Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

اداریہ : سی پیک اور گوادر منصوبوں کی تکمیل ، روشن پاکستان کی ضمانت ہے

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

ملک کی ترقی میں کچھ منصوبے انتہائی اہم ہوتے ہیں اور کسی بھی ریاست کے مستقبل کے لیے ان منصوبہ جات کی تکمیل اہمیت رکھتی ہے۔ صدر ایوب کا زمانہ یقینا غیر جمہوری تھا۔ ڈکٹیٹر شپ تھی تاہم اس زمانے میں ملکی ترقی کے ایسے منصوبے شروع کیے گئے تھے جن کے ثمرات آج بھی مل رہے ہیں۔ ڈیم بنائے گئے، نہری نظام بہتر کیا گیاپانچ سالہ منصوبہ دیا گیا انہیں سیاست اور دیگر معاملات سے ہٹ کر دیکھا جائے تو یقینا پاکستان کی ترقی میں ان منصوبوں کی خاص اہمیت ہے۔ یہی بنیادی ڈھانچہ ہوتا ہے جس پر کوئی بھی ریاست اپنے مستقبل کا تعین کرتی ہے۔ بعد مں آنے والے حکمرانوں نے بھی ریاست پاکستان کے لیے کام کیا ہے۔ بہت سے ترقیاتہ منصوبے دیے ہیں یقینا انہیں بھی سراہنا چاہیے۔ دور حاضر میں جہاں دنیا ایک گلوبل ویلیج کی صورت اختیار کر چکی ہے اور ہر معاملے میں اب ایک دوسرے کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے میں پاکستان اور چین اپنے مستقبل کو سامنے رکھ کر سی پیک جیسے شاندار اور روشن مستقبل کے ضامن منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ اس منصوبے کو پاکستان کی تمام سیاسی اور عسکری قیادت کی حمایت حاصل ہے۔ کوئی بھی شخص اس منصوبے کو تنقید کی نگاہ سے نہیں دیکھتا ۔ ہر پاکستانی بالخصوص صوبے اس شاندار اور گیم چینجر منصوبے کی افادیت سے روشناس ہو چکے ہیں ۔ یہ منصوبہ پاکستان سمیت دنیا کی ترقی کابھ ضامن ہے۔ آنے والے وقت میں پاک چین دوستی کا یہ لازوال تعلق دنیا کو بھی قریب لائے گا۔ اور یوں پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے دنیا کی اہم ترین ریاست بن جائے گا۔ سی پیک منصوبہ سے بلوچستان سمیت ہمسایہ ممالک میں امن ترقی اور خوشحالی آئے گی،سی پیک پاکستان کے روشن مستقبل کا ضامن ہے، سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر سی پیک کی کامیابی کے لئے تمام سیاستدان ایک پیج پر ہیں، شاہراہ ریشم کے(دیرینہ دوست) مہم پاکستان اور چین کے مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان بہتر تعلقات کو استوار کے علاوہ سی پیک منصوبہ جیسے میگاپروجیکٹ کو موثر انداز میں سمجھنے کے مواقع فراہم کرتی ہے،اس سے ملک کے عوام کو سی پیک اور اس کے فوائد کے حوالے سے آگاہی حاصل ہوگی اور اس منصوبہ کے لوگوں کو معیار زندگی پر پڑنے والے مثبت اثرات بھی اشکار ہوجائیں گے۔سی پیک اتھارٹی کی جانب سے ملکی سماجی ومعاشی ترقی کیلئے 28ارب ڈالرکے 26منصوبوں پرکام شروع کرنیکی تیاری اختتامی مراحل میں داخل ہوگئی ہے تاہم اربوں ڈالر کے سی پیک منصوبے کے محور گوادر پورٹ فری زون کی راہ میں 6بڑی رکاوٹیں حائل ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ گوادر پورٹ پرفری زون پر کاروباری سرگرمیوں کیلئے سرمایہ کاروں کو 42لائسنس جاری کئے جاچکے تاہم فری زون پالیسی نہ ہونے اور بلوچستان حکومت کی جانب سے ٹیکسوں کی چھوٹ نہ ملنے پر کاروباری سرگرمیاں تاحال شروع نہیں ہوسکیں۔ وزیراعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر ریلوے اعظم سواتی اور وزیر منصوبہ بندی وترقی اسدعمر نے سی پیک منصوبوں میں تاخیر کو ملکی مفاد کے منافی قراردیا ہے وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں اجلاس کے دوران سی پیک منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے شرکاءکو چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل(ر) عاصم سلیم باجوہ کی جانب سے سی پیک کے حوالے سے پیشرفت پر بریفنگ گئی جسکے مطابق سی پیک پروگرام کے تحت گوادر میں 13ارب ڈالر کے انفراسٹرکچر،توانائی اور معاشی ترقی کے 17منصوبوں پر کام مکمل کیا جا چکا ہے جبکہ 12ارب ڈالر کے 21منصوبے انڈر پراسس ہیں۔گوادر میں سرمایہ کاروں کو کاروباری مواقع فراہم کرنے کیلئے گوادرفری زون پالیسی اور کسٹم کے حوالے سے قواعد وضوابط تیار کرنے کی ضرورت ہے۔42سرمایہ کاروں کو لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں تاہم کاروباری سرگرمیاں شروع نہیں کی جا سکیں۔ چیئرمین سی پیک اتھارٹی کی جانب سے دیگر مسائل کے بارے میں آگاہ کیا گیا جن میں بجلی کی عدم دستیابی،فری زون فیز 3کیلئے پاک بحریہ اور پاکستان کوسٹ گارڈز سے زمین کاحصول،معاہدے کے تحت گوادر کو صوبائی ٹیکسوں سے استثنیٰ،بریک واٹر کی تعمیر اور برتھنگ ایریا کے ڈریجنگ میں تاخیر،حکومت بلوچستان اور انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی سے این او سی حاصل کرنے میں دشواری،افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے متبادل راستے،ایل این جی اور دوسری اشیاءکی بندرگاہ کے ذریعے در آمد شامل ہیں۔اجلاس کے دوران وزیر خارجہ کی جانب سے سی پیک پروگرام کی پاکستان کیلئے سٹرٹیجک اہمیت کے بار ے میں زور دیا گیا۔وزیر خارجہ کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ سی پیک کو صرف معاشی اور مالی اہمیت کے بجائے پاکستان اور چین کے سٹرٹیجک تعلقات کی نظر سے بھی دیکھنا چاہیے۔وزیر خارجہ نے سی پیک منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ سست روی قومی مفاد میں نہیں۔وزیر ریلوے نے وزیر خارجہ کے موقف کی تائید کی۔ ایف بی آر سے گوادر فری زون میں انکم ٹیکس،سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کے استثنیٰ پر پیشرفت کے بارے میں استفسار کیا گیاجسکے جواب میں ممبرپالیسی ایف بی آر کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ موجودہ فریم ورک کے تحت استثنیٰ دیا جا رہا ہے۔اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر کی عدم موجودگی پر ناراضگی کا اظہار کیاگیا۔کابینہ کی سی پیک کمیٹی نے تمام وزارتوں،ڈویژنز کو کمیٹی میں سی پیک منصوبوں کی سمریاں اور سفارشات پیش کرنیکی ہدایت کی۔ یقینا یہ رکاوٹیں دور ہو جائیں گی ۔ اور اس کے بعد گوادر منصوبہ اپنا عروج حاصل کر لے گا۔ اس وقت تمام تر توجہ کا مرکز گوادر اور سی پیک ہی ہے۔ سیاسی و عسکری قیادت اس حوالے سے ایک پیج پر بھی ہے اور مستقبل کی منصوبہ بندی ملکی مفاد کو سامنے رکھ کر کی جا رہی ہے۔ بالخصوص آرمی چیف اس حوالے سے اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔ فوج ہر صورت میں سی پیک کی تکمیل چاہتی ہے اور اس حوالے سے ہر قسم کا تعاون کی سول انتظامیہ کے ساتھ کر رہی ہے۔ عسکری قیادت بارہا چین کی سیاسی و عسکری قیادت سے بھی ملاقات کر چکی ہے۔ اور ایک ایسا تعلق استوار ہو چکا ہے کہ اس منصوبے کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر دونوں ممالک کے حکام رابطے میں رہتے ہیں۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے چینی سفیر نے ملاقات کی جس میں علاقائی سلامتی کے امور سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نےپاکستان کو کووڈ-19 ویکسین کی فراہمی میں چین کی مدد پر معزز مہمان کا شکریہ ادا کیا۔ دفاع اور سکیورٹی کے شعبہ میں متعدد بین الاقوامی فورمز اور صلاحیت بڑھانے میں چین کی مدد کو سراہا۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی کامیابی سے تکمیل سے دونوں ممالک کے عوام کو زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل اور خوشحالی آئے گی۔ معززمہمان نے علاقائی امن و استحکام کیلئے پاکستان کے تعاون کو سراہا۔یقینا ان دو منصوبوں کی تکمیل سے خطے میں پاکستان کی اہمیت بڑھ جائے گی ۔ جہاں پاکستان ترقی کے زینے چڑھ رہا ہے وہیں پاکستان کے دشمن ان منصوبوں کی وجہ سے پریشان ہیں بالخصوص بھارت تو ان منصوبوں کو ناکام کرنے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔ بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کے ذریعے خوف و ہراس پیلانا چاہتا تھا۔ جس میں اسے ناکامی کا سامنا ہوا اسی طرح سی پیک کی کامیابی سے خوفزدہ بھارت پاکستان میں اپنی بزدلانہ کارووائیوں سے اس منصوبے کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ تاہم مسلح افواج اور ہماری سول سوسائٹی بھارتی سازشوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن چکی ہے۔ انشاءاللہ سی پیک منصوبے اپنی تکمیل کو پہنچیں گے اور پاکستان کی آئندہ نسلوں کے روشن مستقبل کی ضمانت بھی ہونگے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم فروعی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ملکی ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کریں ، سیاسی خلفشار سے ملکی ترقی رک رہی ہے۔ سیاستدانوں اور مقتدر حلقوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک ایسی راہ اپنائی جائے جہاں سب اسٹیک ہولڈر مطمئن ہوں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.