Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

سینٹ انتخاب کا نوحہ 

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

روشن لعل

پاکستان میں دو ایوانوں پر مشتمل پارلیمنٹ کی نیشنل اسمبلی کو ایواں زیریں اور سینٹ کو ایوان بالا کہا جاتا ہے ۔ ویسے تو اردو اور ہندی میں لفظ ”بالا“ بچوں کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے مگر سینٹ کے متبادل کے طورپر اس سے مراد نسبتاً برتر ، اعلیٰ اور بلند مقام لی جاتی ہے ۔ آ ئینی طور پر پاکستان میںسینٹ کا مرتبہ جوبھی رکھا گیا ہو مگر ان دنوں اس کے متعلق جو باتیں سامنے آرہی ہیں اس سے تو یوں لگتا ہے جیسے یہ ایوان اعلیٰ مرتبت لوگوں کی مجلس کے بجائے بازیچہ الفاظ سے بھی کم درجہ کی کوئی جگہ ہے ۔ جمہوریت پسند ایوان بالا کے لئے اس طرح کے الفاظ کے استعمال سے قطعاً خوش نہیں ہو سکتے ، مگر ایسا کیوں نہ سمجھا جائے جب اس میں بیٹھنے والوں کے متعلق یہ تفصیل سامنے آئے کہ اس کی رکنیت حاصل کرنے کا معیار اہلیت و قابلیت کی بنیاد پر قابل قبول ہونا نہیں بلکہ مال و زر کے زور پر اراکین اسمبلی کی حمایت خریدنا ہے ۔ حالیہ دنوں میں سینٹ الیکشن کے حوالے سے سامنے آنے والی ویڈیوز دیکھنے کے بعد یہ بات بلا شک و شبہ کہی جا سکتی ہے کہ ایوان بالا کارکن بننے یا اپنے ہمنواﺅں کو رکن بنانے کی راہ ہموار کے لئے یہاں پیسہ (کالا دھن) پانی کی طرح بہایا جاتا ہے ۔ عین سینٹ کے الیکشن کے موقع پر اس طرح کی ویڈیوز سامنے لانے کے متعلق بہت کچھ کہا جا چکا ہے ۔ لہٰذا اس ضمن میں مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ، ہاں مگر جو لوگ یہ سمجھتے یا کہتے ہیں کہ ان ویڈیوز کے منظر عام پر آنے کے بعد پارلیمنٹ کے ایوانوں میں موجود ہارس ٹریڈنگ کا گند صاف ہو جائے گا ، وہ یہ غلط فہمی اپنے دماغ سے نکال دیں ۔ 2016 ءکے سینٹ انتخابات کے دنوں میں پیسے کے لین دین کے دوران بنائی گئی ویڈیوز 2021 ءمیں سینٹ انتخابات سے چند دن پہلے ریلیز کرنے کا مقصد پہلے سے موجود گند صاف کرنا نہیں بلکہ مزید گند ڈالنا ہے ۔ پہل سے موجود اور بڑی حد تک اپنے ہی ڈالے ہوئے گند میں مزید اضافہ کرنے کا مقصد اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ پارلیمانی جمہوری نظام سے عام لوگوں کو جس حد تک بھی ممکن ہو متنفر کیا جائے ۔

جس پارلیمانی جمہوری نظام سے لوگوں کو متنفر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ان کی تشکیل ملک میں آمرانہ اور نام نہاد صدارتی جمہوری نظام قائم کرنے کی کئی کوششوں کی ناکامی کے بعد کی گئی تھی ۔ 1973 ءکے آئین مین وضع کردہ دو ایوانوں پر مشتمل جمہوری نظام اس سوچ کے تحت بنایا گیا تھا کہ ایوان زیریں (قومی اسمبلی) میں اگر صوبوں کی یکساں تعداد میں نمائندگی ممکن نہیں تو پھر اس کی وجہ سے چھوٹے صوبوں میں پیدا ہونے والے عدم مساوات اور محرومی کے احساس کے خاتمے کے لئے ایسا ایوان بھی بنایا جائے جس میں بلالحاظ آبادی و رقبے کے سب صوبوں کی نمائندگی برابر ہو ۔ چھوٹے صوبوں کے احساس محرومی کے خاتمے کے لئے سینٹ کے قیام کا جواز پیدا کیا گیا تھا ۔ آئین کے تحت سینٹ کی رکنیت کے امیدواروں کے انتخاب کا حق عوام کے بجائے ان کے منتخب کردہ اراکین صوبائی و قومی اسمبلی کو دیا گیا تھا ۔ سینٹ کی رکنیت کے امیدواروں کے انتخاب کا حق ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کو اس یقین کے تحت دیا گیا تھا کہ جو لوگ پہلے سے براہ راست عوامی نمائندگی کا حق حاصل کر چکے وہ ایوان بالا کے لئے ضرور ایسے امیدواروں کا انتخاب کرینگے جو فہم ، شعور اور قابلیت کے اعتبار سے اس ذمہ داری کے مطلق اہل ہونگے ۔ عوام کے منتخب نمائندوں کی طرف سے راست لوگوں کا انتخاب کرنے کی اہلیت پر اس حد تک اعتماد کیا گیا تھا کہ انہیں خفیہ ووٹنگ کا حق دے کر ان پر ان کی سیاسی جماعتوں کے کوئی فیصلہ زبردستی مسلط کرنے کے امکان کو بھی ختم کر دیا گیا تھا ۔

اگر ہم سینٹ کے انتخاب کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہمیں یہی نظر آتا ہے کہ جس جواز کے تحت سینٹ کو قائم کیا گیا تھا وہ جواز تو اببھی موجد ہے مگر اس جواز کی روشنی میں جو مقصد حاصل ہونا چاہئے تھا اس کا حصول ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا ۔ 1973 ءکے آئین کے تحت بنائے گئے سینٹ کے اراکین کی تعداد ابتداءمیں 45 تھی ۔ 1977 ءمیں سینٹ کے اراکین کی تعداد بڑھا کر 63 کر دی گئی ۔ آئین کے مطابق سینٹ کو ختم نہیں کیا جا سکتا مگر جب ضیاءالحق نے مارشل لاءنافذ کر کے آئین کو سرد خانے میں ڈال دیا تو قومی و صوبائی اسمبلیوں کی طرح سینٹ بھی ختم ہو گیا ۔ 1985 ءکے غیر جماعتی انتخابات کے بعد سینٹ کے اراکین کی تعداد 87 تک بڑھا دی گئی ۔ جب 1999 ءمیں نواز حکومت کا خاتمہ ہوا تو قومی و صوبائی اسمبلیوں کی طرح سینٹ بھی اس کے غیر آئینی اقدام کی نذر ہو گیا ۔ مشرف نے جب 2002 ءمیں انتخابات کرائے تو اس نے سینٹ کے اراکین کی تعداد 100 کر دی ۔ آصف علی زرداری کے دور صدارت میں اقلیتوں کو سینٹ میں نمائندگی کا حق ملنے کے بعد سینٹ اراکین کی کل تعداد 104 ہو گئی ۔ سینٹ کے اراکین کی تعداد اب کم ہو کر 96 رہ جائے گی ۔ سینٹ کے اراکین کی تعداد میں کمی کی وجہ یہ ہے کہ اس مرتبہ ریٹائر تو 52 سینیٹرز ہوں گے مگر ان کی جگہ پر انتخاب 48 کا ہو گا کیونکہ فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد اس علاقے کو علیحدہ سے دیا گیا ۔ سینٹ میں نمائندگی کا حق ختم ہوگیا ہے ۔ فاٹا کے 8 سینیٹرز اپنی سیٹوں سمیت گھروں کو چلے جائیں گے اور اسی طرح آئندہ سینٹ الیکشن میں جب فاٹا کے باقی ماندہ 4 سینیٹرز بھی ریٹائر ہو جائیں گے تو پھر فاٹا کی سینٹ میں علیحدہ نمائندگی ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گی ۔

سینٹ کے اب تک جتنے بھی انتخابات ہو چکے ، ان میں سے پہلے اور 2009 ءکے علاوہ کسی بھی انتخاب کو غیر متنازع اور شفاف قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ سینٹ کے اکثرانتخاب اگر غیر شفاف اور متنازع نظر آتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہر گز نہیں کہ قومی یا صوبائی اسمبلی کے اراکین خفیہ رائے شماری کے ذریعے سینٹ کے اراکین منتخب کرتے ہیں ۔ سینٹ کے انتخاب میں اگر اراکین صوبائی و قومی اسمبلی کی بولیاں لگتی ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا انتخابی ڈھانچہ مکمل طورپر غیر شفاف ہے اس انتخابی ڈھانچے کی غیر شفافیت کی بڑی وجہ الیکٹیبلز کا وہ ریوڑ ہے جسے کوئی طاقت ہانک کر کسی بھی کھونٹے سے باندھ سکتی ہے جب تک یہ ریوڑ میں موجود ہے اور ہانکا جاتا رہے گا اتنخاب چاہے سینٹ کا ہو یام عام انتخابات ہوں ، کہیں بھی شفافیت قائم نہیں ہو سکے گی ۔ آج جو نوحہ سینٹ کے انتخاب پر پڑھا جا رہا ہے وہ صرف سینٹ کا نہیں بلکہ پورے انتخابی ڈھانچے کا نوحہ ہے ۔ لہٰذا ہمیں سینٹ انتخاب میں ہاتھ اٹھانے یا نہ اٹھانے پر زور دینے کے بجائے انتخابی عمل کی مکمل اصلاح کی بات کرنی چاہئے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.