Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

بھارت کی 40 فیصد آبادی کو بے روزگار کرنے کی سازش

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

نئی دہلی: (خصوصی ایڈیشن) کانگریس پارٹی کے صدر راہل گاندھی نے انکشاف کیا ہے کہ مودی حکومت نے 3متنازع زرعی قوانین کے ذریعے بھارت کے 40 فیصد لوگوں کو بے روزگار کرنے کی سازش کی ہے۔

14 فروری 2019ء’’ پلوامہ واقعہ ‘‘ دنیا بھر میں بھارت کیلئے جگ ہنسائی کا سبب بن چکا ہے، 2 برسوں کے درمیان ثابت ہوچکا کہ مودی ڈاکٹرائن نے سیاسی فائدے کیلئے بھارتی فوجیوں کو استعمال کیا۔ٹھیک 2 سال قبل پلوامہ میں بھارتی فوجیوں کے کانوائے پر حملہ کیا گیا اور اسکا ذمے دار پاکستان کو ٹھہرانے کی سازش کی گئی۔ پاکستان نے اسے’’ سیاسی چال‘‘ قرار دیا تاہم اب ثابت ہوچکا ہے کہ پلوامہ میں جو کچھ ہوا وہ مودی ڈاکٹرائن کا گھناؤنا منصوبہ تھا، گذشتہ2سال کے دوران مودی سرکار اور ’’گودی میڈیا ‘‘کا گٹھ جوڑ مسلسل بے نقاب ہوا، نام نہاد ٹی وی اینکر ارنب گوسوامی کی واٹس ایپ لیکس نے ثابت کردیا کہ پلوامہ کا ڈرامہ رچا گیا۔ثابت ہوگیا کہ مودی ڈاکٹرائن نے سیاسی فائدے کیلئے اپنے ہی عوام حتیٰ کہ فوجیوں کو مروایا،پاکستان کو دنیا میں بدنام کرنے کی تمنا لئے مودی نے اس گھناؤنے منصوبے کیلئے جنرل بپن راوت کو سیاسی رشوت دی،ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل راوت کو سی ڈی ایس کا نیا عہدہ بطور سیاسی رشوت دیاگیا۔یہی نہیں مودی سرکارنے سیاسی فائدے کیلئے بھارتی فضائیہ کو بھی نہ بخشا ، بھارتی فضائیہ مودی کے سیاسی فائدے کیلئے جھوٹ بولتی رہی اور مودی کی انتخابی مہم کے دوران بھارتی فضائیہ الیکشن مہم کا ’’بھونپو‘‘ بنی رہی۔پلوامہ حملے کے بعد جیسے ہی بھارتی فوج اور فضائیہ کا پول کھلا، اسی طرح بھارتی میڈیا کا تعصب پر مبنی چہرہ دنیا پر آشکار ہوگیا۔

بھارتی میڈیا کو مودی نے جھوٹ بولنے کیلئے ٹی آر پیز کی رشوت سے خریدا،ارنب گوسوامی جیسے لوگ میڈیا میں مودی کے اشاروں پر ناچتے رہے اور’’ گودی میڈیا‘‘ مودی کی تباہ کاریوں کا بھی دفاع کرتا رہا، ثابت ہوگیا کہ بھارتی میڈیا بکاؤمال ہے ۔ ان سب کے علاوہانسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، دہشتگردی، منی لانڈرنگ، ڈس انفو مہم پر مودی ڈاکٹرائن کا ایجنڈا بھی بے نقاب ہوا اقلیتوں سے بدسلوکی، یورپی یونین اور اقوام متحدہ مخالف مہم میں مودی کو منہ کی کھانا پڑی۔ بھارتی پروپیگنڈے کا پاکستان نے منہ توڑ جواب دیا ، ڈی جی آئی ایس پی آر نے حقائق سے واضح کیا کہ جیت ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری بھارت کے اصل گھناؤنے چہرے کانوٹس لے اوریو این ایچ سی آر اور ای یو ڈس انفو لیبز رپورٹس پر بھارت سے جواب طلبی ہو۔ وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ ماہ کے دوسرے عشرے میں ٹوئیٹر پر جاری اپنے اہم بیان میں عالمی برادری پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’مودی سرکار کو پاکستان کیخلاف جاری شدت پسندانہ روئیے سے باز رکھا جائے۔

ارنب گوسوامی کے انکشافات جو واٹس ایپ سے لیک ہوئے، اس نے انڈین میڈیا اور بی جے پی حکومت کے درمیان گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ پاکستان نے بالاکوٹ واقعے کے بعد خطے کو بحران میں دھکیلنے سے بچایا اور انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ پاکستان نے بھارت کے عزائم کو بے نقاب کیا اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔ نریندر مودی بھارت کو دوسروں کیلئے خطرے کا باعث بنا رہے ہیں ۔ انڈیا کی جانب سے پورے خطے کو ایسے خطرے کی جانب لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کے ہم متحمل نہیں ہو سکتے۔ پاکستان میں دہشتگردی کو بھی بھارت کی جانب سے بڑھاوا دیا جا رہا ہے، یہ حرکات انتہائی گھنائونی اور خطرناک ہیں۔‘‘
آئیے قارئین اب ہم آپ کو انتہا پسندی اور گھنائونی سازشوں کا ایک اور رخ دکھاتے ہیں۔۔۔ کیا یہ بھی جھوٹ ہے کہ مودی سرکار اپنی ہی ائیر فورس کو چونا لگا چکی ہے، بی جے پی سرکار کاایک اور گھپلا سامنے آیا ہے جسکی وجہ سے بھارت کو ساڑھے 400ارب روپے کا نقصان پہنچا۔ اس گھپلے کی تفصیلات کچھ اس طرح ہیں کہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کو6.25 ارب ڈالرز کے ٹھیکے سے نوازا اور کمپنی کو تیجا جہاز لینے پر مجبور کیا، جبکہ بھارتی بحریہ پہلے دن ہی ان جہازوں کو تکنیکی مسائل کی وجہ سے مسترد کر چکی تھی،تیجاجہازہندوستانی ایم آئی جی 21 کے متبادل کے طورپر متعارف کرائے جارہے ہیں جبکہ1970ء سے مگ 21 کے حادثا ت میں 170 سے زیادہ بھارتی پائلٹ اور 40 عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔یہ حقیقت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارتی ایوی ایشن سسٹم انڈسٹری ناکامیوں اور نااہلیوں کی وجہ سے دنیامیں بد نام ہے اور خود کو چین کا متبادل سمجھنے والا ملک 26 سال میں تیار جہازکی کینوپی کا فالٹ تک دورنہ کرسکا۔مگ21کی جگہ تیجاجہازوں کومتعارف کرایاگیا مگر 60 فیصد تیجا گراؤنڈہوچکے ہیں،بھارتی ایئرفورس کا 27 جنوری کو تیجا جہاز استعمال نہ کرنا پراجیکٹ کی ناکامی کاعکاس ہے۔جبکہ پاکستانی شاہینوں نے پاکستان میں بنائے جانیوالے JF-17 تھنڈر سے بھارتی سور ماؤں کا خواب چکنا چور کیا۔ایک SU-30 اور MIG-21کو نشانہ بنایا پاکستان کی یہ کامیابی پاکستان ایوی ایشن انڈسٹری کی مہارت اور پیشہ وارانہ کارکردگی کا ثبوت ہے۔
آئیے قارئین اب آپ کو مودی ڈاکٹرائن کی ایک اور ناکامی کی داستان سناتے چلیں کہ کس طرح یہ انتہا پسند ٹولہ دنا بھر میں بھارت کی جگ ہنسائی کا سبب بن چکا ہے۔ بھارت جل رہا ہے،دنیا نے بھی تسلیم کر لیا، فلم’’ برننگ انڈیا‘‘ نے امریکی ڈو پونٹ کولمبیا یونیورسٹی ایوارڈ اپنے نام کرلیا۔بھارت میں بڑھتی ہندو انتہا پسندی اور20 کروڑ سے زائد مسلمانوں کی تضیحک پر بنائی گئی فلم ’’برننگ انڈیا‘‘ نے دنیا کے سامنے بھارت کے پول کھول دئیے۔فلم میں دکھا یا گیا ہے کہ کس طرح مودی سرکار بھارت کی سیکولر جڑوں کو خراب کرنے میں مگن ہے، ہندوتوا کو فروغ دینے کیلئے مودی سرکاراوچھے ہتھکنڈوں کا استعمال کرتے ہوئے مسلم آبادی کو دوسرے درجے کا شہری قرار دینے کیلئے کوشاں ہے ۔ بھارت کے سیکولر ازم کا بھانڈا بھی اسی فلم نے دنیا بھر میں پھوڑا، فلم میں 20کروڑ سے زائد مسلمانوں کی تضیحک اور تشویس کو بھی ظاہر کیا گیا ہے، اسی بناء پر فلم’’ برننگ انڈیا‘‘ نے امریکی ڈو پونٹ کولمبیا یونیورسٹی ایوارڈ جیتا ہے۔Image result for Burning India muslin beatingبرننگ انڈیا فلم کو کولمبیا جرنلزم سکول نے عوامی دلچسپی میں نمایاں رپورٹنگ کو اجاگر کرنے والی خصوصی ورچوئل پریزنٹیشن کے بعد فاتحین فلموں میں شامل کیا۔

آئیے اب آپ کو بتاتے ہیں کہ بھارت کی 40فیصد آبادی کو بے روزگار کرنے کی سازش کے پیچھے کون ہے ، کون اس گھنائونی کا ماسٹر مائینڈ ہے اور کس کی سرپرستی میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے؟ کانگریس پارٹی کے صدر راہل گاندھی نے انکشاف کیا ہے کہ مودی حکومت نے 3متنازع زرعی قوانین کے ذریعے بھارت کے 40 فیصد لوگوں کو بے روزگار کرنے کی سازش کی ہے۔اپنے 2 روزہ راجستھان دورے کے دوسرے روز اجمیر ضلع کے روپ نگر میں کسانوں کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے راہل نے کہا ’’ مودی حکومت نے 40 فیصد لوگوں کے کاروبار کو صرف 2 صنعت کار دوستوں کے حوالے کرنے کی تیاری کی ہے۔ اس سے کسان، چھوٹے تاجر، غریب، مزدور، ریڑھی پٹری والے سب بے روزگار ہوجائیں گے۔ پہلے قانون کا ہدف سب سے بڑے صنعتکار پورے بھارت میں جتنا بھی اناج، پھل اور سبزیاں چاہیں رکھ سکتے ہیں۔ ابھی اناج، پھل اور سبزیوں کا تقریباً 40 فیصد کاروبار ان دونوں صنعتکاروں کے ہاتھ میں ہے۔ زرعی قوانین کے نفاذ کے بعد ان کا زراعت کے 80 سے 90 فیصد کاروبار پر قبضہ ہو جائے گا۔ اس سے منڈیوں کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس سے کسان، فروٹ فروش، سبزی فروش، ریڑھی ،پھیری والے بے روزگار ہوجائیں گے۔ کسان مر جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہونے دیں گے۔‘‘

راہل گاندھی کا یہ بھی کہنا تھا کہ’’ دوسرا قانون ذخیرہ اندوزی میں اضافہ کرنے کا ہے۔ اس کے تحت صنعت کار اناج، پھل اور سبزیاں خرید کر سٹور کر لیں گے اور انہیں ذخیرہ کریں گے اور بعد میں زیادہ قیمتوں پر فروخت کریں گے۔ اس سے کاشت کار تباہ ہوجائیں گے۔ تیسرے قانون کے تحت کوئی کسان صنعت کاروں سے اپنی فصل کی صحیح قیمت مانگنے کیلئے عدالت میں جاکر اپنی بات رکھنے کا حق بھی کھو دے گا۔ اقتدار میں آنے کے بعد مودی سرکار نے جی ایس ٹی، نوٹ بندی سے پہلے چھوٹے تاجروں، مزدوروں اور کسانوں کو ہراساں کیا۔ اب ان تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کیلئے مودی سرکار پر دباؤ ڈالنا صرف کسانوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ مزدوروں، چھوٹے تاجروں اور نوجوانوں اور بھارت کے تمام لوگوں کی ذمہ داری ہے۔ یہ نہ صرف زراعت کی بات ہے بلکہ بھارت ماتا کا معاملہ ہے۔‘‘

نریندرمودی کے کسانوں سے بات چیت کرنے کے بیان پر راہل بولے ’’ مودی جی پہلے تینوں زرعی قوانین واپس لیں تبھی کسان ان سے بات کریں گے۔ مودی کسانوں کے گھر میں ڈاکہ ڈال رہے ہیں اور دوسری طرف بات کرنے کی دعوت بھی دے رہے ہیں۔‘‘ اس سے قبل سابق نائب وزیر اعلیٰ سچن پائلٹ کی سربراہی میں کانگریس کارکنوں نے راہل گاندھی کا کشن گڑھ ہوائی اڈہ پر پہنچنے پر پرتپاک استقبال کیا۔ اس کے بعد وہ اجمیر ضلع کے سورسارا گاؤں میں لوک دیوتا ویر تیجاجی کے مندر پہنچے اور وہاں پوجا کی۔۔۔۔۔بھارت میں کیسی کیسی سازشوں کا انکشاف ہو رہا ہے ، یہ آوازیں بھارت کے اندر سے اٹھ رہی ہیں ۔۔۔ان سازشوں کا انجام کیا ہو گا ۔۔۔؟ یہ آپ بھی دیکھیں۔۔۔ ہم بھی دیکھ رہے ہیں کیونکہ جو کچھ ہو گا بھارت کے اندر سے ہو گا ، انتہا پسند اپنی ہی لگائی آگ کے چکر ویو میں بری طرح پھنس چکے ہیں ۔۔۔۔

اب اسمبلی کا گھیرائو ہوگا

بھارت میں بے روزگاری کس حد تک پہنچ چکی ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیں کہ 7فروری سے پٹنہ سے آئسہ ۔ انوس کی ’’تعلیم ، روزگاری یاترا ‘‘ شروع ہو چکی ہے ۔ اس یاترا میں شامل ہزاروں طلباء اور نوجوان 19لاکھ روزگار کیلئے یکم مارچ کو اسمبلی کا گھیرائو کریں گے ۔ ایم ایل اے منوج منزل کہتے ہیں کہ اسمبلی انتخاب میں روزگار اہم ایشو تھا لیکن نتیش کمار حکومت روزگار دینے میں سنجیدہ نہیں ہے ۔ مودی سرکار کے ذریعے ہر سال 2کروڑ روزگار دینے کا اعلان دھوکا ثابت ہوا ۔ نوجوان سب سے زیادہ بیروزگاری کی مار جھیل رہے ہیں لیکن مودی سرکار روزگار دینے کے بدلے سرکاری وسائل اور صنعتوں کو اڈانی ، امبانی اور غیر ملکی کارپوریٹ گھرانوں کے ہاتھوں فروخت کر رہی ہے ۔ کورونا وباء اور لاک ڈائون کے بعد بے روزگاری بڑھنے کے بحران کو مودی کی پالیسیوں نے مزید بڑھادیا ہے، حکومت کا ہر اعلان جملے بازی ثابت ہو رہا ہے ، خود کفیل بھارت کا نعرہ نوجوانوں کیساتھ دھوکہ ہے ۔ ابھی ہمارے ملک کا محنت کش کسان تحریک کے دور سے گزر رہا ہے مہینوں سے لاکھوں کسان کھیتی کسانی بچانے اور تینوں زرعی قوانین کو رد کرنے کیلئے بڑی تحریک میں شامل ہیں ۔ ہم طلباء نوجوان بھی کسان تحریک اور ان کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں ۔
انوس کے مرکزی جنرل سیکرٹری نیرج کمار کہتے ہیں کہ ’’بہار میں بے روزگاری کی شرح بھارت کی دیگر ریاستوں سے بھی زیادہ ہے ۔ نوکری کے نام پر نوجوانوں کو کنٹریکٹ ، اجرت اور ٹھیکہ سسٹم میں دھکیلا جا رہا ہے ۔ تحریک چلانے پر بہارحکومت اس سے بھی محروم کر دینے کی دھمکی دے رہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان بہار سے بڑی تعداد میں نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں اور کئی پریشانیوں سے لڑ رہے ہیں لیکن اب طلباء نوجوان اپنے مستقبل کیلئے کسان تحریک کیلئے آر پار کی لڑائی کی تیاری میں سرگرم ہو چکے ہیں ۔ بہار میں جاری تعلیم ، روزگار یاترا یکم مارچ کو اسمبلی کا گھیرائو روزگار تحریک کا آغاز ثابت ہو گا ۔‘‘
ان اعلانات سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بھارت کے مسائل کس نہج تک جا پہنچے ہیں اورمظاہروں کا سلسلہ کس قدر زور پکڑتا جا رہا ہے ، کسان ، طلباء اور نوجوانوں سمیت کون ہے جو مودی سرکار اور ان کے حامیوں سے خوش ہے ۔ ؟

بھارتی سیاست کا’’ڈومس ڈے مین‘‘ کون ؟

راہل گاندھی کھل کر بھارتی کسانوں کی حمایت میں بول رہے ہیں، انکی بہن پرینکا گاندھی اترپردیش میں کسانوں سے مل رہی ہیں ، پنچائیتوں ، ریلیوں اور کارنر میٹنگز سے خطاب کر رہی ہیں اور جم کر مودی سرکار کے متنازع زرعی قوانین کی مخالفت کر رہی ہیں ۔ بی جے پی بھلا کانگریس کی اس مخالفت کو کیسے چپ چاپ برداشت کر سکتی ہے، بھارت کی وزیر مالیات نرملا سیتارمن نے کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی پر آئینی عہدوں پر براجمان شخصیات اور سسٹم کو لگاتار بے عزت کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ’’ بھارت آج دیکھ رہا ہے کہ کانگریس قائد راہل گاندھی کا پارلیمانی جمہوریت پر اعتماد ختم ہوگیا ہے۔‘‘ عام بجٹ 2021-22 سے متعلق لوک سبھا میں ہونے والی بحث کے جواب میں سیتارمن نے کانگریس اور اس کی قیادت پر سخت حملہ کیا اور کہا ’’ پارلیمینٹ میں اپوزیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرے اور عوام کے تئیں اس کے احتساب کو یقینی بنائے۔ لیکن کانگریس ’’ڈومس ڈے مین ‘‘کی سربراہی میں کہاں جارہی ہے ؟ پارلیمینٹ میں روایت رہی ہے کہ بجٹ پر بحث و مباحثہ کیا جائے۔ ہم بھی تبادلہ خیال کرنا چاہتے ہیں، ایسا لوک سبھا میں کیوں نہیں ہوتا۔ آخریہ کیا طریقہ ہے ؟

نرملا سیتا رمن نے ایوان میں بجٹ پر بحث کے دوران راہل گاندھی کی کسانوں کیلئے تقریر کے حوالے سے 10سوالات پوچھے اور کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ لگاتار بھارت کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمارے خلاف شرارت کرنے والے ہمسایہ ملک کے ساتھ پارٹی سطح پر سمجھوتہ کر رہے ہیں۔ بارڈر پر تناؤ ہے تو وہ سفارتخانے سے تفصیلات لے رہے ہیں کہ کیا ہورہاہے۔ اتنے سینئر لیڈر ایک گروپ سے بات کرتے ہیں انتہائی بدزبانی کرتے ہیں ،یہ بالکل ہی ناقابل قبول ہے، بدزبانی پر سپریم کورٹ کے نوٹس لینے کے بعدفوراً ہی معافی مانگ لی لیکن پھر وہی عمل شروع کردیا۔ 11 فروری کو راہل گاندھی نے آئینی عہدے پر بیٹھے سپیکر کی توہین کی تھی لیکن سپیکر کی شرافت تھی جس پر انہوں نے توجہ نہیں دی۔‘‘

بی جے پی کی وزیر کی جانب سے راہل گاندھی کو تنقید کا نشانہ بنانے پربھلا کانگریس کیسے خاموش رہ سکتی تھی ۔کانگریس کے لوک سبھا ممبر ٹی این پرتاپن نے راہل گاندھی کو ’’ڈومس ڈے مین‘‘کہنے پر وزیر مالیات نرملا سیتارمن کیخلاف مراعات شکنی کا نوٹس دیدیا۔ بجٹ پر بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر مالیات نے ’’ڈومس ڈے مین‘‘ (تباہی کی بات کرنے والا آدمی) کے جو الفاظ استعمال کئے پرتاپن نے سیتارمن کی اس بات کو لے کر لوک سبھا سپیکر سکریٹریٹ کو اُن کیخلاف مراعات شکنی کا نوٹس دیا۔

آج پورا بھارت مظاہروں کی بھٹی میں جل رہا ہے ، اپوزیشن جماعتیں کسان ، اقلیتیں، جمہوریت اور سیکولر پسند قوتیں سب ایک طرف اور بی جے پی کی انتہا پسند حکومت جس کے سربراہ نریندر مودی ہیں دوسری طرف ہیں ۔ آج بھارت بھر میں حکومت کیخلاف دھرنوں اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے ، پارلیمینٹ میں اپوزیشن سراپا احتجاج ہے ایسے میں یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ بھارتی سیاست میں ’’ڈومس ڈے مین ‘‘ یعنی تباہی کی بات کرنیوالا آدمی کون ہے ۔ راہل یا مودی ؟

مودی سرکار نے چین کے سامنے سر جھکادیا : راہل گاندھی

بھارتی حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نے چین سے متعلق مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے، ایک پریس کانفرنس میں راہل کا کہنا تھا ’’ انڈیا اور چین کے درمیان ہونیوالے معاہدے میں انڈیا نے چین کے سامنے ماتھا ٹیک دیا ہے وزیراعظم مودی چین کے آگے جھک گئے ہیں‘‘۔ راہل نے وزیراعظم مودی سے سوال کیا کہ انہوں نے فوجیں پیچھے ہٹانے کے معاہدے میں انڈیا کی زمین چین کے حوالے کیوں کی؟سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے مودی سرکار پر کڑی تنقید جاری ہے ، اس تنقید کو دیکھتے ہوئے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ایک بیان میں کہا کہ وزارت دفاع نے محسوس کیا ہے کہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر پینگونگ سو میں ’’ڈِس اِنگیجمنٹ‘‘ کے عمل پر غلط فہمی پیدا کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں اصل صورتحال کو پارلیمان میں بتایا جا چکا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ میڈیا اور سوشل میڈیا میں جو غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں ان کا جواب دیا جائے۔وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ فنگر 4 تک انڈیا کا علاقہ ہونے کا جو دعویٰ کیا گیا ہے وہ غلط ہے۔انڈین علاقہ انڈیا کے نقشے کے مطابق اس کے پاس ہے جس میں 43000 مربہ کلومیٹر علاقہ بھی شامل ہے جس پر 1962ء سے چین کا ’’غیرقانونی قبضہ‘‘ ہے۔ یہاں تک کہ انڈیا کی جانب سے ایل اے سی کو فنگر 8 تک سمجھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے انڈیا مسلسل فنگر 8 تک پیٹرولنگ کا حق برقرار رکھنا چاہتا ہے ،انڈیا کی جانب دھن سنگھ تھاپا چوکی ہے جو فنگر 3 کے نزدیک ہے جبکہ فنگر 8 کے مشرق میں چین ہے۔حالیہ معاہدہ دونوں فریقین کو اپنی افواج کو آگے تعینات کرنے سے روکتا ہے اب مستقل چوکیوں پر تعیناتی ہوگی۔

اب قارئین کو یہ بتاتے ہیں کہ پارلیمینٹ میں راج ناتھ سنگھ نے کیاکہا تھا ؟ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پارلیمینٹ کوبتایا تھا کہ مشرقی لداخ میں فوجی پیچھے ہٹانے کے بارے میں چین سے معاہدہ ہو گیا ہے معاہدے کے تحت چین اپنی فوجی ٹکڑیوں کو پینگونگ جھیل کے شمالی کنارے پر ’’فنگر 8‘‘ کے مشرق کی سمت رکھے گا اسی طرح انڈیا بھی اپنی فوج کو پینگونگ جھیل کے پاس’’فنگر 3‘‘ کے پاس اپنی مستقل پوسٹ پر رکھے گا اور ایسی ہی کارروائی دونوں فریق جنوبی کنارے پر بھی کریں گے۔تاہم اپوزیشن ارکان نے جب اس معاملے کے بعض پہلوؤں کے بارے میں سوال کرنے کی کوشش کی تو سپیکر نے اپوزیشن کوسوال کرنے سے یہ کہہ کر روک دیا کہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے اور ایوان سے ایک متحد آواز باہر جانی چاہیے۔راہل گاندھی نے راج ناتھ سنگھ کے بیان پر کہا کہ انڈیا اپنی ہی زمین پر مزید پیچھے ہٹ گیا ہے۔پینگونگ جھیل کے کنارے ہماری زمین’’ فنگر 4‘‘ تک ہے۔ نریندرمودی نے ’’فنگر 3 سے فنگر 4‘‘ تک کی زمین چین کے حوالے کر دی ہے۔‘‘

ایک نیوز کانفرنس میں راہل گاندھی نے وزیراعظم پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ’’چینی فوج انڈیا کی زمین پر تھی، انڈین فوج ہر خطرہ مول لے کر کیلاش رینچ تک پہنچ پائی تھی اب وزیراعظم نے یہ زمین بھی چین کو دیدی ہے۔یہ صد فیصد بزدلی ہے اور وزیراعظم بزدل ہیں۔ وہ چین کا سامنا کرنے کی جرأت نہیں رکھتے۔ وہ ہماری فوج کی قربانیوں کے ساتھ دھوکہ کر رہے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت انڈیا نے صرف دیا ہے اور چین سے حاصل نہیں کیا۔ دیپسانگ کے عسکری اہمیت کے علاقے سے چینی فوجی کیوں پیچھے نہیں ہٹے۔ وہ گوگرا اور ہاٹ سپرنگ میں موجود ہیں، وہ وہاں سے پیچھے کیوں نہیں ہٹے؟ یہ معاہدہ چین کی کامیابی ہے، انڈیا کی نہیں۔‘‘۔واضح رہے کہ انڈیا اور چین کے درمیان معاہدے کے بعد پینگونگ جھیل کے فارورڈ محاذ سے ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور میزائل وغیرہ پیچھے ہٹانے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ بھارتی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ ایل اے سی پر فوجوں کی تعیناتی اور گشت وغیرہ کے بارے میں اب بھی کئی تصفیہ طلب معاملات ہیں جن پر آئندہ مذاکرات میں بات چیت کی جائے گی۔۔۔۔۔ اس جواب سے صاف اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کچھ تو ہے جس کی مودی سرکار کی جانب سے’’ پردہ داری‘‘ کی جا رہی ہے۔

کسانوں نے احتجاج کی نئی حکمت عملی تیار کرلی، مودی پریشان

بھارت میں زرعی قوانین کیخلاف احتجاج کرتے کسانوں نے نئی حکمت عملی کا اعلان کردیا ہے جس سے مودی سرکار خاصی پریشان دکھائی دے رہی ہے۔ 26 جنوری کو ٹریکٹر پریڈ کے دوران تشدد کا واقعہ پیش آنے کے بعد ایسا لگ رہا تھا کہ احتجاج ختم ہوجائے گا اور کسان گھروں کو واپس چلے جائیں گے، لیکن راکیش ٹکیت اور درشن پال نامی کسان رہنما عزم کے ساتھ دھرنے پر بیٹھے رہے، اور اب انہوں نے ایک بار پھر تحریک کو تیز کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ دہراتے ہوئے سنیوکت کسان مورچہ نے 18 فروری کو دوپہر 12 بجے سے شام 4 بجے تک ’’ریل روکو مہم‘‘ کا اعلان کیا۔اس سلسلے میں سنیوکت کسان مورچہ کی اہم میٹنگ ہوئی جس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ کسان تحریک کو مزید تیز کیا جائیگا۔ اس فیصلے کے بعد مودی حکومت کی پریشانیاں بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں۔میٹنگ میں ریل روکو مہم چلانے کے علاوہ مزید فیصلے بھی کیے گئے ، اس سے قبل ریاست راجستھان کے تمام ٹول پلازہ کو ٹول فری کروایا گیا۔اس کے بعد 14 فروری کو پلوامہ حملے میں ہلاک جوانوں کی یاد منائی گئی، 16 فروری کو کسان رہنما ’’سر چھوٹو رام‘‘ کی پیدائش کا دن بھی کسانوں نے بھرپور جوش و جذبے سے منایا۔ اسی دوران بھارتی وزیراعظم نے احتجاجی کسانوں اور ان کے حامیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ٹول پلازوں اور مواصلاتی تنصیبات کو نقصان نہ پہنچائیں۔

کسانوں کی تحریک میں تیزی دیکھتے ہوئے ہی نریندر مودی نے ایک بار پھر مجبور ہوکر کسانوں کو پھر مذاکرات کی دعوت دی تاہم ایک مرتبہ پھر اپنی حکومت کے پاس کردہ نئے متنازع زرعی قوانین کا دفاع کیا ۔مودی نے کہا کہ نئے قانون سے کاشتکاروں کو اپنی فصل براہ راست فروخت کرنے کی آزادی دے گاانہوں نے ارکان پارلیمینٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس نئے قانون سے اس پابندی کا خاتمہ ہوگا جس میں کسانوں کو اپنی فصل صرف ہول سیل مارکیٹ میں بیچنے کی اجازت تھی۔دوسری جانب پارلیمینٹ میں مودی کے خطاب کے دوران اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کانگریس نے کسانوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ایوان سے واک آئوٹ کردیاجبکہ کسانوں کا کہنا ہے کہ مودی کے نئے قانون کا مقصد بھارت میں پرائیویٹ ریٹیلرز کو نوازنا ہے، نئے قانون سے روایتی ہول سیل مارکیٹ کا خاتمہ ہوجائیگا اور پھر کسان پرائیویٹ خریداروں کے رحم وکرم پر ہونگے یہی وجہ ہے کہ کسانوں نے اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاجی سلسلہ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.