Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

سفیر کو نکالنے سے فرانس کو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن پاکستان پر اثر ہوگا: وزیراعظم عمران خان

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فرانس کے سفیر کو ملک سے نکال دینا مسئلے کا حل نہیں ہے کیونکہ مغرب اس معاملے کو اظہارِ رائے کی آزادی سے جوڑتا ہے۔

پیر کی شام قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’جب بھی نبی کی شان میں گستاخی ہوتی ہے تو ہمیں تکلیف ہوتی ہے، جہاں بھی مسلمان بستے ہیں ان سب کو تکلیف ہوتی ہے۔‘

عمران خان نے اس معاملے میں دیگر مسلمان مملک کے ردعمل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 50 مسلمان ملک میں سے کوئی بھی یہ مطالبہ نہیں کر رہا کہ فرانس کے سفیر کو واپس بھجوایا جائے۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے سے فرانس کو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن اس اقدام سے پاکستان متاثر ہوگا۔

وزیراعظم کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب حال ہی میں کالعدم قرار دی جانے والی مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکوں کے معاملے پر فرانسیسی سفیر کی ملک سے بےدخلی کے مطالبے پر احتجاج کر رہی ہے۔

اس سے پہلے پیر کی صبح اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ انھیں افسوس ہے کہ ملک میں چند عناصر پاکستانیوں کی پیغمرِ اسلام کے لیے عقیدت اور محبت کا غلط استعمال کر کے اپنے ہی ملک میں فساد پھیلا رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کا قوم سے خطاب

وزیراعظم نے ملکی صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کا اور ان کی حکومت کا یکساں مقصد ہے کہ ’نبی کی شان میں گستاخی نہ ہو‘ تاہم انھوں نے وضاحت کی کہ طریقہ کار کا فرق ہے۔

انھوں نے مصنف سلمان رشدی کی متنازع کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد ہر کچھ سال بعد کوئی نہ کوئی مغرب میں ’نبی کی شان میں گستاخی کرتا ہے، ہمارے ملک میں مظاہرے بھی ہوتے ہیں۔ لیکن کیا کبھی اس سے کوئی فرق پڑا؟‘

یاد رہے کہ سلمان رشدی کی انیس سو اٹھاسی میں لکھی گئی کتاب ‘دی سیٹنک ورسز’ کے خلاف مسلم دنیا میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا تھا۔ اس کے بعد بہت سے ممالک میں اس کی اشاعت پر پابندی لگا دی گئی تھی جبکہ اس وقت کے ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خمینی نے سلمان رشدی کے خلاف فتویٰ بھی جاری کر دیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’کیا فرانس کے سفیر کو واپس بھیجنے سے یہ گارنٹی ہے کہ نبی کی شان میں کوئی گستاخی نہیں کرے گا۔ میں مغرب کو جانتا ہوں، فرانس کے بعد یہ کسی اور ملک میں ہوگا۔ انھوں نے اسے اظہار رائے کی آزادی بنایا ہوا ہے۔‘

Leave A Reply

Your email address will not be published.