Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

ٹی ریکس ڈائنوسار ممکنہ طور پر 15 ہزار کلو گرام وزنی ہوا کرتے تھے، تحقیق

0

ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ ڈائنو سار کا بادشاہ ٹائرینوسارس ریکس بالمعروف ٹی ریکس ممکنہ طور پر 15 ہزار کلو گرام وزنی ہوا کرتے تھے۔ یہ وزن اس سے قبل لگائے جانے والے اندازے سے 70 فی صد زیادہ ہے۔

کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا کے کینیڈین میوزیم آف نیچر کے محققین نے ایک ماڈل تشکیل دیا جس نے اس ڈائنو سار کے ممکنہ طور پر سب سے بڑے حجم کے متعلق بتایا۔

ایک اندازے کے مطابق زمین پر ڈھائی ارب ڈائنو سار موجود تھے جن میں سے اب تک صرف 32 بڑے ٹی ریکس دریافت ہوئے ہیں۔

ان میں سب سے بڑا ٹی ریکس ’اسکاٹی‘ ہے جس کا وزن 8800 کلوگرام سے زیادہ تھا اور یہ 13 میٹر سے زیادہ لمبا تھا۔ یہ ڈائنو سار موجودہ شمالی امریکا کے مغربی علاقے میں 6 کروڑ 80 لاکھ سے 6 کروڑ 60 لاکھ سال پہلے موجود تھا۔

تاہم، محققین کا کہنا ہے کہ دریافت ہونے والے ٹی ریکس کے ڈھانچے اس نسل کی ممکنہ طور پر درست نمائندگی نہیں کرتے اور جو ڈھانچے دریافت نہیں ہوئے وہ شاید اِن سے بہت بڑے ہوں۔

تحقیق میں ماہرینِ باقیات جورڈن میلن اور ڈاکٹر ڈیو ہون نے پہلے ٹی ریکس کی آبادی اور اوسط عمر کا ڈیٹٓا اکٹھا کیا۔

ان محققین نے اس ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے دو ماڈل بنائے جس سے ٹی ریکس کی پوری زندگی میں عمومی نمو کا اندازہ لگایا گیا۔

ان میں سے ایک ماڈل نے بتایا کہ ٹی ریکس کی جسامت میں جنسی ڈائی مارفزم سامنے آئی جس کے مطابق نر اور مادہ میں وزن مختلف انداز میں بڑھا، جبکہ دیگر میں ایسا نہیں ہوا۔

ڈاکٹر میلن کا کہنا تھا کہ اگر ٹی ریکس ڈائی مارفک تھے، تو ان کا وزن 24 ہزار کلو گرام سے زیادہ ہوتا لیکن محققین نے اس ماڈل کو مسترد کیا کیوں کہ اگر یہ سچ ہوتا تو موجودہ ڈھانچوں سے کہیں زیادہ بڑے ڈھانچے ملے ہوتے۔

ڈاکٹر میلن نے ٹوئٹر پر ایک ٹویٹ میں اپنی تحقیق کے حتمی نسخے کے متعلق خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مطالعے میں حاصل ہونے والے نتائج تب تک فرضی سمجھے جائیں گے جب تک اس سائز کا ڈھانچہ دریافت نہیں ہوتا۔

انہوں نے ٹویٹ میں بتایا کہ یہ اس جانور کا وزن 15 ہزار کلو گرام تک مکینیکی طور پر ممکن ہے لیکن اس کے لیے مزید بہتر آزمائش کرنی ہوگی۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.