Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

انخلا کیلئے طالبان سے قریبی رابطہ : بائیڈن : ضروری ہوا تو انکے ساتھ کام کرینگے : بورس جانسن :

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

واشنگٹن ، لندن، ماسکو، کابل  :   افغانستان پر طالبان کے کنٹرول کے بعد بدلتی صورتحال میں امریکی صدر نے واضح کیا ہے کہ امریکا سے منسلک افغان شہریوں کو کابل ایئرپورٹ تک رسائی دینے کیلئے طالبان سے قریبی رابطہ ہے جبکہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ضروری ہوا تو طالبان کے ساتھ کام کریں گے ، روسی صدر نے مغربی ممالک سے افغانستان میں دخل اندازی نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے ،دوسری جانب طالبان نے امارت اسلامی افغانستان اور نیا آئین بنانے کا اعلان کردیا ہے جبکہ کابل ائیرپورٹ پر ہزاروں افراد بیرون ملک جانے کیلئے بے تاب ہیں ،امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر جو بائیڈن نے کہا طالبان کے ساتھ امریکیوں کو ایئرپورٹ کی رسائی دینے کا معاہدہ ہے ،اس لئے مزید فوجی بھیجنے کی ضرورت نہیں ، اب تک امریکی پاسپورٹ رکھنے والے ہر شخص کو ایئرپورٹ تک جانے دیا گیا ہے ، یہ فیصلہ طالبان کے ہاتھ میں ہے کہ عالمی برادری سے خود کو تسلیم کرانا ہے یا نہیں، امریکانے طالبان کو بتا دیا ہے کہ اگر اُنھوں نے انخلا کے آپریشن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی تو امریکا کی جانب سے فوری اور بھرپور ردِعمل آئے گا، حکام مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں،گزشتہ ہفتہ نہایت دل شکن رہا ہے ،ہم نے بدحواس لوگوں کو انتہائی بے تابی کے عالم میں دیکھا ہے ، یہ سب قابلِ فہم ہے ، وہ خوف زدہ ہیں، وہ اداس ہیں، وہ غیر یقینی کا شکار ہیں کہ آگے کیا ہوگا،پانچ ہزار امریکی سپاہی اب بھی کابل ایئرپورٹ پر ہیں اور آئندہ کچھ گھنٹوں میں مزید ایک ہزار سپاہیوں کا اضافہ ہو سکتا ہے ،امریکاکے اتحادیوں کی جانب سے ہماری ساکھ پر کوئی سوال نہیں دیکھا،میں نے ایسا کچھ نہیں دیکھا بلکہ میں یہ کہوں گا کہ معاملہ اس کے بالکل الٹ ہے ،بڑی تعداد میں امریکیوں اور افغانوں کو نکال رہے ہیں، سات عالمی طاقتوں جی سیون کا اجلاس اگلے ہفتے ہوگا جس میں افغانستان کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا،امریکیوں اور افغانوں کو بڑے پیمانے پر افغانستان سے نکالا جا رہا ہے تاہم یہ ایک پرخطر آپریشن ہے اور وہ حتمی نتیجے کے بارے میں کوئی وعدہ نہیں کر سکتے ، 14 اگست سے لے کر اب تک 13 ہزار افراد کو افغانستان سے نکالا جا چکا ہے ، امریکا کا طالبان سے قریبی رابطہ ہے تاکہ امریکاسے منسلک افغان شہریوں کو کابل ایئرپورٹ تک پہنچنے دیا جائے ۔امریکی باشندوں کے مکمل اخراج تک افواج افغانستان میں رہیں گی،امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا طالبان سے کوئی دشمنی نہیں، بات چیت کیلئے دروازے کھلے ہیں،امریکی چیف آف سٹاف جنرل مارک ملی نے کہا افغانستان میں صورتحال خطرناک ہے ،اگر طالبان نے حملہ کیا تو ان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو برطانیہ طالبان کے ساتھ مل کر بھی کام کرے گا،خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اُنھوں نے اس موقع پر اپنے وزیرِ خارجہ ڈومینیک راب کا دفاع بھی کیا جو افغان صورتحال سے نمٹنے کے معاملے پر تنقید کی زد میں ہیں۔بورس جانسن نے میڈیا کو بتایا کہ میں اپنے لوگوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ افغانستان کا حل تلاش کرنے کے لیے ہماری سیاسی اور سفارتی کوششیں جاری رہیں گی جس میں ضرورت پڑنے پر طالبان کے ساتھ کام کرنا بھی ہے ۔جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا اُنھیں اب بھی وزیرِ خارجہ ڈومینیک راب پر اعتماد ہے تو اُنھوں نے کہا بالکل ۔روس کے صدر ولادی میر پوٹن نے کہا ہے کہ دوسرے ممالک کو افغانستان پر اپنی مرضی مسلّط نہیں کرنی چاہیے اور حقیقت یہ ہے کہ طالبان نے افغانستان کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے ۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وہ ماسکو میں جرمن چانسلر اینگلا مرکل کے ساتھ مذاکرات کے بعد میڈیا سے بات کر رہے تھے ۔صدر پوٹن نے اُمید کا اظہار کیا کہ طالبان اپنے وعدے پورے کریں گے اور یہ اہم ہے کہ دہشتگردوں کو افغانستان سے نکل کر خطے کے دوسرے ممالک میں پھیلنے سے روکا جائے ، پوٹن نے کہا کہ باہر سے بیٹھ کر اجنبی اقدار مسلّط کرنے اور اُن ممالک کیلئے اجنبی ماڈل کی جمہوریت تیار کرنے کی غیر ذمہ دارانہ پالیسی کو رکنا چاہیے جس میں تاریخی، قومی اور مذہبی روایات کو مدِنظر نہیں رکھا جاتا۔ہم افغانستان کو جانتے ہیں، ہم اُن لوگوں کو اچھی طرح جانتے ہیں اور ہم نے سیکھا ہے کہ یہ ملک کیسے کام کرتا ہے ، اس کی روایات کے برعکس سیاسی اور سماجی نظام اس پر نافذ کرنا کتنا نقصا ن دہ ہو سکتا ہے ۔ایسے کوئی بھی سیاسی اور سماجی تجربے ماضی میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں ، اس سے صرف ریاستوں کی بربادی اور اُن کے اپنے سیاسی اور سماجی نظام کی تباہی ہوئی ہے ۔اُنھوں نے کہا کہ طالبان نے جنگ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے شہریوں اور سفارتکاروں کی سلامتی کی یقین دہانی کروائی ہے اور اُنھیں اُمید ہے کہ اس سب پر عمل ہوگا۔ ترک صدر رجب طیب اردوگان نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ترکی طالبان سے بات کر سکتا ہے ۔اگر ضرورت پڑی تو ہم طالبان سے بات کر سکتے ہیں، ہمارا دروازہ جب بھی بجایا گیا، ہم دروازہ کھولیں گے ۔چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی نے اپنے برطانوی ہم منصب ڈومینک راب سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری افغانستان پر دباؤ ڈالنے کی بجائے اس کی مدد کرے ، افغانستان میں صورتحال غیر مستحکم اور غیر یقینی ہے ، چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے دعویٰ کیا کہ عالمی برادری کی مدد اور حمایت افغانستان میں استحکام لانے میں معاون و مددگار ثابت ہو گی۔یورپی یونین کی پارلیمنٹ سے خطاب میں یونین کے وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں جو کچھ ہوا قیامت سے کم نہیں ہے ، فوری طور پر ترقیاتی امداد معطل کررہے ہیں تاہم اقوام متحدہ کی مدد سے انسانی مدد جاری رکھی جائے گی۔عالمی مالیاتی ادارے نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ افغانستان کو دی جانے والی امداد کو عارضی طور پر معطل کر رہے ہیں،دریں اثنا کابل میں انتقال اقتدار اور حکومت کی تشکیل کیلئے طالبان رہنما قندھار سے کابل پہنچنا شروع ہوگئے ہیں ،کابل روانگی سے قبل ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے طالبان کے سابق وزیر قانون ملا نور الدین ترابی نے کہا کہ طالبان کی اہم قیادت کابل روانہ ہوگئی ہے ،سیاسی رہنماؤں سے مذاکرات کیلئے پہلے ہی ملا برادر کابل میں موجود ہیں، طالبان قیادت سیاسی قائدین سے حکومت سازی پر بات چیت کرے گی،افغانستان میں امارتِ اسلامی قائم کرنے کا اعلان افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی ایک ٹویٹ میں کیا،انہوں نے افغانستان اسلامی امارت کے جھنڈے اور سرکاری نشان کی تصاویر بھی شیئر کیں ،ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں کہا کہ افغانستان پر برطانیہ کا متنازعہ تسلط ختم ہونے کے 102سال بعد وہاں امارتِ اسلامی کی بنیاد رکھی گئی ہے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 19اگست کا دن ہر سال نوآبادیاتی سپر طاقتوں سے آزادی کے دن کی حیثیت سے منایا جائے گا،ذبیح اللہ مجاہد نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں لیکن کسی نے مداخلت کی تو اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے ،انہوں نے کہا افغان عوام طالبان کے ساتھ مل کر کام کریں اور کثیر الجہتی نظام بنانے میں طالبان کی مدد کریں،ترجمان طالبان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ طالبان کسی بھی ملک کے خلاف دشمنی کے جذبات نہیں رکھتے اور چاہتے ہیں کہ کوئی بھی ملک ہمارے معاملات میں مداخلت نہ کرے ۔ افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ افغانستان میں ابھی اقتدار کا خلا ہے اس لیے ملک میں سب سے پہلے جامع حکومت کے قیام کی ضرورت ہے ،چینی میڈیا کو دئیے گئے انٹرویو میں سہیل شاہین نے کہا کہ چین افغانستان میں امن اور مفاہمت کو فروغ دینے میں تعمیری کردار ادا کرسکتا ہے ،انہوں نے افغانستان کی تعمیر نو کیلئے چین کے تعاون کا بھی خیر مقدم کیا ،سہیل شاہین نے کہا افغانستان میں افغانوں پر مشتمل نئی جامع حکومت کیلئے بات چیت جاری ہے ، نئی جامع حکومت کے فریم ورک میں تمام افغان زیرغور ہیں اور منتخب کی والی افغان شخصیات کے ناموں کا اعلان کیا جائے گا۔ افغانستان میں ابھی اقتدار کا خلا ہے اور کسی قسم کے الیکشن کا وقت نہیں ، ملک میں کوئی آئین نہیں لہٰذا نیا آئین تیار کرکے منظور کیا جائے گا، بہت کام ہے جو بعد میں کیے جائیں گے البتہ افغانستان میں سب سے پہلے جامع حکومت کے قیام کی ضرورت ہے ،بہت جلد وسیع البنیاد حکومت بنائیں گے ،افغانستان کے سیاسی رہنماؤں کو بھی حکومت میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔نئی افغان فورس کی تشکیل پر غور شروع کردیا ہے ، امریکا اور نیٹو کے چھوڑے اسلحہ، بارود، گاڑیوں اور دیگر املاک کی فہرست بنا رہے ہیں۔ اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں امن و امان بحال رکھنا اولین ترجیح ہے ، کابل ائیرپورٹ پر جو کچھ ہوا، طالبان اس کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ترکی کے ایک حکومت نواز اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ اُنھیں افغانستان کی تعمیرِ نو کیلئے ترکی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ،ہمارا پورا انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا ہے ،ہم افغانستان کی تعمیرِ نو کریں گے اور ہر علاقے کو نئے سرے سے استوار کریں گے ۔ ہمیں اس معاملے میں ترکی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ۔اُنھوں نے مزید کہا کہ ترکی ہمارے لیے بہت اہم ہے ، یہ ایک باعزت اور مضبوط عالمی ملک ہے اور اسلامی برادری میں ایک اہم مقام رکھتا ہے ، ترکی اور افغانستان کے تعلقات کا موازنہ کسی اور ملک سے نہیں کیا جا سکتا،ایک افغان طالبان عہدیدار نے کہا ہے کہ طالبان ارکان کو مساجد میں شہریوں کے ساتھ نمازِ جمعہ کی ادائیگی کی اجازت ہے ، متعدد ملکوں اور تنظیموں نے افغانستان سے انخلا میں مدد کیلئے طالبان سے رابطہ کیا ہے ،ادھر کابل کی تاریخی اور سب سے بڑی پلِ خشتی مسجد نے طالبان حکومت کی حمایت کا اعلان کر دیا،طالبان رہنما حاجی خلیل الرحمن حقانی نے مسجد میں خطاب کیا جہاں ہزاروں لوگوں نے انھیں اپنی حمایت اور تعاون کا یقین دلایا،خلیل حقانی مشہور جہادی شخصیت جلال الدین حقانی کے چھوٹے بھائی ہیں،علاوہ ازیں 19اگست کو افغانستان کے یوم آزادی کا جشن کابل سمیت کئی شہروں میں دھوم دھام سے منایا گیا، افغان شہری قومی پرچموں کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے ، دارالحکومت میں گاڑیوں کی ریلی بھی نکالی گئی، کئی علاقوں میں خواتین بھی ریلی میں شریک ہوئیں اور نعرے لگاتی رہیں، کنڑ کے شہر اسد آمد میں یوم آزادی کے جشن کے دوران فائرنگ سے متعدد افراد ہلاک ہوگئے ، صوبے زابل کے دارالحکومت قلات میں سفید قمیض اور شلوار میں ملبوس طالبان کے خصوصی دستے نے مارچ پاسٹ کیا جس کے بعد یوم آزادی کی مناسبت سے دستوں نے خصوصی مشقوں میں حصہ لیا جہاں جنگی حربوں کا مظاہرہ کیا گیا،دستے کی شہر میں گشت کرنے کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی رہیں،خیال رہے کہ 8 اگست 1919 کو ایک معاہدے کے تحت افغانستان نے برطانوی راج سے آزادی حاصل کی تھی اور اسے خودمختار ملک تسلیم کیا گیا تھا،اسی مناسبت سے 19 اگست کو افغانستان کا یوم آزادی منایا جاتا ہے ۔دوسری جانب 80 کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف بھرپور جنگ کرنے والے مقتول رہنما احمد شاہ مسعود کے 32 سالہ بیٹے احمد مسعودنے پنج شیر وادی میں اپنے گڑھ سے طالبان کے خلاف لڑنے کا اعلان کیا ہے جبکہ احمد شاہ مسعود کے بھائی احمد ولی مسعود نے ترک میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود نوجوان ہیں، اپنے لوگوں کا خیال رکھ رہے ہیں، انہوں نے طالبان کیخلاف ابھی تک کوئی ایکشن نہیں لیا، کابل میں اچھی حکومت بنے گی تو احمد مسعود بھی تسلیم کریں گے ، پرانی تاریخ دہرائی گئی تو طالبان کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا،انہوں نے امر اللہ صالح کے صدارت کے دعوے کو مسترد کر تے ہوئے کہا کہ اشرف غنی کے فرار کے بعد امر اللہ صالح کی کوئی حیثیت نہیں، احمد ولی مسعود نے سابق حکومت میں شامل تمام افراد کو غیر متعلقہ قرار دیا، ادھر بغلان میں مقامی مزاحمتی فورسز نے صوبے کے ضلع پُلِ حصار کو طالبان سے چھیننے اور ضلع اندراب کے علاقے بانو پر بھی قبضے کا دعوی کیا ہے ،اب ضلع دیہہ صلاح کی طرف پیش قدمی جاری ہے ۔بغلان کے ضلع دیہہ صلاح کے مرکز میں افغان پرچم بھی لہرایا گیا۔ادھر کنڑ میں طالبان سے داعش کی لڑائی کی اطلاعات ہیں،شہر خوست میں طالبان انتظامیہ نے کرفیو نافذ کردیا جس کے بعد سڑکوں پر سناٹا ہوگیا ہے ۔مزید برآں کابل ائیرپورٹ پر کمپاؤنڈ کے داخلی دروازے کے باہر ہزاروں لوگ خاندان کے ساتھ ملک سے باہر جانے کے منتظر ہیں،سفری دستاویزات کے حامل افراد کو کابل ایئرپورٹ جانے سے روکنے کی اطلاعات ہیں تاہم طالبان ترجمان کا کہنا ہے غیر ملکیوں کے ساتھ افغانوں کو بھی ملک چھوڑنے کیلئے محفوظ راستہ دے رہے ہیں۔نیٹو عہدیدار نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد گزشتہ 5دن کے دوران کابل ایئر پورٹ سے 18ہزار افراد کا انخلا کرایا گیا ہے ، کابل ایئر پورٹ کے تمام دروازوں پر شہریوں کا رش ، ویک اینڈ پر کابل ایئر پورٹ سے انخلا کا عمل دو گنا کرنے کا ارادہ ہے ۔ روس نے افغان باشندوں کو افغانستان سے نکالنے کیلئے طیاروں کی فراہمی کی پیشکش کردی ۔افغانستان میں تعینات پاکستانی سفیر منصور خان نے کہا طالبان نے واضح کیا تھا کہ وہ طاقت میں آئیں گے تو اتحادی حکومت بنائیں گے ، افغانستان میں پاور شیئرنگ کے ساتھ ہی نظام چلایا جا سکتا ہے ۔ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے منصور خان نے کہا افغانستان میں تمام معاملات کو سیاسی مفاہمت ہی سے آگے لے جانا ہوگا، افغان طالبان سیاسی مفاہمت پر عمل نہیں کریں گے تو شاید امن کے قیام میں پھر رکاوٹیں پیدا ہوں،بھارت نے افغان طالبان کے ساتھ بات چیت کی مخالفت کی، روس اور چین چاہتے ہیں کہ افغانستان میں دیرپا امن کا قیام ہو، اب بھارت کے افغانستان میں مفاد ختم ہو گئے ہیں اس لیے وہ پریشان ہے ،انہوں نے کابل کی طرف پیش قدمی میں طالبان کی کسی بھی قسم کی مدد کا تاثر مسترد کردیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.