Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

برازیل میں جنگل کی آگ نے اندازاً ‘پونے دو کروڑ انواع کو ہلاک کردیا

0

سنہ 2020 کی تاریکی کے درمیان، برازیل میں سائنس دانوں نے ماحولیاتی تحفظ کے مطالعے کا سنگین نتیجہ اخذ کیا، جس میں پینٹانال کے گیلے علاقوں میں جنگل کی آگ سے ہلاک ہونے والے جانوروں کے اعداد و شمار جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہیں۔

ان کا اندازہ ہے کہ تقریباً ایک کروڑ ستر لاکھ رینگنے والے جانور، پرندے اور بندر کی اقسام ہلاک ہو گئی ہیں۔

جنوری اور نومبر کے درمیان جنگل میں لگنے والی آگ نے دنیا کے سب سے بڑے دلدلی علاقے کا 30 فیصد حصہ تباہ کر دیا۔

نقصان کا یہ اندازہ ایک جریدے ‘سائنٹیفک رپورٹس’ میں شائع ہوا ہے۔

The Pantanal is the largest wetland on the planet located in Brazil, Bolivia and Paraguay

جنگلی زندگی کے تحفظ کی عالمی تنظیم ڈبلیو ایف ایف، برازیل میں شعبہِ سائنس کی سربراہ ڈاکٹر ماریانا ناپولیتانو فریرا نے وضاحت کی کہ اس سال کے دوران آگ لگنے کے 22,000 الگ الگ واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ اس نئی تحقیق پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ مستقبل میں اس طرح کی آفات کو روکنے کی کتنی زیادہ اہمیت ہے۔

ہلاکتوں کے اعداد و شمار

مانچسٹر میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے ماہر ماحولیات، ڈاکٹر الیکس لیز کے مطابق، پینٹانال میں پہلے ہی قدرتی طور پر آگ لگنے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں، لیکن سنہ 2020 میں تو جنگل کی آگ کے واقعات میں قیامت خیز تیزی دیکھنے میں آئی۔

ڈاکٹر لیز نے بتایا کہ وہ ان علاقوں سے ‘بہت مختلف’ ہیں جن میں آگ لگنے اور پھر قدرتی طور پر حالات کے بحال ہونے کے اپنے مخصو ص دورانیے ہوتے ہیں۔

‘یہ آگ اپنے روایتی پیمانے کے لحاظ سے غیر معمولی تھی اور واضح طور پر اس برس کی سنگین خشک سالی سے جڑی ہوئی تھی جس کا اس خطے کو اس وقت سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

‘پینٹانال میں ہر سال اتنی زیادہ آگ لگنے کے واقعات کا تکرار سے ہونے زیادہ عرصے چل نہیں سکتا ہے، اس سے حیاتیاتی تنوع ٹھیک نہیں ہوسکتا۔’

Marsh deer that survived the wildfires

یہ تحقیق خود ہلاک ہونے والی انواع کے اعداد و شمار پر مبنی تھا۔

سائنسدان آگ لگنے کے 48 گھنٹوں کے اندر دلدلی علاقوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ وہ مقررہ وقفوں پر راستوں پر چلتے تھے اور ہر مردہ جانور کا معائنہ کرتے تھے جو انہیں ملتے تھے۔

ٹیم 300 جانوروں کی انواع کی شناخت کرنے میں کامیاب رہی جو انہیں وہاں مرے ہوئے ملے۔ اس کے بعد انہوں نے اُن جانوروں کو اس علاقے سے باہر نکالا جس کا انہوں نے جائزہ لیا تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ مجموعی طور پر کتنے جانور مارے گئے تھے۔

Researcher collecting a dead animal. Credit

برازیل کے دارالحکومت، برازیلیا میں ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ایمبراپا پینٹانال کے ماہر ماحولیات ڈاکٹر والفریڈو موریس ٹامس نے اس تحقیق کی قیادت کی۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اور ان کی ٹیم تباہی کے وسیع جغرافیائی پیمانے کو دیکھتے ہوئے وہ ہلاکتوں کی ‘تعداد سے حیران نہیں’ ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ جس چیز نے انھیں حیران کیا وہ یہ تھا کہ انواع کے بعض گروہ دوسروں کے مقابلے میں کس طرح زیادہ متاثر ہوئے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ‘انتہائی زیادہ تعداد میں مارے گئے سانپ ہمیں ان ہلاکتوں کے اثرات کے بارے میں حیران کر دیتے ہیں۔ سانپ عام طور پر چھوٹے ستنداریوں، مینڈکوں کا شکار کرتے ہیں۔ اس اثر کے نتیجے میں ماحولیاتی نظام میں ناقابل تصور عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔’

The world's largest rodent, the capybara, is native to the Pantanal

دلدلی علاقے برازیل، پیراگوئے اور بولیویا میں واقع ہیں اور دنیا کے سب سے زیادہ حیاتیاتی متنوع علاقوں میں سے ایک ہیں۔ اس دلدلی علقے جو کہ 140,000-160,000 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں ان میں میں چیتا، چینٹی کھنے والی انواع،اینٹ ایٹر’ اور ہجرت کرنے والے پرندوں سمیت ہزاروں انواع رہتی ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف برازیل کے ڈاکٹر فریرا نے وضاحت کی کہ فیلڈ ریسرچ ابھی بھی جاری ہے۔ انہوں نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ‘فوری طور پر ہونے والا اثر بہت چونکا دینے والا تھا۔ لیکن ہمیں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آگ لگنے کے ہفتوں، مہینوں اور سالوں بعد ماحولیاتی نظام کیسے بحال ہوتا ہے۔’

موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ

محققین نے نشاندہی کی کہ زیادہ بار بار جنگل کی آگ ‘انسانی سرگرمیاں آب و ہوا کی تبدیلی میں سب سے زیادہ نظر آنے والے عوامل میں سے ایک ہے۔’

Overview of the Pantanal wetland after the wildfire. Notice the smoke covering the entering region

ڈاکٹر ٹامس کے مطابق، یہ تحقیق بہت زیادہ نقصانات کا اشارہ اور حوصلہ شکن باتیں پیش کرتی ہے، لیکن پھر بھی اس میں بیان کی گئی تب اہی کی معلومات، خطے میں ‘آگ پر قابو پانے کے انتظام کی مناسب حکمت عملی اور پالیسیاں’ تیار کرنے کی کوششوں کو تقویت دے سکتی ہیں۔

دیگر سائنسدانوں نے اس تحقیق میں اندازے کی درستگی کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ٹیم نے گنی ہوئی چند سو لاشوں کو کھوئے ہوئے جانوروں کی کل تعداد نکالنے میں غلطی کے امکانات کا حجم بہت زیادہ ہیں۔

ڈاکٹر لیز نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ‘وہ دنیا کے سب سے بڑے دلدل کے ایک بڑے علاقے میں ملنے والی کچھ معلومات کو اتنے ب ڑے علاقے میں پھیلا کر اعداد و شمار کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس لیے (یہ حساب) قدرے ناقص قسم کا ہے۔’

‘لیکن یہ مجھے حیران نہیں کرے گا کہ اگر یہ ایک جگہ کا کا تخمینہ ہے – یہ اس سے زیادہ بھی ہوسکتا ہے تو وہاں کروڑوں کی تعداد میں مختلف انواع رہتی ہوں گی۔’

ڈاکٹر فریرا نے پینٹانال میں ہونے والی تباہی کو انسانیت کے لیے ایک ‘انتباہ’ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ‘یہ ہمیں دکھاتا ہے کہ فطرت تکلیف میں ہے، لیکن ہم بھی مصائب کا شکار ہیں – صاف پانی کی کمی اور خوراک کی کمی ہو رہی۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں اس دنیا میں رہیں تو ہمیں فطرت کے ساتھ باہمی طور رہنے کے اپنے طریقے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔’

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.