Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

اسرائیل سے امن معاہدے: مشرق وسطیٰ میں نئی علاقائی صف بندی کس نوعیت کی ہو گی؟

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

آج سے 72 برس قبل سنہ 1948 میں مشرق وسطیٰ میں وجود میں آنے والے ملک اسرائیل کی خطے میں حیثیت ایک ناپسندیدہ ہمسائے کی رہی ہے۔ تاہم مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک کے ساتھ اُن کے حالیہ امن معاہدوں پر ملاجلا ردعمل سامنے آیا ہے اور اس کے بعد خطے میں نئی علاقائی صف بندی سامنے آنے کی توقعات بھی ظاہر کی جا رہی ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زید، بحرین کے وزیر خارجہ عبدل لطیف الزینی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامن نیتن یاہو نے 15 ستمبر کو امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں معمول کے تعلقات قائم کرنے کے معاہدوں پر دستخط کیے جن کو ’ابراہیم معاہدہے‘ کا نام بھی دیا جا رہا ہے۔

ان معاہدوں پر کچھ ردعمل تو بالکل فطری اور متوقع تھا۔ فلسطینی علاقوں میں ان کی مذمت کی گئی اور ایران اور خطے میں اس کے اتحادیوں نے بھی ان کی مذمت کی، جبکہ مصر نے اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا گیا۔

لیکن دیگر ملکوں کا ردعمل غیر متوقع تھا۔ اردن، جو ماضی میں اسرائیل کے ساتھ ایک امن معاہدہ کر چکا ہے، کا ردعمل محتاط تھا جبکہ شام، جس کے ایران سے قریبی تعلقات ہیں، کی جانب سے اس معاملے پر خاموشی اختیار کی گئی۔

لبتہ سب سے دلچسپ ردعمل ان ملکوں کی طرف سے سامنے آیا جن کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ بھی اِن ہی ملکوں کی تقلید کریں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدوں کی تقریب میں خطاب کے دوران اس یقین کا اظہار کیا تھا کہ کم از کم پانچ یا چھ عرب ملک بہت جلد اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کریں گے۔ بعدازاں انھوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو کہا کہ سعودی عرب مناسب وقت پر سمجھوتہ کرنے کا اعلان کرے گا۔

سعودی عرب کی طرف سے جو ردعمل سامنے آیا وہ بہت مبہم یا غیر واضح تھا۔ لیکن سعودی ذرائع ابلاغ میں مختلف کہانی پیش کی گئی۔ ایک سوچ یہ سامنے آئی کے سعودی عرب کا اصل دشمن اسرائیل نہیں بلکہ ایران ہے۔

ذیل میں بی بی سی مانیٹرنگ نے عربوں کے ردِعمل پر قریب سے نظر ڈالی ہے جس کو تاریخی قرار دیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ان معاہدوں نے دنیا کے سب سے غیر مستحکم خطے میں ایک نئی شروعات کی ہیں۔

کئی دہائیوں سے اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان پس پردہ تعلقات کی خبروں کے بعد متحدہ عرب امارات پہلی خلیجی ریاست تھی جس نے 13 اگست کو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے کا سرکاری طور پر اعلان کیا۔ دونوں ملکوں کے قریب آنے کے اشارے دو سال سے مسلسل مل رہے تھے جس کے بعد یہ پیش رفت سامنے آئی ہے۔

متحدہ عرب امارات ایک عرصے سے خطے میں بڑی جارحانہ اور سرگرم خارجہ پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔

یہ علاقائی تنازعات میں بڑھ چڑھ کر لیکن اکثر خفیہ طور پر کردار ادا کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر لیبیا اور یمن میں یہ بہت سرگرم ہے تاکہ شدت پسندوں گروہوں اور ایران کو اپنا اثر و رسوخ بڑھانے سے روکا جا سکا۔

اسرائیل سے اپنے تعلقات معمول پر لانے کے متحدہ عرب امارات کے فیصلے کو خارجہ پالیسی کی ان ہی ترجیحات کے تناظر میں دیکھا جائے گا جن میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے مضبوط اتحادیوں کی تلاش ہے۔

متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ ان معاہدوں کو خطے میں اپنا قد اونچا کرنے کے لیے بھی استعمال کرنے کی کوشش کی ہے اور اماراتی حکام اور ذرائع ابلاغ یہ دعوے کر رہے ہیں کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدہ کرنے کی وجہ سے اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں میں مقبوضہ علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کے ارادے کو ترک کر دیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر خارہ عبداللہ بن زید نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ مشرق وسطی کے قلب میں تبدیلی لانے کا باعث بنے گا۔

ایک ماہ کے اندر ہی جب بحرین نے متحدہ عرب امارات کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کا اعلان کیا تو بہت سے مبصرین نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے بحرین کی چھوٹی سی ریاست کو ایسا کرنے کے لیے مالی امداد دی ہے۔

بحرین کی صورت حال مختلف ہے۔ بحرین میں اکثریتی آبادی شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے جبکہ حکمران سنی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ملک میں ایک عرصے سے بدامنی پائی جاتی ہے۔

ریاست کی سنی حکمرانوں کے لیے یہ صورت حال اسرائیل سے تعلق بنانے کے لیے ایک رکاوٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑی وجہ بھی تھی کیونکہ ملک کی حزب اختلاف پر ایران کا اثر و رسوخ بحرین کے حکمرانوں کے لیے بڑا واضح اور حقیقی خطرہ تھا۔

ملک کی شیعہ آبادی اسرائیل کے ساتھ معاہدے کی شدید مخالف ہے اور اس کا برملا اظہار بھی دیکھنے میں آیا۔ عرب دنیا میں بحرین میں عوامی سطح پر سب سے زیادہ احتجاج کیا گیا اور اس چھوٹے سے ملک میں کئی جگہوں پر مظاہرے کیے گئے۔

اسرائیل کے ساتھ برسوں کے پس پردہ تعلقات اور اسرائیل حکام کے دوحہ کے دوروں کے باوجو قطر کے نائب وزیر خارجہ لولا الخطیر نے 14 ستمبر کو ‘بلوم برگ’ نیوز ایجنسی کو دیئے گئے ایک بیان میں کہا کہ قطر اسرائیل کے ساتھ اس وقت تک تعلقات قائم نہیں کرے گا جب تک مسئلہ فلسطین کو حل نہیں کر لیا جاتا۔

قطر کی الشرق نیوز ایجنسی کے مطابق نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ وہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کی تقلید کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم نہیں کریں گے۔

ان سب باتوں کے باوجود قطر مسئلہ فلسطین میں ایک سرگرم کردار ادا کر رہا ہے اور فلسطینی شدت پسند گروہ حماس کو مالی امداد فراہم کرتا رہا ہے تک تاکہ غزہ میں صورت حال کو بگڑنے سے روکے رکھا جائے۔

عمان نے اسرائیل کے ساتھ سرکاری طور پر اپنا تعلق قائم نہیں کیا ہے لیکن اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے معاملے پر اپنے آپ کو خلیجی اور عرب ملکوں سے الگ تھلگ رکھا ہے اور کئی برسوں سے اسرائیل کے ساتھ قریبی اور کھلے بندوں روابط برقرار رکھے ہیں۔

اس کی واضح اور بڑی مثال سنہ 2018 میں اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کا عمان کا دورہ ہے جس کے دوران انھوں نے اس وقت ریاست کے امیر سلطان قابوس سے ملاقات بھی کی، جن کا 2020 کے جنوری میں انتقال ہو گیا۔

عمان عرب اور خیلجی ملکوں کے معاملات میں ثالثی کا کردار بھی ادا کرتا رہا ہے اور یہ ان چند عرب ملکوں میں شامل ہے جس کے ایران سے بھی تعلقات ہیں۔

سلطنتِ عمان نے تاریخی طور پر آزادانہ اور خود مختارنہ خارجہ پالیسی اپنائے رکھی ہے جس کا مقصد خطے میں اپنے تعلقات میں توازن برقرار رکھنا ہے۔ اس کے اس موقف کا نتیجہ اسرائیل کے ساتھ کسی امن معاہدے پر نہیں نکلنے والا۔

کویت

کویت غالباً واحد خلیجی ریاست ہے جو مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل ہونے تک اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات قائم نہ کرنے کی پالیسی پر آخر تک سختی سے کار بند رہے۔

کویت میں بڑی تعداد میں فلسطینی تارکین وطن اور نسبتاً زیادہ مضبوط حزب اختلاف کی موجودگی کی وجہ سے اس نے خطے میں عرب اور خلیجی حکمرانوں کی اسرائیل کے بارے میں بدلتی ہوئی سوچ کے برعکس اعلان کیا کہ وہ مسئلہ فلسطین کے بارے میں اپنے موقف پر ڈٹا رہے گا اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

کویت کی خارجہ پالیسی بھی عمان کی خارجہ پالیسی کی طرح ہے اور شاید اس کو یہ پالیسی جاری رکھنے کی اجازت حاصل رہے۔

لیکن اس بات کا بھی قوی امکان موجود ہے کہ اس کے خلیجی ہمسائے اور اس کا سب سے بڑا اتحادی اور طاقت ور ترین ملک امریکہ اسے اسرائیل سے کسی نہ کسی صورت میں تعلقات قائم کرنے پر بلاآخر رضا مند کر لے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.