کے باعث خود وزیر اعلی بلوچستان بھی خدشات سے دوچار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعلی جام کمال نے تحریک انصاف کے ساتھ معاملات کو حل کرنے کے لیے وزیر اعظم کو ایک تجویز کی شکل میں بظاہر مداخلت کے لیے کہا ہےتحریک انصاف کے صوبائی صدر سردار یار محمد رند کی جانب سے وزیر اعلی جام کمال کو اعلانیہ تنقید کا نشانہ بنانے کے بعد وزیر اعلی نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے۔وزیر اعلی نے اس بیان میں وزیر اعظم کو مشترکہ پارلیمانی بورڈ تشکیل دینے کی تجویز پیش کی ہے۔وزیر اعلی کا کہنا ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی اور تحریک انصاف نہ صرف بلوچستان اور وفاق میں اتحادی ہیں بلکہ بی اے پی اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر سینیٹ کا انتخاب لڑنا چاہتی ہے۔اس اتحاد کو مد نظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم بلوچستان میں سینیٹ کے حوالے سے ایک مشترکہ پارلیمانی بورڈ قائم کریں جو کہ اس سلسلے میں تجاویز پیش کرے تاکہ بلوچستان میں سینیٹ الیکشن کے دوران عوامی پارٹی اور تحریک انصاف کے ووٹ ضائع نہ ہوں۔جب بی اے پی اور تحریک انصاف کے درمیان اختلاف کے حوالے سے بی اے پی کے سیکریٹری جنرل منظور کاکڑ سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اتحادی ملکر انتخاب لڑیں اس لیے وزیر اعلی بلوچستان نے وزیر اعظم کو مشترکہ پارلیمانی بورڈ تشکیل دینے کی تجویز دی ہے۔منظور کاکڑ نے کہا کہ اگر تحریک انصاف کے اندر سردار یار محمد رند کے کسی سے اختلاف ہے تو وہ اس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔بی اے پی کے مرکزی رہنما میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ سردار یار محمد رند ہمارے لیے قابل احترام ہیں اور وہ بلوچستان کابینہ کے بھی معزز رکن ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو اپنے کسی امیدوار کو کامیاب کرنے کے لیے ووٹوں کی ضرورت ہے جس پر دونوں پارٹیوں کے اتفاق سے عبدالقادر کو نامزد کیا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ بعد میں تحریک انصاف عبد القادر کی حمایت سے دستبردار ہوئی جبکہ پی ٹی آئی نے کاغذات جمع کرنے تک ان کی مدد کی لیکن جہاں تک ان کو ووٹ دینے کی بات ہے تو تاحال ابھی تک اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک بلوچستان سے باہر سے کسی امیدوار کو ٹکٹ دینے یا امیدواروں کی تعداد زیادہ ہونے کی بات ہے تو اس حوالے سے بھی بلوچستان عوامی پارٹی کو کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ ابھی تک بہت سارے امیدواروں کو اپنے کاغذاتِ نامزدگی واپس بھی لینے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.