Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

اپوزیشن گرفتاریوں کو خوش آمدید کہتی ہے ا سپیکر کی جانب سے مشاورتی اجلاس کا کوئی جواز نہیں ،اپوزیشن لیڈر ملک سکندر

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ اپوزیشن گرفتاریوں کو خوش آمدید کہتی ہے ا سپیکر کی جانب سے مشاورتی اجلاس کا کوئی جواز نہیں بنتا اپوزیشن ارکان پر طاقت کے استعمال، مقدمہ درج ہونے کے بعد اسپیکر کا اپنے اہلکاروں کے ذرےعے مشاورتی اجلاس کا پیغام دینا اپوزیشن کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے اپوزیشن ارکان کی درخواست پر مقدمے درج نہ کرنے کے خلاف 22Aکے تحت قانونی چارہ جوئی کریں گے، گرفتاریاں دینے سے متعلق فیصلے کا اعلان اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ اجلاس میں کریں گے ۔یہ بات انہوں نے بی این پی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر احمد شاہوانی، پشتونخواءملی عوامی پارٹی کے نصر اللہ زیرے سمیت اپوزیشن ارکان کے ہمراہ اتوار کو ایم پی اے لاجز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ۔ ملک سکندر خان ایڈوکیٹ نے کہا کہ اسپیکر نے اپنے اہلکاروں کے ذرےعے پیغام دیا کہ انہوں نے مشاورتی اجلاس طلب کیا ہے جب ہم پر طاقت کا استعمال کیا گیا اور مقدمات درج ہوئے اس پر اسپیکر کی خاموشی اور بعد میں مشاورتی اجلاس بلانا اپوزیشن کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے ہم نے اسپیکر کو تحریری طور پر آگاہ کردیا ہے کہ ہم نے ان سے اسمبلی اجلاسوں کے دوران استدعا کی تھی کہ پری بجٹ اجلاس بلایا جائے صوبائی وزیر خزانہ سے رابطہ کرنے پر انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعلیٰ سے مشاورت کرکے بتائیں گے کہ پری بجٹ اجلاس کب طلب کرنا ہے جو کہ نہیں ہوا انہوں نے کہا کہ جب اسمبلی کے ملازمین نے تالہ بندی کی تو اسپیکر اور حکومت نے ان سے مذاکرات کئے لیکن اراکین اسمبلی نے جب احتجاج کیا تو انہیں انسان بھی نہیں سمجھا گیا اور بکتر بند گاڑی سے کچلنے کی کوشش کی گئی جس سے عبدالواحد صدیقی، بابو رحیم مینگل، شکیلہ نوید دہوار زخمی ہوئے اس کے بعد ہم نے مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی جس پر آج تک مقدمہ درج نہیں ہوا تاہم اسپیکر کی حکومت اور انکے وزیراعلیٰ نے تمام اپوزیشن ارکان کے خلاف ایف آئی آر درج کردی ہے ان تمام واقعات پر اسپیکر اور انکی حکومت نے اپوزیشن کو دیوار سے لگایا ہے لہذا ان حالات میں مشاورتی اجلاس کا کوئی جواز نہیں بنتا اور یہ اپوزیشن کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے ڈی آئی جی پولیس شکایات کے پاس مقدمہ درج نہ ہونے کی شکایت کی ہے ضرورت پڑی تو 22A کے تحت عدالت سے بھی رجوع کریں گے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی سیاسی قیادت نے تمام واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے اتوار کی شب اجلاس طلب کرلیا ہے جس میں فیصلہ کیا جائےگا کہ گرفتاریاں کیسے دینی ہیں انہوں نے کہا کہ ہم گرفتاری کو خوش آمدید کہتے ہیں اس میں کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے حکومت کی بادشاہی 25جون تک ہے جس کے بعد اپوزیشن اسمبلی کا اجلاس ریکوزیشن کریگی ہم اسمبلی کے اند ر اور باہر اپنا احتجاج جاری رکھیں گے

Leave A Reply

Your email address will not be published.