Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

کامیابی کیلئے متبادل صلاحیت بھی درکار ، بابراعظم پر مکمل انحصار نہیں کرنا چاہئے، یونس خان

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کراچی ( اسپورٹس رپورٹر) قومی کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کوچ یونس خان کا کہنا ہے کہ کامیابی کیلئے متبادل صلاحیت بھی درکار ہے کیونکہ بابراعظم پر مکمل انحصار نہیں کرنا چاہئے ،کپتان کے ان فٹ ہونے پرنیوزی لینڈ کیخلاف سیریز گنوا دی گئی،ان کی عدم موجودگی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ٹیم شکست کھا جائے ۔یونس خان کا ورچوئل پریس کانفرنس کے دوران کہنا تھا کہ گرین شرٹس کو اپنے کپتان اور سب سے بہترین بیٹسمین بابر اعظم کی عدم موجودگی میں بھی فتحیاب ہونا چاہئے کیونکہ صرف ان پر انحصار نہیں کیا جا سکتا جس کیلئے مناسب متبادل تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔قومی بیٹنگ کوچ کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ کیخلاف ہوم کنڈیشنز کا فائدہ اٹھانا پڑے گا اور یہ نئے پلیئرز کو اعتماد دینے سے ہی ممکن ہے کیونکہ بابر اعظم کے ان فٹ ہونے کے بعد نیوزی لینڈ کیخلاف سیریز گنوا دی گئی لہٰذا ان کی عدم موجودگی کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ٹیم شکست سے دوچار ہو جائے ۔یونس خان کے مطابق ہوم کنڈیشنز کے پیش نظر پاکستان کو کراچی میں جنوبی افریقہ پر ایڈوانٹیج حاصل ہوگا جہاں وکٹ ہمیشہ سے پاکستانی ٹیم کیلئے مددگار رہی ہے اور بیٹسمینوں کے ساتھ بالرز کو بھی فائدہ ملنے کے ساتھ اسپنرزکے علاوہ دن کے اختتامی عرصے میں ماحول سوئنگ بالنگ کیلئے بھی سازگار ہو سکتا ہے مگر بالرز کی سپورٹ کیلئے بیٹنگ لائن کو پہلی اننگز میں بڑا اسکور کرنا ہوگاجبکہ ٹیسٹ میچ جیتنے کیلئے چھ سے سات سیشنز اچھے کھیلنے پڑتے ہیں۔ نئے کھلاڑیوں کو اعتماد دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اپنے وقت کے بہترین بیٹسمین کا کہنا تھا کہ نوجوان اگر اچھی کارکردگی نہ دکھا سکیں تو انہیں ضائع نہیں کرنا چاہئے جبکہ معمولی پرفارمنس کے بعد انہیں نکال باہر کرنے کے بجائے ان پر بھروسہ کیا جائے اور کھلاڑی خود بھی ضروریات کو دیکھتے ہوئے اپنی جانب سے پوری محنت کریںکیونکہ اچھی کارکردگی کا انحصار خود ان کے اوپر ہے کیونکہ کوچ صرف رہنمائی کر سکتا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ بہت زیادہ مداخلت کھلاڑیوں کو ڈبل مائنڈ کر دیتی ہے لیکن کوچز کا بھی احتساب کرنے کی ضرورت ہے اور نیوزی لینڈ کیخلاف ناکامی کے بعد جس انداز سے مصباح الحق اور وقار یونس کو کڑی تنقید کا سامنا رہا اسی طرح ان سے بھی سوالات کئے جائیں اور خامیاں سامنے لائی جائیں لیکن ذاتی تنقید سے گریز کیا جائے اور ٹیم اچھی کارکردگی پیش کرے تو کوچز اور ٹیم انتظامیہ کو بھی سراہا جائے ۔یونس خان کا کہنا تھا کہ دور حاضر میں کھلاڑی کام کے اضافی بوجھ کے باعث زیادہ دباؤ میں ہوتے ہیں جن کو تھوڑی سی آزادی فراہم کرنے کے ساتھ سرپرستی بھی کی جائے تو ان کی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے لہٰذا نئے چہروں کو ایک،دو میچز نہیں بلکہ دو سے تین سیریز دی جائیں تاکہ وہ خود کو منوا سکیں ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ وقت ڈومیسٹک ڈھانچے پر بات کیلئے مناسب نہیں کیونکہ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی حوصلہ افزائبات ہے اور پروٹیز کیخلاف تاریخی سیریز کیلئے ٹیم اور کھلاڑیوں کو سپورٹ کرنا چاہئے تاکہ اس موقع کا پورا فائدہ اٹھایا جا سکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.