Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

 سینیٹ انتخابات میں اوپن بیلٹنگ کا معاملہ

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

 

چیف جسٹس گلزار احمد نے جمعرات کو سینیٹ کے انتخابات اوپن بیلٹنگ کے ذریعے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ ’افسوس ہے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن اپنے ہی معاہدے (چارٹرڈ آف ڈیموکریسی) سے پھر گئے ہیں‘۔جسٹس گلزار نے کہا کہ دونوں جماعتوں نے میثاقِ جمہوریت میں خفیہ طریقہ کار کو ختم کرنے کا معاہدہ کیا تھا اور میثاق جمہوریت کی دستاویز اب بھی موجود ہے لیکن اس پر دستخط کرنے والی پارٹیاں اب اس پر عمل نہیں کر رہی ہیں۔جمعرات کو سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل سلطان طالب الدین کو جب صدارتی ریفرنس پر دلائل دینے کے لیے روسٹرم پر بلایا گیا تو ا±نھوں نے اپنے دلائل کا اغاز ہی اس فقرے سے کیا کہ اس صدارتی ریفرنس میں اٹھایا گیا سوال ہی غیر مناسب ہے۔ ا±نھوں نے کہا کہ یہ مکمل سیاسی معاملہ ہے، عدالت اس سے پہلو تہی کرے۔سلطان طالب الدین کی ججز کو اس تجویز پر کہ عدالت خود کو سیاست سے بالاتر رکھے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آئین میں خود سیاسی قوانین موجود ہیں اور آئین بذات خود بھی ایک سیاسی دستاویز ہے۔ ’آئین کی تشریح کرتے وقت عدالت سیاسی کام ہی کر رہی ہوتی ہے۔‘صوبہ سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل نے سپریم کورٹ کے ججز سے سوال پوچھا کہ کیا اوپن بیلٹنگ سے ہارس ٹریڈنگ ختم ہو جائے گی؟ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’اوپن بیلٹنگ سے ہارس ٹریڈنگ ختم ہوگی یا نہیں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔‘سندھ کے اٹارنی نے ججز کو بتایا کہ سینیٹ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے لہٰذا الیکشن کمیشن کو اپنی ذمہ داری پوری کرنے دیں۔ ا±سندھ کے اٹارنی جنرل کے مطابق آئین ووٹ ڈالنے والے کی شناحت ظاہر کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا ووٹ کی چھان بین کی جاسکتی ہے کہ یہ قانون کے تحت کاسٹ ہوا یا نہیں جس پر سلطان طالب الدین کا کہنا تھا کہ بیلٹ پیپر ووٹر کے ہاتھ میں آنے کے بعد اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا۔سندھ کے اٹارنی نے کہا کہ ووٹ کا اپنا تقدس ہے، جس کو مجروح نہیں کیا جاسکتا۔بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الااحسن نے ریمارکس دیے کہ ووٹ کی سیکریسی صرف بیلٹ بکس تک ہوتی ہے۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا مخصوص نشستوں پر ہونے والا الیکشن آئین کے تحت ہوتا ہے جس کا سلطان طالب الدین نے جواب دیا کہ الیکشن آئین کے تحت ہی ہوتا ہے۔ لیکن مخصوص نشستوں پر طریقہ کار مختلف ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ خفیہ رائے شماری کا اطلاق مخصوص نشستوں پر کیوں نہیں ہوتا؟ جس پر سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 226 کا اطلاق وہاں ہوتا ہے جہاں ووٹنگ ہو۔ ا±نھوں نے کہا کہ آرٹیکل 226 کی ایسی تشریح نہیں کی جاسکتی کہ آئین میں ترمیم کا تاثر ملے۔عدالت کے ایک سوال پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ سینیٹ میں متناسب نمائندگی صوبوں کی ہوتی ہے کسی جماعت کی نہیں۔سندھ کے اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاق کے اٹارنی نے اس کی وضاحت کردی ہے کہ یہ معاملہ کابینہ کے پاس تھا لیکن انھوں نے یہ بوجھ خود نہیں اٹھایا بلکہ یہ بوجھ عدالت پر ڈال دیا ہے۔سلطان طالب الدین نے کہا کہ سپریم کورٹ کا دائرہ ایڈوائزری ہے جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وہ کیسے؟ سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ عدالت صرف اٹھائے گئے سوالات کے جواب دے سکتی ہے اس صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران اب بہت ساری باتیں ہو رہی ہیں، بہت کچھ سنا جا رہا ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو ان باتوں سے غرض نہیں ہے۔س ریفرنس کی سماعت کے آغاز پر پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل احمد اویس نے موقف اختیار کیا کہ اگرچہ آئین کی شق 226 خفیہ رائے شماری سے متعلق ہے لیکن اگر کوئی حالات ایسے ہوں جہاں پر شفافیت پر آنچ آئے تو بہتر ہے اس میں ترمیم کی جائے۔ موجودہ حالات میں شخصیات کو نہیں اداروں کو مضبوط کرنا ہو گا، اراکین اسمبلی کو سیاسی جماعتیں لے کر آتی ہیں جھنیں مزید مضبوط کرنا ہو گا اور شفافیت کے لیے ہر چیز خفیہ رکھنا لازمی نہیں ہے۔ا±نھوں نے کہا کہ کسی بھی رکن پارلیمان کو پارٹی پالیسیوں کے خلاف ووٹ دینے پر کارروائی نہیں ہوسکتی البتہ اگر ایسے شواہد سامنے آجائیں جس میں یہ ظاہر ہو کہ کسی بھی رکن پارلیمان نے پیسے لے کر ووٹ بیچا ہے تو پھر اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔اس موقع پر اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کہا کہ اگر کسی رکن پارلیمان نے اپنی جماعت کے خلاف کسی کو ووٹ دینا ہے تو وہ کھل کر دے۔پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل احمد اویس نے اپنے دلائل میں وہی موقف اپنایا جو کہ اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں اختیار کیا تھا یعنی سینیٹ کے انتخابات اوپن بیلٹنگ سے ہی کروائے جائیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.