Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

خطے کی صورتحال:” ڈومور سے ، نو مور تک “

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جمعرات24جون2021ئ
گزشتہ کچھ دنوں سے افغانستان کی صورتحال کو لے کر مختلف مباحث جاری ہیںرواں ہفتے وزیراعظم عمران خان برملا اور دوٹوک انداز میں اس عزم کا اظہار کرچکے ہیں کہ سرحد پار کارروائیوں کے لئے امریکی کو اڈے نہیں دیئے جائیں گے جبکہ گزشتہ روز سے ان کے اس مضمون کی صدائے بازگشت بھی ہر طرف سنائی دے رہی ہے جو انہوںنے ایک امریکی جریدے میں لکھا او ر جس میں انہوننے امریکہ کو اڈے نہ دینے کے فیصلے سمیت دیگر امور پر روشنی ڈالی ہے اورکہا ہے کہ افغانستان سے غیرملکی فوجیں نکلنے کے بعد کسی مزید تنازع کا خطرہ مول نہیں لے سکتے، پاکستان افغانستان میں امریکا کے ساتھ امن کے لئے شراکت دار بننے کے لئے تیار ہے لیکن اپنی سرزمین پر امریکی فوجی اڈوں کی اجازت نہیں دے گا ہم اس کے متحمل نہیں ہو سکتے، ہم پہلے ہی اس کی بھاری قیمت ادا کرچکے ہیںاگر ہم نے امریکہ کو اڈے دیئے تو دہشتگرد ہمیں نشانہ بنائیں گے وزیراعظم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ افغانستان میں کوئی ایک ہمارا پسندیدہ نہیں، کسی بھی ایسی حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لئے تیار ہیں جسے افغان عوام کا اعتماد حاصل ہو،افغان حکومت پاکستان پر الزام تراشی بند کرے، خطے میں امن و ترقی کے لئے ایک نئے علاقائی میثاق کی ضرورت ہے اگر امریکہ جو کہ تاریخ میں سب سے زیادہ طاقتور عسکری قوت کا حامل ہے، افغانستان میں 20 سال رہنے کے بعد بھی جنگ نہیں جیت سکا تو پاکستان میں اڈے قائم کرکے کیسے جیت پائے گا؟ افغانستان میں ہمارے ایک جیسے مفادات ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ وہاں تنازع کا سیاسی حل نکلے ، استحکام، اقتصادی ترقی ہو اور دہشت گردوں کی کوئی پناہ گاہ نہ ہو۔ہم افغانستان میں کسی بھی عسکری طاقت کے اقتدار سنبھالنے کے خلاف ہیں جس سے مزید خانہ جنگی جنم لے گی اگر افغانستان میں مسئلہ کا سیاسی حل نکلنے کی بجائے مزید خانہ جنگی ہوئی تو مزید پناہ گزین آئیں گے اور ہمارے سرحدی علاقوں میں عدم استحکام اور غربت میں اضافہ ہوگا وزیراعظم نے واضح کیا کہ ہم نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر پہلے امریکیوں اور پھر افغان حکومت کے ساتھ بٹھانے کے لئے بہت زیادہ حقیقی سفارتی کاوش کی ہے وزیراعظم عمران خان کے مذکورہ مضمون پر کافی بحث مباحثے ہورہے ہیں اور کہنے کو تو اس وقت ہمارے ہاں وطن عزیز میں اور بھی بہت سارے مسائل ہیں جن پر بات کرنی چاہئے تاہم کینوس کو تھوڑا سا وسیع کریں تو ہمارے خطے کے حالات بدستور افغانستان سے امریکی انخلاءکے ممکنہ اثرات اور بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال ایک ایسا موضوع بن چکا ہے جو اس وقت پوری دنیا کی توجہ کامحور بنا ہوا ہے چونکہ افغانستان میں امن ہو یا جنگ اس کے اثرات سے یہ پورا خطہ متاثر ہوئے بغیرنہیں رہ سکتااوپر سے یہ سوال بھی بہر طور غور طلب ہے کہ طویل جنگ کے بعد امریکہ جاتے ہوئے اپنے پیچھے کیا چھوڑ کر جارہا ہے کیا وہ دو عشروں قبل کے حالات چھوڑ کرنہیں جارہا ؟ کیا یہ وقت کی ضرورت نہیں کہ خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال کا فہم و ادراک کیا جائے اس مقصد کے لئے ضروری ہے کہ امریکہ افغانستان سے انخلاءسے پہلے اس بات کی حقانیت کو تسلیم کرے کہ افغانستان کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑنے کے کیانتائج ہوسکتے ہیں یوں تو گزشتہ روز یہ بھی خبر رپورٹ ہوئی کہ امریکی فوج نے عندیہ دیا ہے کہ افغانستان کے جاری حالات افغانستان سے امریکہ کے انخلاءکے عمل کو سست کرسکتے ہیں جبکہ دوسری جانب ایک سینئر امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان سے رابطہ کرنے میں ہچکچاہٹ کو حیرت انگیز قرار دیا ہے اور خبردارکیا ہے کہ افغانستان سے انخلا کرتے ہوئے پاکستان کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ تباہی کی صورت میں نکل سکتا ہے ری پبلکن سینیٹر کا کہنا ہے کہ انہیں یہ سن کر شدید حیرت ہوئی کہ صدرجو بائیڈن نے ابھی تک امریکہ پاکستان تعلقات اور افغانستان کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان عمران خان سے رابطہ نہیں کیا ان کا کہنا تھا کہ ہم کیسے یہ توقع کر سکتے ہیں کہ پاکستان سے بات چیت کے بغیر افغانستان سے ہماری واپسی مو¿ثرثابت ہوگی؟ بائیڈن انتظامیہ کو واضح طور پر یہ لگتا ہے کہ افغانستان میں ہمارے مسائل حل ہوچکے ہیں۔ افغانستان سے تمام افواج نکالنے اور اس حوالے سے پاکستان سے رابطہ نہ کرنے کا بائیڈن انتظامیہ کا فیصلہ بہت بڑی تباہی ہوگا یہاں تک کہ یہ عراق میں کی جانے والی غلطی سے بھی بڑی غلطی ہوگی امریکی سینیٹر کی اس رائے سے قطع نظر یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری اور اہمیت کا حامل ہے کہ امریکہ جس نے پاکستان سے محض ڈومو ر کے تقاضے ہی کئے ہیں نو مور کی بات شاید امریکہ کو ناگوار گزری ہو مگر یہ امر عین حقیقت پر مبنی ہے کہ نائن الیون کے بعد سے لے کر اب تک افغانستان میںدہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پاکستان نے بہت زیادہ قربانیاں دیں اور بہت زیاد ہ نقصان سہاوزیراعظم عمران خان نے وقت کی ضرورت اور حالات کے تقاضوں کو مد نظر رکھ امریکہ کو اڈے نہ دینے اور نو مورکی صرف صدا ہی بلند نہیں کی بلکہ اس کے عوامل و عواقب پر بھی روشنی ڈالی ہے ۔ایک طرف پاکستان کے وزیر خارجہ نے اپنے مذکورہ انٹرویو میں افغانستان کے لیے خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا ہے اور افغان حکومت اور طالبان کے مابین مفاہمت کی ضرورت پر زرو دیا ہے تو دوسری جانب افغانستان میں حکومت اور طالبان کے درمیان کشیدگی کے مسلسل بڑھنے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر افغان صدر اشرف غنی نے اپنی کابینہ کے دو اہم وزیروں اور آرمی چیف کو تبدیل کردیا ہے۔ اس سلسلے میں جنرل بسم اللہ خان محمدی کو وزیر دفاع اور جنرل عبدالستار خان مرزا خوال کو وزیر داخلہ کا قلمدان سونپ دیا گیا ہے۔ قبل ازیں، وزیر دفاع کا عہدہ اسداللہ خالد اور وزارتِ داخلہ کی ذمہ داری حیات اللہ حیات کے پاس تھی۔ اسی طرح انہوں نے فوج کے سربراہ کو تبدیل کرتے ہوئے جنرل یاسین ضیا کی جگہ جنرل ولی محمد احمدزئی کو افغانستان کا نیا چیف آف آرمی سٹاف تعینات کردیا ہے۔قابل غور بات یہ ہے کہ مذکورہ اعلان کے بعد ہی افغان حکومت کی طالبان کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ ہوا جن کے جواب میں طالبان نے بھی افغان سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔ یہ صورتحال پاکستان سمیت پورے خطے کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کئی ممالک افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے حق میں نہیں اور ان میں بھارت سر فہرست ہے۔ افغان سرزمین پر امریکی فوجوں کی موجودگی کی وجہ سے بھارت کو یہاں رہنے کا جواز ملا اور اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے اس نے پاکستان کو شدید نقصان پہنچانے کی کوششیں کیں۔ پاکستان کو بھارت کی طرف سے مختلف عناصر کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کروانے کے ثبوت بھی ملے اور انہی کی بنیاد پر پاکستان نے بین الاقوامی فورمز پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا۔ افسوس کی بات ہے کہ امریکا پاکستان سے دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے مسلسل ’ڈو مور ‘ کا تقاضا کرتا رہا لیکن اس نے کبھی بھارت کی ریشہ دوانیوں پر توجہ نہیں دی کہ وہ کس طرح سے افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں تخریب کاری کی کارروائیاں کر اور کروا رہا ہے۔ اس وقت بھی افغانستان میں جو بگاڑ پیدا ہورہا ہے اس میں بھارت کے ملوث ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت کو چاہیے کہ دفتر خارجہ اور مختلف ملکوں میں بیٹھے ہمارے سفارتی عملے کو متحرک کر کے بین الاقوامی برادری کی توجہ اس جانب دلائے تاکہ نہ صرف افغانستان میں امن قائم ہو بلکہ وہاں تخریب کاری کی کارروائیاں کرتے ہوئے پاکستان سمیت پورے خطے کے امن کو خطرے میں ڈالنے والے ممالک اور عناصر کو بے نقاب بھی کیا جاسکے تاکہ خطے کا امن و امان بحال ہو سکے اور جنوبی ایشیاءترقی کی منازل طے کر سکے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.