Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

اداریہ : بے یقینی اور جمہوری نظام !

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اس بار سینیٹ انتخابات نے نئی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس وقت ملکی سیاست، پارلیمان،الیکشن کمیشن اور معزز عدلیہ بھی اس معاملے کو دیکھ رہی ہے۔ یقینا ان انتخابات کے بعد حکمران جماعت کی پوزیشن ایوان بالا میں مستحکم ہو نے کے قوی امکانات ہیں۔ حکمران جماعت کی اکثریت کے ساتھ ہی قانون سازی کے حوالے سے اسے نا صرف آسانی ہو جائے گی بلکہ کچھ ایسے قوانین بھی پاس کرنے کی پوزیشن میں ہو جائے گی جو اپوزیشن شاید اس وقت نہیں کرنے دے رہی۔ اپوزیشن کے لیے یہ بات کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے کیونکہ وہ اس حکومت کو ہی جعلی یا سلیکٹڈ قرار دیتی ہے۔ تاہم ایوان بالا کے انتخابات کو لے کر حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف بھی تذبزب کا شکار ہے۔ اعتماد کا فقدان ہے۔ اپوزیشن اور حکومت دونوںدعوے بھی کر رہے ہیں اور شکوک و شبہات کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے رہنما¶ں نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ، الیکشن کمیشن اور حکومت کو آئین میں ترمیم کا حق نہیں یہ حق صرف پارلیمنٹ کو حاصل ہے۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سینٹ انتخابات کو پہلے ہی متنازع بنا دیا ہے، پی ڈی ایم اس بات پر متفق ہے کہ آئین میں ترمیم کا حق صرف پارلیمنٹ کو ہے، سپریم کورٹ، نہ الیکشن کمیشن اور نہ حکومت کو یہ حق حاصل ہے،چور دروازے سے آئین میں ترمیم کی مکمل مخالفت کرتے ہیں، ویڈیو سکینڈل میں پیسے لینے اور دینے والے پی ٹی آئی کے لوگ ہیں۔ شفافیت ہونی چاہیے لیکن پارلیمنٹ کا اختیار کوئی ادارہ نہیں لے سکتا۔ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے نوشہرہ میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف والے جہاں جہاں بھی الیکشن میں حصہ لیں گے یہ شکست کھائیں گے۔یہ تو اپوزیشن کی بات تھی یقینا اپوزیشن کو تحفظات ہیں مگر حکمران جماعت اور وزیر اعظم بھی ایوان بالا کے انتخابات کو لیکر خاصے پریشان نظر آتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہاہے سینٹ الیکشن کسی کو چرانے نہیں دینگے، سینٹ الیکشن میں اوپن بیلٹ کی مخالفت کرنے والے الیکشن کے بعد روئیں گے۔وزیراعظم نے کہاسینٹ الیکشن میں اکثریت سے کامیاب ہوں گے،بدقسمی سے ایک نااہل شخص سینٹ الیکشن لڑ رہا ہے، سینٹ کیلئے ٹکٹ میرٹ پر دئیے۔وزیراعظم نے وفاقی وزراکوہدایت کی کہ پی ٹی آئی کے ناراض اتحادیوں کومنایاجائے،اتحادیوں کے تحفظات کودورکیاجائے،تمام پارٹی رہنما سینٹ الیکشن پر توجہ دیں،ہم نے سینٹ الیکشن شفاف بنانے کیلئے ہرممکن کوشش کی،اوپن بیلٹنگ کے حوالے سے بل بھی پارلیمنٹ میں لائے،سپریم کورٹ میں ایک ریفرنس بھی فائل کیا،اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے منتظر ہیں،سپریم کورٹ کی جوبھی رائے آئیگی اسکااحترام کرینگے،سپریم کورٹ کاحکم مانیں گے۔ وزیراعظم نے کہاپی ٹی آئی سینٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کیخلاف ہے۔ ماضی سے بہت کچھ سیکھا ہے، سینٹ انتخابات کی تیاریاں مکمل ہیں، ہمیں متحد رہناہے،سینٹ الیکشن کسی کو چرانے نہیں دینگے،تحریک انصاف کے نامزد کردہ امیدوار کامیابی حاصل کریں گے۔ دوسری جانب اہم بات یہ ہوئی ہے کہ ”الیکشن کمیشن نے اٹارنی جنرل کے سپریم کورٹ میں سینٹ انتخابات کیلئے رقم کی ادائیگیوں سے متعلق بیان کانوٹس لے لیا۔ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے اٹارنی جنرل کوطلب کرنے کافیصلہ کرلیا،الیکشن کمیشن اٹارنی جنرل سے سینٹ انتخابات کیلئے ادائیگیوں سے متعلق شواہدطلب کریگا۔علاوہ ازیں سینٹ انتخابات کے بارے میں صدارتی ریفرنس پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے آبزرویشن دی کہ سینٹ الیکشن میں قومی و صوبائی اسمبلیوں میں موجود سیاسی جماعتوں کے اراکین اپنی اپنی جماعت کے امیدواروں کو ووٹ دینے کے پابند ہیں۔ چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے صدارتی ریفرنس پر سماعت کی۔چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور الیکشن کمیشن کے ارکان ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے جبکہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے سینٹ انتخابات میں کرپٹ پریکٹس کو روکنے سے متعلق تجاویز پیش کرتے ہوئے واضح الفاظ میں اٹارنی جنرل کی تجاویز کی مخالفت کی اور کہا کہ سینٹ الیکشن میں ڈالا گیا ووٹ خفیہ ہی رہے گاجسٹس اعجا زالاحسن نے کہا سینٹ الیکشن متناسب نمائندگی کے تحت ہوتے ہیں، جس جماعت کی سینٹ میں جتنی نشستیں بنتی ہیں اتنی ہی ملنی چاہئیں، کوئی جماعت تناسب سے ہٹ کر سیٹیں جیت لے تو سسٹم تباہ ہو جائے گا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاووٹ کو تا قیامت خفیہ نہیں رکھا جاسکتا،آئین کے مطابق سینٹ الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،اگرسینٹ الیکشن میں سیاسی جماعتوں کو اسمبلیوں میں موجود ان کی تعداد کے تناسب سے نمائندگی نہ ملے تو الیکشن کمیشن پر ذمہ داری عائد ہوگی۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے موقف اپنا یا کہ اگر ان اصولوں پرسینٹ الیکشن ہونا ہیں تو پھر انتخابات کی کیا ضرورت ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ الیکشن اس لیے کرائے جاتے ہیں کیونکہ آزاد امیدوار بھی کھڑے ہوتے ہیں جس پر وکیل نے کہا پھر تو معاملہ حل ہوگیا جب آزاد امیدوار سینٹ الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں تو انھیں ووٹ بھی دیا جاسکتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا ماضی میں متناسب نمائندگی کے کیا نتائج سا منے آئے، جس جماعت کے دس سینٹر بن سکتے تھے ان کے پندرہ سینٹرکیسے ہوگئے،الیکشن کمیشن نے اب تک کیا کیا؟۔چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی جماعت تناسب سے زیادہ سینٹ سیٹیں لے تو الیکشن کمیشن کیا کرے گا، الیکشن کمیشن کیسے تعین کرتا ہے کہ انتخابات متناسب نمائندگی سے ہوئے؟۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہاآزادانہ ووٹ نہ دیا تو سینٹ انتخابات الیکشن نہیں سلیکشن ہوں گے۔اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کہا اسمبلیوں میں نمائندگی کے تناسب سے سینٹ الیکشن کے نتائج آنے چاہئیں۔چیف جسٹس نے کہا اگر نتائج نمائندگی کے تناسب سے نہ آئے تو کیا پھر انتخابات کو ان ویلڈ قرار دیدیں؟۔چیف جسٹس نے کہا ووٹ سیکرٹ رکھے لیکن نتیجہ نمائندگی کے تناسب کے مطابق ہو۔جسٹس اعجاز نے کہا آئین میں لفظ گارڈ لکھا ہے،یعنی چوری کو روکنا،یہ نہیں لکھا کہ چوری ہوجائے تو چور کو پکڑو بلکہ لکھا ہے چوری ہونے نہ دو۔چیف جسٹس نے کہا پیسے دینے والوں کے پاس بھی کوئی سسٹم تو ہوتا ہے کہ بکنے والا ووٹ دے گا یا نہیں، الیکشن کمیشن کو معلوم ہے لیکن ہمیں بتا نہیں رہے، ملک کی قسمت الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں ہے، الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری کو سمجھے۔ اٹارنی جنرل نے کہا جب پیسے لیے جاتے ہیں تو ووٹ بھی یقینی ہوتا ہے،لوگ پیسوں سے بھرے بیگز لے کر عدالت کے فیصلے کا انتظار کررہے ہیں۔اٹارنی جنرل نے تجویز دی کہ بیلٹ پیپرز پر کوئی سیریل نمبر نہ لگائے لیکن بار کوڈ لگائے جس کا صرف الیکشن کمیشن کو پتہ ہو اور تنازع کی صورت میں وہ خود اس کو ٹریس کرے۔چیف جسٹس نے کہا الیکشن کمیشن کرے گا تو یہ ہوگا۔چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ اگرسینٹ الیکشن کا کوئی تنازع عدالت میں آتا ہے تو کیسے پتہ چلے گا کہ کس نے کس کو ووٹ دیا۔جسٹس اعجاز نے کہا انتخابی اخراجات کے لیے الگ اکاﺅنٹ کھولنے سے ہارس ٹریڈنگ کو نہیں روکا جاسکتا،اس کے لیے کالا دھن استعمال ہوتا ہے اور کالا دھن بینکوں کے ذریعے منتقل نہیں ہوتا، منشیات اور دو نمبر کی کمائی بیگز کے ذریعے ادھر سے ادھر ہوتی ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو نیند سے جاگنا ہوگا، تمام ریاستی ادارے الیکشن کمیشن کی بات کے پابند ہیں، کاوئنٹر فائل اور بیلٹ پیپرز پر بار کوڈ ہو تو ہارس ٹریڈنگ نہیں ہوگی۔چیف جسٹس نے کہا الیکشن کمیشن کے پاس اتنا بڑا اختیار ہے،الیکشن کمیشن حکومت لے کر آتا ہے،اس پر غور کیا جائے اور ذمہ داری کو محسوس کیا جائے۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کسی کو ووٹ کے لیے پابند نہیں کیا جاسکتا،اگر پابندی لگانی ہے تو آئین میں ترمیم کرے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا مکمل انصاف دینے کے لیے الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہے۔چیف جسٹس نے کہا وطن پارٹی کیس میں الیکشن کمیشن کے اختیارات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ عدالت کی جانب سے جو بھی فیصلہ آئے یقینا تمام سیاسی جماعتیں چاہتے یا نا چاہتے ہوئے بھی اسے قبول کریں گی۔ کیونکہ سسٹم کو بچانا ہے۔ نظام جمہوریت کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے۔ جو گھناﺅن کھیل کھیلا جا رہا ہے یقینا اس سے عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے۔ بہت ضروری ہو گیا ہے کہ پارلیمان جو بے توقیر ہو چکی ہے اسے اس کی روح کے مطابق بحال کیا جائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.