Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

پہلے فیز سے دوسرے فیز تک کا سفر

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

حماد حسن

 

سر! نمبرز گیم کی حتمی پوزیشن کیا ہے؟آپ مجھے زیادہ باخبر نہیں لگتے کیونکہ جو سوال آپ پوچھ رہے ہیں اس کا تعلق تو پہلے ”فیز“ سے تھا اور اب تو دوسرے فیز پر سوچنے کا وقت ہے۔

دوسرا فیز؟جی ہاں۔

کیونکہ الجھاﺅ اور سرکشی کے بعد نکالے گئے عوامی تائید رکھنے والے کسی وزیراعظم کو اپنے گھر لوٹتے ہوئے بہت کم دیکھا گیا۔حد درجہ محتاط گفتگو کے باوجود بھی یہ مختصر سا جواب بہت سی گرہیں کھولنے اور نتائج تک پہنچنے کے لئے کافی تھا۔اب میں اچھی طرح سے ”دوسرے فیز“ کو بھی سمجھ گیا تھا اور عمران خان کی ”بضاعت“ کے ساتھ ساتھ اپنی غفلت آمیز بلکہ احمقانہ سوال کو بھی۔دوسرے فیز کا وقت چونکہ ابھی آیا بھی نہیں بلکہ اس کے امکانات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ عمران خان کی عوامی تائید حوصلے صلاحیت اور تنظیمی طاقت کو دیکھتے ہوئے ان سے ہرگز بھٹو اور نواز شریف جیسی دلیر مزاحمت اور سیاست کی توقع نہیں کی جا سکتی اسی لئے سامنے کے منظر نامے یعنی فیز ون کو ہی سوچتا اور تجزیہ کرتا رہا۔تھوڑی دیر بعد شاہراہ دستور پر ایستادہ پارلیمان اور سپریم کورٹ کی عمارتوں پر نظر پڑی تو دل ہی دل میں کہا کہ پہلے فیز کا تعلق اول الذکر عمارت یعنی پارلیمنٹ تک محدود ہےاور تمام معاملات ایک خاص منصوبے کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں۔

یہ ”تمام معاملات“ مختلف اجزاءسے بتدریج یوں ترتیب پا رہے ہیں کہ چند ہفتے پہلے وہ کچھ جو نا ممکنات میں سے تھے اب عملی صورت میں دکھائی دینے لگے ہیں۔مثلاً اسی پارلیمان (سینیٹ ) میں چونسٹھ نشستوں والی اپوزیشن پینتیس سیٹوں والی حکومت سے چیئرمین سینٹ سے سٹیٹ بینک بل تک مسلسل ہار رہی تھی لیکن آج اپوزیشن اقلیت میں ہونے کے باوجود حکومتی جماعت یعنی پی ٹی آئی صرف پنجاب کی حد تک بھی چار واضح دھڑوں میں بٹ چکی ہے۔پھر اسے سنبھالنے کوئی کیوں نہیں آتا؟فرض کریں کہ آج حکومت سینیٹ میں کوئی بل پیش کرے تو کیا نتائج پہلے جیسے ہوں گے؟آگر جواب نہیں میں ہے تو پھر یہ بات بھی واضح ہے کہ نہ ہی عمران خان حکومت چلا رہا تھا اور نہ ہی اپنی پارٹی پر انہیں گرفت حاصل ہے۔سو پہلے فیز کے بطن سے پھوٹتا ہوا یہ سوال بہت اہم ہے کہ اگلے منظر نامے یعنی حکومت سے ہاتھ دھونے کے بعد عمران خان کس سیاسی حیثیت اور مرتبے کے حامل ہوں گے۔ اور کیا پی ٹی آئی کی پارلیمانی اور تنظیمی پوزیشن اتنی توانا ہوگی کہ عمران خان اپنا سیاسی قد کاٹھ برقرار رکھ پائیں گے؟گویا سرپرستی سے محرومی کے بعد پہلا سوال عمران خان اور ان کی جماعت کی سیاسی بقا کے حوالے سے اٹھا ہے۔ تا ہم اس کا انحصار مستقبل پر ہے جس کے بارے سر دست کچھ نہیں کہا جا سکتا۔بہرحال پہلے فیز کے ”فیوض و برکات“ میں سے ایک یہ بھی ہے کہ فی الحال پارلیمنٹ میں عددی اکثریت ہی اہمیت کا پیمانہ ہے۔ تبھی تو جہانگیر ترین محمود خان اچکزئی سے زیادہ اہم ہو گئے ہیںجبکہ پی ڈی ایم کو خیرباد کہنے والا آصف علی زرداری صبح و شام شہباز شریف اور مولانا کی بلائیں لینے لگا ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حکومت کی رخصتی مستقبل قریب میں کم از کم اسمبلیوں پر اثر انداز نہیں ہوگی۔لیکن پس منظر کی خبر رکھنے والوں کو معلوم ہے کہ نواز شریف بہرصورت ستمبر سے پہلے پہلے نئے انتخابات اور حکومت کے قیام سے پیچھے نہیں ہٹے اور یہ ان تین نکات میں سے ایک ہے جن پر سارے سلسلے کا دار و مدار ہے۔اب موجودہ منظر نامے اور رونما پوتی تبدیلیوں کی طرف بڑھتے ہیں

پہلے فیز میں اپوزیشن کو لیول پلینگ فیلڈ فراہم کر دیا گیا جس کی بنیاد پر ”بغیر کسی مدد“ کے اپوزیشن نے نہ صرف جارحانہ رویہ اختیار کیا بلکہ پی ٹی آئی کے اندر توڑ پھوڑ اور افراتفری کو اپنی طاقت بھی بنا لیا۔ رہی سہی کسر عمران خان کی سراسیمگی اور گالی گلوچ نے پوری کر دی۔یہی وجہ ہے کہ نمبرز گیم کا بہاﺅ اب بہت حد تک یک طرفہ اور واضح ہو چکا۔ جبکہ ایم کیو ایم باپ اور سندھ ڈیموکریٹک الائنس جیسی پارٹیاں بھی حکومت سے فاصلے کو اپنی کامیابی سمجھ رہے ہیں۔پہلے فیز میں میڈیا کو محدود آزادی دینے کے منصوبے پر بھی عمل درآمد شروع کر دیا گیا۔ جس کی بنیاد پر حامد میر سے پابندی اٹھا لی گئی لیکن اس اقدام کا ردعمل عمران خان کی اس سراسیمگی سے عیاں ہے جو دلیل اور وڑن سے محروم یوٹیوبرز کے ساتھ میٹنگ اور جلسوں میں استعمال کی گئی زبان کی صورت میں سامنے آئی۔ اگرچہ یہ میڈیائی آزادی ابھی صرف ”آزمودہ“ صحافیوں ہی کو میسر ہے جبکہ ”خطرناک“ صحافیوں پر پابندی تاحال برقرار ہے۔ لیکن حکومت کی ناتوانی ملاحظہ ہو کہ اس ”کمزور اور مصلحت پسند“ صحافت کے سامنے بھی ابھی سے گھٹنے ٹیکنے لگی۔پہلے فیز میں فون کالز کی بندش وہ فیصلہ تھا جس نے پی ٹی آئی کے اندر قدم قدم پر نہ صرف ”نور عالم خان“ کھڑے کر دیے بلکہ جہانگیر ترین اور علیم خان جیسے بارسوخ لوگوں کو اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کے اظہار کا موقع بھی فراہم کر دیا۔جس کی وجہ سے حکومتی جماعت یعنی پی ٹی آئی میں توڑ پھوڑ اور افراتفری کھل کر سامنے آئے اور یہی وہ موقع تھا جب عمران خان کی حکومت اور پارٹی بقا کے مسئلے سے دوچار ہوئے جس میں روزبروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ان تمام حقائق اور نئے منظر نامے کی تشکیل کے باوجود کسی ادارے کے خلاف ایسی کوئی شہادت دستیاب نہیں جسے عمران حکومت کے خلاف سازش کا نام دیا جائے۔ لیکن کم از کم یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ تمام قومی ادارے کسی بھی غیر آئینی اقدام سے نہ صرف خود کو بہت فاصلے پر لے گئے ہیں بلکہ سیاسی میدان سیاسی کھلاڑیوں پر چھوڑ بھی چکے ہیں۔ (گویا عارضی طور پر ہی سہی لیکن فی الحال ہم قدرے جمہوری ملک ضرور ہیں۔)یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ آمرانہ قوتوں کی سرپرستی میں سیاست کرنے والے عمران خان اب خالص سیاسی میدان میں نواز شریف زرداری اور مولانا فضل الرحمن سے مسلسل پٹتے نظر آرہے ہیں کیونکہ یہ جہاندیدہ لوگ ایک عمر سیاسی رزم گاہوں میں گزار چکے ہیں، قید و بند کاٹ چکے ہیں اور آمریتوں کے مقابل بھی آ چکے ہیں جبکہ عمران خان نے تو صرف اسلام آباد میں کنٹینر اور اقتدار ہی دیکھے ہیں اور وہ بھی دوسروں کی مدد سے!تاہم اگر مشکل وقت (خدانخواستہ) عمران خان کی زندگی میں آیا تو اب کی بار گالی گلوچ کی بجائے تدبر کو اپناتے ہوئے مشکل وقت کو اپنی لیڈر شپ اور مقبولیت کا ذریعہ بھی بنا سکتا ہے لیکن اس کے لئے حوصلہ اور تدبر ہی شرط ہے اور یہ شرط بہت بڑی ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.