2018 انتخابات میں الیکشن کمیشن کی جانب سے ‘فضول’ اخراجات کیے جانے کا انکشاف

0

اسلام آباد: سال 2018 کے انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے بڑی تعداد میں ‘فضول’ اخراجات کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس میں بغیر ٹینڈرز اور غیرمجاز اتھارٹی سے ادائیگی کے ذریعے خریداری شامل ہے۔

مالی سال 2018-2017 کے لیے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ ٹرانسپیرنٹ بیلٹ باکسز اور صرف فولڈایبل اسکرینڈ آف کمپارٹمنٹ کی خریداری میں 36 کروڑ 68 لاکھ 20 ہزار روپے فضول میں ضائع کیے گئے۔

اس میں یہ بات سامنے آئی کہ ای سی انتظامیہ نے 2 لاکھ 2 ہزار 239 بیلٹ باکسز خریدے جبکہ اس کے مقابلے میں 87 ہزار 77 باکسز کی کمی تھی، جس کی وجہ سے 14 کروڑ 64 لاکھ 80 ہزار روپے کا نقصان ہوا، اسی طرح 2 لاکھ 7 ہزار 478 فولڈ ایبل اسکرینڈ آف کمپارٹمنٹ کی کمی پر ای سی پی انتظامیہ نے 3 لاکھ 54 ہزار 430 کمپارٹمنٹ کی خریداری کی، اس ایک لاکھ 46 ہزار 952 اضافی خریداری کے نتیجے میں 22 کروڑ 3 لاکھ 41 ہزار روپے کا نقصان ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ بیلٹ باکسز کے لیے ٹینڈر کو سنگل مرحلے میں 2 لفافوں کے طریقہ کار پر بنایا گیا تھا اور اس طریقہ کار کے مطابق تکنیکی جواب دہ کمپنیوں کی سب سے کم مالی بولی قبول کی جانی تھی، تاہم اس کے لیے سب سے کم بولی 22 کروڑ 83 لاکھ 20 ہزار روپے کو نظر انداز کیا گیا اور یہ ٹھیکہ دوسری کمپنی کو 25 کروڑ 72 لاکھ 40 ہزار روپے پر دیا گیا، جس کے نتیجے میں 2 کروڑ 89 لاکھ 20 ہزار روپے کا نقصان ہوا۔

آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ الیکشن کمیشن نے مالی سال کے دوران غیرشفاف شدہ طریقہ کار سے ایک کروڑ 45 لاکھ 80 ہزار روپے مالیت کی متفرق اشیا کو خریدا۔

اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس خریداری کو کھلے عام مقابلے کے بغیر اسی وینڈر سے خریدا گیا اور کھلے عام ٹینڈرز کی ضرورت سے بچنے کے لیے خریداری اور ورک آرڈر تقسیم کیے گئے۔

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ای سی پی نے 5 ہزار روپے فی پولنگ اسٹیشن کے حساب سے 86 ہزار 613 پولنٹ اسٹیشن کے لیے ٹرانسپورٹیشن چارجز کی مد میں صوبوں کو 43 کروڑ 30 لاکھ روپے جاری کیے جبکہ 2018 کے انتخابات کے لیے پولنگ اسٹیشنوں کی حتمی تعداد 85 ہزار 58 تھی، لہٰذا اس کا نتیجہ 77 لاکھ 70 ہزار روپے اضافی ادائیگی کی صورت میں سامنے آیا۔

ساتھ ہی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ای سی پی ملازمین کو ان کی بنیادی تنخواہ کی 20 فیصد شرح پر دیا جانے والا الیکشن الاؤنس بغیراجازت کے تھا کیونکہ اس کی نہ ہی وزیراعظم نے منظوری دی تھی اور نہ ہی فنانس ڈویژن کے ریگولیشن ونگ سے اس کی توثیق ہوئی تھی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار میں یہ سامنے آیا کہ ووٹرز نے اپنا ووٹ چیک کرنے کے لیے 16 کروڑ 20 لاکھ سے زائد مرتبہ استعمال کیا گیا، جس کی مالیت 32 کروڑ 44 لاکھ 90 ہزار روپے بنی اور اس میں سے ای سی پی کا حصہ 10 کروڑ 81 لاکھ 60 ہزار روپے بنتا ہے۔

اے جی پی کو معلوم ہوا کہ سیلولر کمپنیوں نے ای سی پی کا حصہ ادا نہیں کیا لیکن اس کو نادرا کو منتقل کردیا اور یہ ابھی تک وہی پر موجود ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.